Monday , January 22 2018
Home / شہر کی خبریں / شہزادی دی دی چھتیس گڑھ کی مدر ٹریسا

شہزادی دی دی چھتیس گڑھ کی مدر ٹریسا

مریضوں اور ضرورت مندوں کی مدد میں سب سے آگے ، کراٹے میں بلیک بیلٹ کی حامل، 50 سالہ خاتون جرات مندی کی مثال

مریضوں اور ضرورت مندوں کی مدد میں سب سے آگے ، کراٹے میں بلیک بیلٹ کی حامل، 50 سالہ خاتون جرات مندی کی مثال
حیدرآباد ۔ 23 ۔ اپریل : ( نمائندہ خصوصی ) : چھتیس گڑھ میں آج کل 50 سالہ مسلم خاتون شہزادی قریشی کے کافی چرچے ہیں ۔ لوگ انہیں ان کی جرات مندی ، بے باکی ، غریبوں و ضرورت مندوں کے تئیں جذبہ ہمدردی کے باعث چھتیس گڑھ کی مدر ٹریسا کہتے ہیں ۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ شہزآدی قریشی جہاں بیماروں اور ضرورت مندوں کی مدد میں ہمہ تن مصروف رہتی ہیں وہیں انہوں نے کراٹے میں بلیک بیلٹ حاصل کرتے ہوئے ہندوستانی خواتین و طالبات کو حفاظت خود اختیاری کے لیے خود کو تیار رکھنے کا پیام بھی دیا ہے ۔ بلاسپور کی رہنے والی شہزادی گذشتہ 33 برسوں سے سماجی ، طبی اور ہاسپٹل کے شعبہ میں ضرورت مندوں کی مدد کررہی ہیں ۔ ان کے جذبہ انسانیت سے ہر کوئی متاثر ہے ۔ انڈین میڈیکل اسوسی ایشن نے حال ہی میں ان کی ستائش کرتے ہوئے ایک کاز کے لیے کام کرنے والی خاتون کا ایوارڈ عطا کیا ہے ۔شہزادی مسلسل تیسری میعاد سے کانگریس کے ٹکٹ پر بلدی کونسلر منتخب ہوتی آرہی ہیں ۔ چھتیس گڑھ کی مدرٹریسا کی حیثیت سے مشہور شہزادی سروجنی نائیڈو ، فورنس نائٹینگل آف انڈیا جیسے ہاسپٹلوں میں زیر علاج مریضوں کی بھر پور مدد کرتی ہیں ۔ انہیں سماج کے تمام طبقات کی زبردست تائید وحمایت حاصل ہے ۔ بلاسپور اور اس کے اطراف و اکناف کے علاقوں میں جب کوئی ہنگامی حالات پیدا ہوتے ہیں حادثہ پیش آتا ہے ، کسی خاتون کو زچگی کا مسئلہ درپیش ہو اور غریبوں کے علاج کا معاملہ ، اس طرح کی کسی بھی ناگہانی صورتحال میں ضرورت مندوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ مدد کے لیے کس سے رجوع ہونا چاہئے ۔ شہزآدی آدھی رات کو بھی ضرورت مندوں کی مدد کے لیے دستیاب رہتی ہیں ۔ ہر روز وہ کم از کم ایک درجن مریضوں کی عیادت کرتی ہیں اور مزیدا یک درجن مریضوں کو ہاسپٹل میں شریک کراتی ہیں ۔ غریب خواتین کی زچگیوں کا معاملہ ہو یا پھر حادثات کا شکار لوگوں کی نعشوں کا پوسٹ مارٹم ہر معاملہ میں وہ مدد کے لیے آگے رہتی ہیں ۔ بلاسپور کے علاقہ نالا پارا میں ان کا گھر واقع ہے اور اس گھر کی خاص بات یہ ہے کہ رات کے اوقات میں بھی اس کے دروازہ مقفل نہیں رہتے ۔ وہ ایک سیدھی سادھی باحجاب مسلم خاتون ہیں ۔ وہ بتاتی ہیں کہ ہیلتھ ایمرجنسی کے دوران جب کہ وہ ایک نوجوان لڑکی تھیں ہاسپٹل میں شریک اپنی والدہ کی تیمار داری کررہی تھیں اس دوران بے شمار لوگ ان سے رجوع ہونے لگے اور ضرورت مندوں کی رہنمائی سے انہیں بہت دلی سکون حاصل ہوا ۔ اس طرح مریضوں کی عیادت تیمار داری اور ضرورت مندوں کی مدد کو شہزادی نے اپنی زندگی کا مقصد بنالیا ۔ ایک مقامی شخص اکھیل ورما شہزادی قریشی کے بارے میںکہتے ہیں ’’ ایک قدامت پسند کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی شہزادی دی دی نے گریجویشن کرتے ہوئے درمیان میں تعلیم ترک کردی اور ’’ کام ‘‘ سے شادی کرلی ۔ انہیں غیر منقسم مدھیہ پردیش میں ایسی پہلی خاتون ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے ۔ جس نے کراٹے میں بلیک بیلٹ حاصل کیا ۔ 1985 میں شہزادی قریشی کو کراٹے میں بلیک بیلٹ حاصل ہوا تھا ۔ اس فن کو انہوں نے خود کی ذات تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ خواتین اور طالبات کو حفاظت خود اختیاری کی تربیت فراہم کی ۔ اس شخص کا مزید کہنا تھا کہ شہزادی دی دی کوئی غیر سرکاری تنظیم نہیں چلاتی ہیں لیکن غریبوں کے علاج اور آپریشنوں کے لیے لاکھوں روپیوں کے فنڈ کا انتظام کردیتی ہیں ۔ اس کی سب سے اہم وجہ ڈاکٹروں اور عطیہ دہندگان سے ان کے قدیم خوشگوار تعلقات ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل چھتیس گڑھ کے پنڈاری میں خواتین کو بچے نہ ہونے کے آپریشن کے دوران جو سانحہ پیش آیا جس میں 13 خواتین فوت ہوئی تھیں اس موقع پر شہزادی دی دی نے صحت عامہ کی ایک ماہر کی طرح سرگرمی کا مظاہرہ کیا اور متاثرہ خواتین کو دوسرے ہاسپٹلوں میں منتقل کرنے میں غیر معمولی مدد کی ۔ لاجپت راج نگر وارڈ کی نمائندگی کرنے والی شہزادی قریشی کا کہنا ہے کہ سیاست میں شامل ہونے کا ان کا کوئی منصوبہ نہیں تھا ویسے بھی سیاسی میدان کوئی آسان نہیں ہے ۔ شہزادی کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس وارڈ میں غریبوں کی اکثریت ہے جن میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل ہیں ۔ 1999 میں انہوں نے کانگریس کا ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد امیدوار کی حیثیت سے مقابلہ کیا تھا لیکن 110 ووٹوں کی اکثریت سے شکست کھا گئی تھیں ۔ 2004 کے انتخابات میں کانگریس نے شہزادی کو ٹکٹ دیا اور پھر سماجی خدمات کی اس شہزادی کا سیاسی سفر شروع ہوگیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT