Sunday , October 21 2018
Home / شیشہ و تیشہ / شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

عبدالقدوس رضوانؔ
لوٹ کی سرکار…!
وہ جس کو کہتے ہیں سوٹ اور بوٹ کی سرکار
دراصل وہ ہے بہت جھوٹ موٹ کی سرکار
عوام کے تو بُرے دن شروع ہو ہی گئے
کہ جب سے آئی ہے لوٹ اور کھسوٹ کی سرکار
جسے بھی دیکھو وہ ہے لوٹنے کی چکر میں
یہ لگ رہاہے کہ ہے صرف ’’لوٹ‘‘ کی سرکار
بجز صفر کے نہ آیا کچھ اور کھاتے میں
کہاں ہے سچ کی یہ ہے صرف جھوٹ کی سرکار
ہر اک قدم پہ مری حیرتیں ہی بڑھتی ہیں
عجیب تر ہے یہ رضواؔن کھوٹ کی سرکار
………………………
ہندوستانی ویٹ لفٹرس کی
کامیابی کے پیچھے ’’ماں‘‘
٭ آسٹریلیا کے مقام گولڈ کوسٹ میں ہندوستانی ویٹ لفٹرس نے تاحال 3 گولڈ میڈلس جیت لئے ہیں لیکن ان کی کامیابی کے پیچھے ’’ماں‘‘ کا ہاتھ ہے ۔ بچپن میں ماں اکثر اپنے بچوں کو کہتی ہیں کہ بیٹا ! ذرا یہ اُٹھاکر وہاں رکھ دینا اور وہ اُٹھاکر یہاں رکھ دینا ۔بچپن میں یہاں کا سامان اُٹھاکر وہاں اور وہاں کا سامان اُٹھاکر یہاں رکھنے کی اس پریکٹس نے انھیں ہندوستان کیلئے گولڈ میڈلس اُٹھالینے کے قابل بنادیا ۔
محمد احتشام الحسن مجاہد۔ سکندرآباد
………………………
ایک لیٹر میں پانچ …!
٭ ایک صاحب کی بیوی گاڑی چلانا سیکھ رہی تھی ۔ دوست نے پوچھا ، آپ کی بیوی کی گاڑی چلانے کی کیا رفتار ہے ؟
وہ صاحب بولے ایک لیٹر میں پانچ آدمیوں کو ٹکر مار رہی ہے …!!
مظہر قادری ۔ حیدرآباد
………………………
’وطن‘ کی بہنیں …!
٭ اخبار ’وطن‘ کے ایڈیٹر مولوی انشاء اللہ خان کے علامہ اقبال سے دوستانہ تعلقات تھے، اور وہ علامہ کی اس دور کی قیامگاہ واقع انار کلی بازار لاہور اکثر حاضر ہوا کرتے تھے، اس دور میں انارکلی بازار میں گانے والیاں آباد تھیں۔ انہی دنوں میونسپل کمیٹی نے گانے والیوں کو انارکلی سے نکال کر دوسری جگہ منتقل کر دیا۔ان ایام میں جب بھی مولوی صاحب، علامہ سے ملاقات کے لئے آئے، اتفاقاً ہر بار یہی پتہ چلا کہ علامہ گھر پر تشریف نہیں رکھتے، باہر گئے ہوئے ہیں۔
ایک روز مولوی انشاء اللہ پہنچے تو علامہ گھر پر موجود تھے، مولوی صاحب نے ازراہِ مذاق کہا: ’’ڈاکٹر صاحب جب سے گانے والیاں انارکلی سے دوسری جگہ منتقل ہوئی ہیں، آپ کا دل بھی اپنے گھر میں نہیں لگتا۔‘‘
علامہ نے فوراً جواب دیا: ’’مولوی صاحب، آخر ان کا کیوں نہ خیال کیا جائے، وہ بھی تو ’’وطن‘‘ کی بہنیں ہیں۔‘‘
ابن القمرین ۔ مکتھل
………………………
حقیر چیز…!
٭ ایک مرتبہ تیمورلنگ نے ایک ملک پر چڑھائی کی اور فتح پائی ۔ شکست خوردہ حکمران کو تیمور کی خدمت میں پیش کیا گیا ۔ اتفاق سے وہ حکمران ایک آنکھ سے کانا تھا ۔ جب اس نے تیمور کو دیکھ کر قہقہ لگایا تو تیمور کو اس کی بدتمیزی پر بہت غصہ آیا اور تیمور نے اس سے ہنسنے کی وجہ پوچھی … ؟
اُس نے کہا : ’’میں اس بات پر ہنس رہا ہوں کہ خدا کے نزدیک بادشاہت کس قدر حقیر چیز ہے کہ اس پر تجھ جیسے لنگڑے اور مجھ جیسے کانے شخص نے قبضہ کر رکھا ہے ‘‘ ۔
نظیر سہروردی ۔ راجیونگر
………………………
خاموشی سے آجاؤ…!
٭ شوہر اپنی بیوی کی روز روز کی لڑائی سے تنگ آکر اپنا سامان کپڑے سوٹ کیس میں رکھکر باہر نکل رہا تھا کہ بیوی نے گرجداری آواز میں کہا : کہاں جارہے ہو تم …! شادی کے بعد سے آج تک مری اجازت کے بغیر گھر سے باہر قدم رکھنے کی ہمت نہیں ہوئی ، خاموشی سے اندر آجاؤ …!!
سالم جابری ۔ آرمور
………………………
خوش نصیب …!
پہلا چور ( دوسرے چور سے ) : میرے چچا بہت خوش نصیب تھے …!!
دوسرا چور : وہ کیسے …!؟
پہلا چور : جج نے ان کو پانچ سال کی سزا دی تھی لیکن وہ پانچ مہینے بعد ہی مرگئے …!!
سید شمس الدین مغربی ۔ ریڈہلز
………………………

TOPPOPULARRECENT