Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / شیر خواروں کی اموات ، گورکھپور میڈیکل کالج پرنسپل معطل

شیر خواروں کی اموات ، گورکھپور میڈیکل کالج پرنسپل معطل

آکسیجن سربراہ کرنے والے کو ادائیگی میں لاپرواہی ، مجسٹریل تحقیقات کا حکم : ادتیہ ناتھ
لکھنو ۔ 12 ۔ اگست : ( سیاست ڈاٹ کام ) : چیف منسٹر اترپردیش یوگی ادتیہ ناتھ نے آج کہا کہ ان کے آبائی ضلع گورکھپور کے سرکاری ہاسپٹل میں 30 شیرخواروں کی اموات آکسیجن کی قلت کے سبب نہیں ہوئی ۔ انہوں نے آج عجلت میں طلب کردہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیف سکریٹری کی زیر قیادت کمیٹی اس سارے معاملہ کی تحقیقات کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کے لیے انتہائی جذباتی معاملہ ہے کیوں کہ وہ طویل عرصہ سے دماغی سوزش بیماری کا مسئلہ اٹھا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی اس معاملہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ مجسٹریل تحقیقات پوری ہوتے ہی حکومت کارروائی کرے گی ۔ اس معاملہ میں خاطی کو معاف نہیں کیا جائے گا اور سخت کارروائی یقینی بنائی جائے گی ۔ آکسیجن کی قلت کے سبب اموات کی اطلاعات پر ادتیہ ناتھ نے کہا کہ اگر ایسی بات ہے تو پھر یہ انتہائی سنگین غلطی ہوگی ۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ 9 اگست کو اجلاس میں انہوں نے مختلف بیماریوں جیسے دماغی سوزش ، ڈینگی ، کالا آزار ، سوائن فلو اور چکن گنیا کے بارے میں عہدیداروں سے بات کی ۔ لیکن آکسیجن کی قلت کا مسئلہ ان سے رجوع نہیں کیا گیا ۔ ادتیہ ناتھ نے بتایا کہ انہوں نے پرنسپل بی آر ڈی میڈیکل کالج اور انچارج شعبہ اطفال سے شخصی بات چیت کے دوران پوچھا کہ کیا انہیں حکومت سے کسی چیز کی ضرورت لاحق ہے لیکن آکسیجن کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی ۔ چیف منسٹر نے سینئیر عہدیداروں کے ساتھ ہنگامی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گیس سربراہ کرنے والے کو ادائیگی میں تاخیر کے لیے کالج پرنسپل کو مورد الزام قرار دیا ۔ انہوں نے بتایا کہ پرنسپل 9 اگست کے اجلاس کے بعد حکام کو مطلع کئے بغیر چلے گئے اور بادی النظر میں انہیں ذمہ دار پایا گیا ۔ لہذا انہیں معطل کیا جارہا ہے ۔ آکسیجن سربراہ کرنے والے کی جانب سے سربراہی روکدینے کے بارے میں مکتوب کا حوالہ دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ فنڈس 5 اگست کو جاری کئے گئے تھے اور پرنسپل کو فوری ادائیگی کرنی چاہئے تھی ۔ انہوں نے بتایا یہ کہنا غلط ہوگا کہ سپلائر نے ہر ایک کو خط لکھا تھا ۔ اس نے پرنسپل کو مکتوب لکھا جس کے بعد پرنسپل نے ڈائرکٹر جنرل ہیلتھ کو مکتوب تحریر کیا اور فنڈس فوری جاری کئے گئے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ رقم بھیجنے کے بعد تاخیر کے لیے وزیر کو ذمہ دار قرار دیا جائے یا پرنسپل کو جس نے ادائیگی نہیں کی ؟ ان کا یہ تبصرہ اپوزیشن جماعتوں کی شدید تنقیدوں اور استعفیٰ کے مطالبہ کے پس منظر میں سامنے آیا ۔ مرکزی مملکتی وزیر صحت انوپریا پٹیل نے کہا کہ ہم سب کو ان اموات پر تشویش ہے اور وزیر اعظم نے انہیں خاص طور پر گورکھپور روانہ کیا ہے ۔ انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ 11 اگست کو آکسیجن کی سربراہی کا دباؤ دو گھنٹے کم رہا لیکن اس مدت کے دوران کوئی موت واقع نہیں ہوئی ۔ ادتیہ ناتھ حکومت نے ہر گوشہ سے تنقیدوں کے بعد حالات کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ گورکھپور میڈیکل کالج کے پرنسپل کو سنگین لاپرواہی کی بنا معطل کیا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ وزیراعظم نریندر مودی بھی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں ۔۔

 

گورکھپور میں کمسن بچوں کی اموات ، تعداد 60 تک پہونچ گئی ، صورتحال پر وزیراعظم کی نظر
مملکتی وزیر صحت اور ہیلت سکریٹری کو جائزہ لینے کی ہدایت ، خاطیوں کو بخشا نہیں جائے گا ، یو پی کے وزیر صحت کا بیان

نئی دہلی ۔ /12 اگست (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی اترپردیش میں گورکھپور کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں جہاں ایک دواخانہ میں 30 کمسن بچے فوت ہوگئے ہیں اور وہ اس ضمن میں مرکزی و ریاستی حکام سے ربط میں ہیں ۔ وزیراعظم کے دفتر (پی ایم او) سے جاری ایک بیان میں یہ اطلاع دیتے ہوئے مزید کہا گیا ہے کہ مملکتی وزیر صحت انوپریہ پاٹل اور مرکزی معتمد صحت گورکھپور کی صورتحال کا جائزہ لیں گے ۔ گورکھپور کے ضلع مجسٹریٹ راجیو راؤٹیلہ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ سرکاری بابا راگھو داس میڈیکل کالج میں /10 اگست سے 48 گھنٹوں کے دوران کم سے کم 30 کمسن بچے فوت ہوئے ہیں ۔ اترپردیش کے وزیر صحت سدھارتھ ناتھ سنگھ نے کہا کہ اس کالج کے شعبہ اطفال سے موصولہ اطلاعات کے مطابق /7 اگست سے کم سے کم 60 مختلف امراض کے سبب فوت ہوئے ہیں ۔ گورکھپور کے ضلع مجسٹریٹ نے اگرچہ ان اموات کی کوئی وجہ نہیں بتائی لیکن ایک عہدیدار نے کہا کہ گورکھپور پولیس سپرنٹنڈنٹ کے مطابق 21 بچے آکسیجن کی سربراہی میں قلت کے سبب فوت ہوئے ہیں ۔ ایک اعلیٰ عہدیدار نے جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے کہا کہ ’’گورکھپور ایس پی کے مطابق پی آر ڈی میڈیکل کالج میں سیال آکسیجن کی سربراہی میں قلت کے نتیجہ میں 21 بچے فوت ہوئے ہیں ۔ سیول انتظامیہ ان اموات کی اصل وجوہات کا پتہ چلارہا ہے ‘‘ ۔ اس دوران حکومت اترپردیش نے پی آر ڈی میڈیکل کالج کے پرنسپال کو معطل کردیا ہے ۔ حکومت اترپردیش نے کہا کہ اس المناک اور تکلیف دہ واقعہ کے خاطی پائے جانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ریاستی ڈپٹی چیف منسٹر کیشو پرساد موریہ نے لکھنؤ میں اخباری نمائندوں سے کہا کہ ’’اس المناک واقعہ میں خاطی پائے جانے والوں کو یقیناً سخت کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا ۔ وزیر صحت سدھارتھ ناتھ سنگھ اور وزیر طبی تعلیم آشوتوش ٹنڈن نے آج گورکھپور کا دورہ کرتے ہوئے میڈیکل کالج کی صورتحال کا جائزہ لیا ۔
محض سانحہ نہیں بلکہ اجتماعی قتل ہے : ستیارتھی
نئی دہلی ۔ /12 اگست (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش میں گورکھپور کے ایک اسپتال میں 30 بچوں کی موت کے واقعہ پر شدید غصہ کا اظہارکرتے ہوئے نوبل انعام یافتہ کیلاش ستیارتھی نے کہا کہ یہ سانحہ نہیں بلکہ ایک طرح سے اجتماعی قتل ہے ۔ مسٹر ستیارتھی نے سوشیل میڈیا پر اپنے پوسٹ میں لکھا ، ’’اسپتال میں آکسیجن کے بغیر 30 بچوں کی موت ، یہ سانحہ نہیں ہے ،یہ اجتماعی قتل کی طرح ہے ۔ ہمارے بچوں کے لئے آزادی کے 70 سال کیا یہی ہے ۔ ’’ واضح رہے کہ گورکھپور واقعہ بابا راگھوداس میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں کل آکسیجن دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے 30 بچوں کی موت ہوگئی تھی جن میں بہت سے نو زائدہ بچے تھے ۔
گورکھپور سانحہ ، یوگی حکومت کی نااہلی :لالویادو
پٹنہ، 12 اگست (یو این آئی) راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے صدر لالو پرساد یادو نے گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں آکسیجن کی سپلائي بند ہونے سے 30 سے زائد بچوں کی موت پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے اسے اتر پردیش کی یوگی حکومت کی نااہلی اور لاپرواہی کا نتیجہ قرار دیا۔ مسٹر لالو یادو نے ٹوئٹر پر لکھا کہ “گورکھپور اسپتال میں معصوم بچوں کی موت کی خبر سن کر کافی رنجیدہ ھوں۔ یہ یوگی حکومت کی نااہلی اور غفلت کا نتیجہ ہے ۔ قصورواروں کو سزا دی جانی چاہئے “۔ قابل ذکر ہے کہ گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں آکسیجن ختم ہونے سے اب تک 30 سے زائد بچوں سمیت 60 مریضوں کی موت ہو چکی ہے ۔ مرنے والے بچے این این یو وارڈ اور انسیفلائٹس وارڈ میں داخل تھے ۔ واقعہ سے دو دن پہلے 9 اگست کو وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ میڈیکل کالج کا حال دیکھ کر گئے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT