Friday , January 19 2018
Home / شہر کی خبریں / شیخ پیٹ قطب شاہی مسجد کی اراضی سرکاری ہونے کا دعویٰ

شیخ پیٹ قطب شاہی مسجد کی اراضی سرکاری ہونے کا دعویٰ

موقوفہ اراضی پر مکانات کی تعمیر، وقف سروے کے بعد ہی حقیقت کا انکشاف ممکن

موقوفہ اراضی پر مکانات کی تعمیر، وقف سروے کے بعد ہی حقیقت کا انکشاف ممکن
حیدرآباد ۔16 مارچ (نمائندہ خصوصی) وقف بورڈ اور ہم مسلمانوں کی لاپرواہی یا بے حسی کہئے کہ ہمارے اسلاف کی جانب سے ملت اسلامیہ کی فلاح و بہبود کیلئے وقف کئے ہزاروں کروڑ روپئے مالیتی موقوفہ اراضیات ایک کے بعد دیگرے ہمارے ہاتھوں سے نکلتی جارہی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ان موقوفہ اراضیات پر قبضے ہوتے جارہے ہیں جس میں غیروں کے ساتھ ساتھ ہمارے اپنے بھی شامل ہیں۔ روزنامہ سیاست نے اس حوالے سے متعدد موقوفہ اراضیات پر قبضے کی نشاندہی کی ہے۔ اگر وقف بورڈ ان اراضیات کو بھی واپس حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرلے تو ملت اسلامیہ کو کروڑہا روپئے کا فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے۔ شیخ پیٹ میں واقع قطب شاہی مسجد کا دورہ کرنے پر پتہ چلا کہ غیرآباد قطب شاہی دور کی مسجد کی اراضی پر غیروں نے تین طرف سے تین عمارتیں تعمیر کردی ہیں اور اس طرح تین سمتوں راستہ بند کردیا گیا ہے۔ ایک طرف پرائیویٹ اسکول چلایا جارہا ہے۔ یہ اسکول تقریباً 2000 گز اراضی پر مشتمل ہے۔ اس اسکول کے حدود میں اب سرکاری اراضی کا بورڈ نصب کردیا گیا ہے جس پر گورنمنٹ آف تلنگانہ تحریر ہے۔ مذکورہ اسکول کا آغاز 16 جولائی 2000ء میں کیا گیا تھا جسے Harijan Seva Sangh کے زیرانتظام چلایا جارہا تھا جو 3 سال سے بند پڑا ہے۔ یہاں موجود واچ مین نے بتایا کہ وہ یہاں 35 سال سے مقیم ہے اس مسجد کے اطراف کھلی زمین تھی۔ کوئی اس مسجد کو نہیں آتا جاتا۔ مقامی لوگوں نے آہستہ آہستہ مسجد کے اطراف مکانات تعمیر کرلئے۔ آخر وقف بورڈ اس قدر بے حس کیوں بنی ہوئی ہے۔ اس قدر ترقی یافتہ علاقہ میں مذکورہ اراضی کی قیمت کروڑوں روپئے بتائی جاتی ہے مگر جب تک وقف بورڈ حرکت میں نہیں آتا اور اس اراضی کا سروے نہیں کرتا یہ واضح ہونا مشکل ہیکہ یہاں کتنی زمین موقوفہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہیکہ وقف بورڈ جلد سے جلد اس موقوفہ اراضی کا سروے کرائے تاکہ حقیقت حال واضح ہوسکے۔ واضح رہیکہ علاقہ سو فیصد غیرمسلم ہے اور اس علاقہ میں سب سے زیادہ اوقافی اراضیات ہیں جہاں بیدردی سے اوقافی زمینوں کو لوٹا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT