Thursday , September 20 2018
Home / شہر کی خبریں / شہزادی درشہوار پر آج تصویری نمائش

شہزادی درشہوار پر آج تصویری نمائش

حیدرآباد ۔ 25 جنوری (سیاست نیوز) سابق ریاست حیدرآباد کے نظام سابق نواب میر عثمان علی خاں بہادر کی والا شان بہو معظم اور ترکی کی سلطنت عثمانیہ کی شہزادی درشہوار کے آج 100 ویں یوم پیدائش کے موقع پر 26 جنوری کو 11.30 بجے دن تا 6 بجے شام تاریخی چو محلہ پیالیس میں ان کی حیات و کارناموں پر اپنی نوعیت کی پہلی تصویری نمائش کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ دکن ہیرٹیج ٹرسٹ اس نمائش کا اہتمام کررہا ہے۔ شہزادی اسریٰ جاہ اور جی کرشنا راؤ ریٹائرڈ آئی اے ایس نے چومحلہ پیالیس کے استعمال کی اجازت کے ذریعہ تعاون کئے ہیں۔ انٹیک حیدرآباد کی کنوینر انورادھا ریڈی کا تعاون بھی شامل ہے۔

جس میں ان کی زندگی کی یادگار تصاویر کی نمائش کی جائے گی اور گرانقدر خدمات پر پراثر خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔ شہزادی درشہوار 26 جنوری 1914 کو استنبول میں واعق ایک شاہی محل میں پیدا ہوئی تھیں۔ اس وقت سلطنت عثمانیہ اپنے زوال کے دہانے پر پہنچ چکی تھی۔ 1924 میں جب وہ 10 برس کی تھیں ان کے والد خلیفہ عبدالماجد ثانی کی خلافت ختم ہوگئی اور مصطفی کمال اتاترک نے خلیفہ عبدالماجد کو ملک بدر کردیا اور وہ فرانس کے شہر نیس میں جلاوطنی کی زندگی بسر کررہے تھے، جہاں 12 نومبر 1931ء کو شہزادی درشہوار کی شادی نواب عثمان علی خان کے فرزند اکبر پرنس اعظم جاہ سے کردی گئی۔ ان کے بطن سے شہزادے مکرم جاہ (6 اکٹوبر 1933) اور پرنس مفخم جاہ (27 فروری 1939) کی ولادت ہوئی۔ شہزادی درشہوار نے اپنا سارا وقت شہزادوں کی پرورش اور تعلیم کیلئے وقف کردیا۔ اس کے باوجود انسانی امداد، فیاضانہ سخاوت جیسے کارخیر میں فراخدلانہ حصہ لیا۔ شہزادی درشہوار کو ووگ میگزین نے دنیا کی انتہائی خوبصورت خاتون قرار دیا تھا۔ ان کے مزاج کی نفاست اور نازک پسند بھی کمال کی تھی، جس کی جھلک ان کے ملبوسات کے نایاب ذخیرہ سے ہوتی ہے، جس کو بالی ووڈ کی اداکارائیں بھی حسرت کی نظر سے دیکھا کرتی رہی ہیں۔ ان کے ملبوسات کی تزئین دراصل ڈیزائنرس کیلئے نصابی کتاب کی اہمیت رکھتی ہیں۔ شہزادی درشہوار نے 2004ء میں حیدرآباد کا آخری دورہ کیا تھا۔ 7 فبروری 2006ء کو لندن میں ان کا انتقال ہوگیا اور وہیں تدفین عمل میںآئی۔ مزید تفصیلات کیلئے محمد صفی اللہ سے فون نمبر 9848089646 پر ربط کیا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT