شیر نہیں انسان بنایئے اپنے لڑکوں کو بھی ادب سکھایئے

محمد مصطفی علی سروری
پونم کے والد ایک آٹو ڈرائیور ہیں لیکن پونم نے اپنے والد کے کمزور معاشی موقف کو کبھی بہانہ نہیں بنایا۔ پونم جانتی تھی کہ اگر اس کو ترقی کرنا ہے تو صرف سرکاری کالجس میں ہی داخلہ لیناہے کیونکہ ان کے والد خانگی کالجس کی فیس ادا نہیں کرسکتے تھے ۔ پونم نے ہمیشہ پڑھائی میں اول آنے کی کوشش کی ۔ صرف کوشش ہی نہیں ، پونم نے اپنی ساری توانائی لگادی کہ وہ پڑھ لکھ کر آگے بڑھے۔ پونم دیکھا کرتی تھی کہ سماج میں اگر کسی کی عزت کی جاتی ہے اور کسی کے پاس رتبہ ہے تو وہ ججس ہیں۔ پونم نے بس ایک ہی خواب دیکھا اور آنکھیں بند کر کے خوابوں میں کامیابی کیلئے سوتی نہیں رہی۔ پونم نے اپنی جاگتی آنکھوں کے ساتھ جج بننے اور عدالتوں میں کام کرنے کیلئے خوب محنت کی ، پہلے تو پونم نے گریجویشن پاس کیا اور پھر سال 2016 ء میں دہرہ دون کے ایک کالج سے ایم کام کیا مگر پونم جانتی تھی کہ وہ ایم کام کرنے کے بعد جج تو نہیں بن سکتی ہے۔ اس لئے اس نے ایل ایل بی کا کورس مکمل کیا ۔ کورس کی تکمیل کے بعد پونم نے اترکھنڈ کی جوڈیشل سرویس کا امتحان لکھا۔

28 فروری 2018 ء کو جس وقت اتر کھنڈ جوڈیشل سرویس کے نتائج کا اعلان ہوا تو آٹو ڈرائیور اشوک کی بیٹی نے جوڈیشل سرویس کے امتحان میں اول پوزیشن حاصل کی۔ اپنی بیٹی کی کامیابی کے بعد آٹو ڈرائیور اشوک نے اخبار انڈین اکسپریس کو بتلایا کہ میں اپنے بچوں کو بہت سارے پیسے تو نہیں دے سکتا ہوں ، اس لئے میں نے اپنے بچوں کی تعلیم پر توجہ مرکوز کی۔ میری بیٹی نے مسلسل محنت کی اور اب مجھے فخر ہے کہ اس کو کامیابی مل گئی ۔ انڈین اکسپریس اخبار کے مطابق پونم کے والد اشوک آٹو چلاکر روزانہ 300 روپئے کمالیتے ہیں، پونم کے علاوہ ان کو تین بچے اور ہیں۔ انہوں نے انہی 300 روپیوں کی روزانہ کی آمدنی میں اپنے بچوں کی تعلیم کا نظم کیا ۔ کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے اور نہ بچوں کو سکھایا کہ وہ اپنی غریبی کا رونا روکر لوگوں سے مدد مانگیں۔ آٹو ڈرائیور کی بیٹی پونم کو کامیابی آسانی سے نہیں ملی وہ مسلسل جوڈیشل سرویس کا امتحان لکھتی رہی ۔ دو مرتبہ وہ امتحان کامیاب تو ہوگئی مگر انٹرویو پاس نہیں کرسکی اور اس مرتبہ پونم نے نہ صرف تحریری امتحان پاس کیا بلکہ انٹرویو میں بھی اچھا مظاہرہ کیا اور فرسٹ پوزیشن حاصل کی ۔
اخبار ٹریبون کو انٹرویو دیتے ہوئے پونم نے بتلایا کہ پڑھائی کے لئے میرے خاندان نے ہر قدم پر میری مدد کی ۔ میرے والد اگرچہ آٹوڈرائیور ہیں، ان کی آمدنی کم ہے مگر ان کی یہ پوزیشن مجھے محنت کرنے سے اور پڑھائی کرنے سے نہیں روک سکی ۔ اب میں بڑی ایمانداری کے ساتھ نوکری کروں گی۔ میں تو سبھی ماں باپ سے یہی کہنا چاہوں گی کہ وہ لوگ اپنی بچیوں کو پڑھائی کرنے سے نہ روکیں ۔
ایک غریب کی بیٹی کی کامیابی کیسے ممکن ہوئی ، اس کے متعلق غریب آٹو ڈرائیور اشوک نے خود انڈین اکسپریس کو بتلایا کہ ’’میری لڑکی نے یقیناً سخت محنت کی لیکن اس کی کامیابی کا سہرا اس کے بھائیوں اور خاص کر اس کی ماں کو جاتا ہے ‘‘۔
قارئین اکرام یہ تو پونم کی کہانی تھی جو اخبارات کے ذریعہ ہم تک پہنچی ۔ پونم اترکھنڈ ریاست سے تعلق رکھتی ہے ، پونم کی کہانی میں دلچسپی کا سب سے اہم عنصر اس کا غریب ہونا اور محنت کرنے کیلئے پڑھائی کرنے کیلئے غریبی کو بہانہ نہ بنانا تھا ۔ اس مہینے یعنیٰ مارچ کی 5 تاریخ کو اخبار ہندوستان ٹائمز نے ایک خبر شائع کی ، یہ خبر مہاراشٹرا کے صدر مقام ممبئی سے آئی تھی ۔ اخبار کے مطابق اگری پاڑہ پولیس نے (22) برس کے ایک نوجوان نور محمد منصوری کو ایک 24 سالہ نوجوان کے قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا ۔ تفصیلات کے مطابق ابو ذر انصاری دن میں کام پر جاتا اور کام سے واپس ہونے کے بعد اپنی ماں کے ساتھ وقت گزارا کرتا تھا اور محلے کے بچوں کے ساتھ کھیل لیا بھی کرتا تھا ۔ 4 مارچ کو ابوذر کام سے واپس آیا تو اس نے پڑوس کے ہی ایک نوجوان منصوری کو اپنے ساتھ کھیلنے کیلئے بلایا۔ دونوں مل کر UNO نام کا کھیل کھیلنے لگے ۔ کارڈز کے ذریعہ کھیلے جانے والے اس گیم میں ابو ذر کو کامیابی ملتی گئی اور منصوری ہارتا جارہا تھا ، اپنی ناکامی کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے پہلے تو منصوری نے ابو ذر پر دھوکہ دینے کا الزام لگایا ۔ پھر بالآخر غصہ میں آکر اپنے جیب سے ایک چاقو نکال کر ابو ذر کے سر پر سینے اور پیٹھ میں گھونپنے لگا ۔ پڑوسیوں اور ابوذر کی ماں نے اس کو دواخانہ منتقل کیا جہاں پر اس کو مردہ قرار دیا گیا۔
قارئین اگرچہ یہ خبر مہاراشٹرا سے آئی ہے لیکن اس خبر سے ہمارے نوجوان مسلمانوں کی نفسیاتی کیفیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ مبینہ قاتل نوجوان کے متعلق اخبار نے لکھا کہ وہ بیروزگار ہے اور علاقے میں لوگوں کیلئے مسائل پیدا کرنے والے کے طور پر مشہور ہے۔ خبر ضرور اگری پاڑہ کی ہے مگر اس طرح کے بیکار مسائل پیدا کرنے والے نوجوان ہمارے اطراف و اکناف میں بھی ہیں ۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہمارے سماج میں فرمانبرداری اور بڑوں کی اطاعت کے معاملے میں لڑکیاں آگے ہیں اور لڑکوں کا شمار لاڈلوں میں کیا جاتا ہے اور لڑکے اپنے بڑوں کے لاڈ پیار میں انتہائی حد تک خراب ہورہے ہیں۔

اردو ہی نہیں انگریزی کے اخبارات نے بھی 7 مارچ کو شہر حیدرآباد سے ایک خبر شائع کی ۔ خبر کی تفصیلات کے مطابق محمد قیوم نام کے ایک 45 سالہ شخص نے اپنے ہی 19 برس کے بیٹے کے ہاتھ کو چاقو سے کاٹ دیا ۔ پہاڑی شریف پولیس کے حوالے سے اخبار سیاست نے خبر دی کہ دو دن پہلے قیوم نے اپنے بیٹے کے ہاتھ سے موبائیل فون چھیننے کی کوشش کی ۔ قیوم کو اعتراض تھا کہ ان کا لڑکا موبائیل فون پر غلط چیزیں دیکھ رہا ہے لیکن لڑکوں کو دیا جانے والا لاڈ پیار انہیں کس قدر بگاڑ رہا ہے اور بڑوں کا نافرمان بنا رہا ہے ، اس کا اندازہ لگایئے کہ قیوم کے بیٹے نے اپنے ہی باپ کے ہاتھ کو دانتوں سے کتر دیا تاکہ وہ اس کے پاس سے موبائیل فون چھین نہیں سکیں۔ ادھر تکلیف کے مارے قیوم نے اپنے بچے کا فون چھوڑا ادھر وہ گھر سے نکل کر بھاگ گیا ۔ اگلے دن جب قیوم نے دیکھا کہ اس کا لڑکا گھر میں واپس آگیا ہے اور بڑے آرام سے سورہا ہے تو قیوم نے اسی حالت میں اس کے ہاتھ کو کاٹ دیا جس ہاتھ میں وہ موبائیل فون تھا اور جس فون کو اپنے باپ سے بچانے اپنے باپ کے ہاتھ کو کتر دیا تھا۔ قارئین یہ چیدہ چیدہ واقعات ہیں لیکن ہمیں چاہئے کہ ہم ان واقعات کو الارم کے طور پر دیکھیں کہ ہم اپنے لاڈ پیار میں اپنے بچوں کو کہیں کا نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ نہ تو بچے صحیح سے پڑھ ہی پارہے ہیں اور نہ کام کاج کے قابل ؟ گورنمنٹ ہائی اسکول کے ایک ٹیچر نے بتلایا کہ لڑکیاں بعض وقت اپنے لئے نئی نوٹ بک نہیں خرید پاتی ہیں اور زیادہ پوچھنے پر بتلاتی ہیں کہ امی نے کہا کہ پہلی ہونے کے بعد ان کے لئے پیسے آئیں گے اور تب ہی وہ نئی نوٹ بک خرید پائیں گی ۔ اس کے برخلاف اس لڑکی کے بھائیوں کو مہینے کے آخر میں بھی اپنے بالوں کی کٹوائی کیلئے اور کلر کروانے کیلئے 150 روپئے کا کہیں نہ کہیں سے انتظام ہوجاتا ہے ۔ ٹیچر سے جب میں نے پوچھا کہ یہ 150 روپئے کی کونسی حجامت ہوتی ہے تو ٹیچر نے بتلایا کہ یہ لیٹسٹ فیشن کی کٹنگ ہے جس میں اوپر کے بالوں کو رنگ بھی کیا جاتا ہے ۔

یہ ماں باپ ہی نہیں نانا نانی اور دادا دادی کا لڑکوں کے ساتھ پیار ہے کہ جب ماں باپ بچوں کے نخرے نہیں اٹھاسکتے تو تب یہ لوگ درمیان میں کود پڑتے ہیں اور لڑ کیوں سے ہزار گنا زیادہ لڑکوں کو ترجیح دیتے ہوئے ان کی غلطیوں کو بھی خوبیوں میں شمار کرنے لگتے ہیں۔ گھر کے بڑوں کا لڑکوں سے اس طرح کا بیجا لاڈ پیار انہیں کہیں کا نہیں چھوڑ رہا ہے۔ دسویں کا نتیجہ ہو یا انٹرمیڈیٹ ، NEET کا ہو یا NET کا ایمسیٹ کا ہو یا لا سیٹ ہر مسابقتی امتحان میں لڑکیاں محنت کر کے آگے بڑھتی جارہی ہیں اور مسلمان لڑکے تعلیم ہی کے میدان میں نہیں بلکہ روزگار اور زندگی کے ہر شعبہ حیات میں پچھڑ گئے ہیں۔
کیا لڑکے ہماری قوم کا اثاثہ نہیںہے ؟ کیا لڑکوں کو اعلیٰ تعلیم کی ضرورت نہیں ہے ۔ ذرا سوچئے ہمیں اپنے بچوں کو شیر بنانے کی ضرورت ہے یا اچھا انسان بنانے کی ۔ اپنے بچوں کے ساتھ خاص کر لڑکوں کے ساتھ نرمی اور پیار ان کے بگاڑ کی بنیاد بن رہا ہے اور لڑکیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والی سختی اور ڈسپلن کا نتیجہ بھی سامنے ہے کہ لڑکیاں محنت کر رہی ہیں، پڑھ رہی ہیں۔ تعلیم ہی نہیں کھیل کود کے میدان میں بھی اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہی ہیں۔ خدارا سوچئے ہمیں اپنے گھروں میں شیر پالنے کی ضرورت ہے یا انسان ؟ اور سوچئے اگر ہماری لڑکیوں کا واسطہ بھی ان کے سسرال میں شیروں کے ساتھ خدانخواستہ ہوجائے تو ؟
پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے اس اچھے کام کی شروعات اپنے گھر سے کیجئے ۔ لڑکیوں پر ہی نہیں لڑکوں پر بھی نگرانی اور ڈسپلن کے لئے توجہ دیجئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی انہیں اپنے گھروں کا قیمتی اثاثہ بنادے اور ان کی زندگیوں میں بھی دین اسلام کا نور بھردے (آمین)۔

TOPPOPULARRECENT