شیخ حسینہ کی انتخابی کامیابی، مفاہمت کیلئے خالدہ ضیاء کو پیشکش

ڈھاکہ ۔ 6 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ نے آج دعویٰ کیا کہ انتہائی متنازعہ انتخابات میں ان کی دوبارہ کامیابی جائز ہے اور انہوں نے اپنی دیرینہ کٹر حریف بی این پی کی سربراہ خالدہ ضیاء سے اپیل کی کہ وہ ’دہشت گردی‘ ترک کردیں اور بنیاد پرست جماعت اسلامی سے قطع تعلق کرلیں۔ اپنی کامیابی پر بے انتہاء خوش شیخ حسینہ نے

ڈھاکہ ۔ 6 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ نے آج دعویٰ کیا کہ انتہائی متنازعہ انتخابات میں ان کی دوبارہ کامیابی جائز ہے اور انہوں نے اپنی دیرینہ کٹر حریف بی این پی کی سربراہ خالدہ ضیاء سے اپیل کی کہ وہ ’دہشت گردی‘ ترک کردیں اور بنیاد پرست جماعت اسلامی سے قطع تعلق کرلیں۔ اپنی کامیابی پر بے انتہاء خوش شیخ حسینہ نے انتہائی انکساری کے ساتھ کہا کہ ’’میں بشمول عزت مآب اپوزیشن لیڈر (خالدہ ضیاء) تمام سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ دہشت گردی اور تشدد کا راستہ ترک کرتے ہوئے پرامن مذاکرات میں شامل ہوجائیں۔ جنگی مجرمین اور عسکریت پسند جماعت اسلامی قائدین کے ساتھ تعلقات منقطع کرلیں‘‘۔ شیخ حسینہ نے خالدہ ضیاء کو صلح و مفاہمت کی پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’آئندہ انتخابات کیلئے صرف مذاکرات کے ذریعہ ہی کوئی حل تلاش کیا جاسکتا ہے

جس کیلئے ہر ایک کو صبر وتحمل اور رواداری سے کام لینا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہر قسم کے سیاسی تشدد کو بند کردینا ہوگا۔ 66 سالہ شیخ حسینہ انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد پہلی مرتبہ اخباری نمائندوں سے بات چیت کررہی تھیں۔ شیخ حسینہ نے کہا کہ اصل اپوزیشن جماعت بی این پی کی جانب سے گذشتہ روز رائے دہی کا بائیکاٹ کرنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوسکتا کہ ان انتخابات کے جائز ہونے پر کوئی سوال کھڑا ہوجائے۔ شیخ حسینہ نے کہا کہ ’’ان انتخابات میں عوام اور دیگر سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا ہے۔ گذشتہ روز 147 حلقوں میں رائے دہی ہوئی تھی جن کے منجملہ عوامی لیگ کو 104 پر کامیابی حاصل ہوئی اور وہ پہلے ہی 127 نشستوں پر بلامقابلہ منتخب ہوچکی ہے جس کے ساتھ ہی خود کو 300 رکنی ایوان میں 231 نشستیں حاصل ہوگئی ہیں‘‘۔ واضح رہیکہ شیخ حسینہ نے عام انتخابات سے قبل نگرانکار حکومت تشکیل دیتے ہوئے خالدہ ضیاء کی بی این پی اور دیگر جماعتوں کو وزارتوںکی پیشکش کی تھی لیکن انہوں نے ٹھکرا دیا تھا۔

شیخ حسینہ نے یہ بات یاد دلاتے ہوئے آج کہا کہ ’’دیکھئے میں نے اپنے طور پر ممکنہ بہتر مساعی کی۔ میں نے آپ سے کہا، میں نے آپ کو وزارتوں کی پیشکش کی، میں نے آپ کو اپنے دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ اقتدار میں ساجھیداری کی پیشکش کی تھی، میں نے وہ سب کچھ کیا جو کیا جاسکتا تھا لیکن انہوں نے قبول نہیں کیا اگر اب بھی وہ یہ محسوس کرلیتے ہیں کہ انتخابات میں حصہ نہ لیتے ہوئے انہوں نے غلطی کی تھی تو غالباً وہ بات چیت کیلئے آگے آ سکتے ہیں یا پھر کوئی پیشکش کرسکتے ہیں‘‘۔

TOPPOPULARRECENT