Sunday , May 27 2018
Home / شیشہ و تیشہ / شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

ڈاکٹر قطب سرشار
غزل
آمد و رفت سانس کی ہے میاں
کیا یہ مفہومِ زندگی ہے میاں
ہر کسی کو کہاں میسر ہے
میرے دل میں جو روشنی ہے میاں
بجھ گئے ہیں دیئے صداقت کے
کس کی آنکھوں میں روشنی ہے میاں
تیرگی بس گئی ہے کمروں میں
سارے آنگن میں روشنی ہے میاں
عہد رفتہ میں کج کلاہی تھی
آج افکار میں کجی ہے میاں
قطب سرشار خوب کہتے ہو
شاعری ہے کہ ساحری ہے میاں
………………………
جلدی آجاؤ …!!
بیوی غصے سے : تمہاری امّاں کل رات بھی خواب میں آئے تھے ۔ مرگئے بعد بھی پیچھا نہیں چھوڑ رہے ہیں …!
شوہر : کیوں اب کیا ہوگیا …؟
بیوی : پہلے زندگی میں جیسا بولتے تھے اب مرنے کے بعد بھی وہی بول رہے ہیں ۔
شوہر : کیا بول رہے ہیں ؟
بیوی : جب بھی میں باہر جاتی تو فون کرکے بولتے تھے ’’میں اکیلی ہوں جلدی آجاؤ‘‘ ۔ خواب میں بھی وہی بات بول رہی ہیں !!
مظہر قادری۔ حیدرآباد
………………………
یہ دعا نہیں …!؟
زید : بکر کے کسی کام سے خوش ہوکر ’’خدا تمہیں حیاتِ خضر عطا فرمائے …!!‘‘
بکر : ایسا نہ کہو ! اس پرفتن دور میں یہ دعا کسی بددعا سے کم نہیں …!!
زکریا سلطان ۔ ریاض سعودی عرب
………………………
عجیب آدمی ہو…!
٭ ایک مرتبہ کسی ملک کے بادشاہ نے فوج کے ایک چھوٹے افسر کو امتیازی نشان عطا کیا تو اس نے نہایت انکساری سے بادشاہ سے کہا ’’ جہاں پناہ ! میں خود کو اِس کا حق دار نہیں سمجھتا ، یہ تمغہ میں صرف میدان جنگ میں کارنامہ دکھا کر ہی وصول کر سکتا ہوں ‘‘۔
فوجی افسر کو توقع تھی کے بادشاہ اس کا جواب سن کر خوش ہو گا اور اسے انعام و اکرام سے نوازے گا یا کم اَز کم تحسین کے کلمات تو ضرور کہے گا لیکن اس کی توقع کے برخلاف بادشاہ نے کہا : ’’ عجیب آدمی ہو ، کیا تمہاری خواہش کی خاطر میں جنگ چھیڑ دوں ؟‘‘
ابن القمرین ۔ مکتھل
………………………
صرف ایک بار …!
بیوی (جس کا رنگ سیاہ تھا ) شوہر سے کہتی ہے : کھڑکی پر پردے لگوادیں ، کہیں پڑوسن کا میاں مجھے دیکھ نہ لے …؟
خاوند : صرف ایک بار دیکھ لینے دو ، وہ خود ہی پردے کا بندوبست کروادے گا …!!
سید شمس الدین مغربی ۔ ریڈہلز
………………………
دیکھو …!
باپ نے بیٹے کو تھپڑ مارکر کہا : دیکھو…! سامنے گھر والو ں کی لڑکی کلاس میں اول آئی ہے …!
بیٹا بولا : اور کتنا دیکھوں ، اسے دیکھ دیکھ کر تو میں فیل ہوگیا ہوں …!!
شعیب علی فیصل ۔ محبوب نگر
………………………
غیر ضروری…!
٭ اخبارات کے رپورٹرس کو جب رپورٹنگ کی تربیت دی جاتی ہے تو خبر بنانے کا ابتدائی اور کلاسیکی طریقہ یہ بتایا جاتا ہے کہ خبر بناتے وقت ان پانچ سوالوں کاجواب بے حد ضروری ہوتا ہے : ’’کون ؟ ، کیا؟ ، کب ؟ ، کہاں اور کیوں ؟‘‘
ایک مقامی اخبار کے نیوز ایڈیٹر اپنے نوآموز رپوٹروں کو ہمیشہ یہ بھی ہدایت کرتے ہیں کہ شادی کی خبر ایک ایسی خبر ہے جس میں کیوں کا جواب دیا جانا ضروری نہیں ہے ۔
نظیر سہروردی ۔راجیونگر ،حیدرآباد
………………………
بہت اچھا ہوا !
٭ ڈاکٹر کے پاس ایک عورت آئی ۔ اس کے ہاتھ میں ایک پھنسی ہوگئی تھی ۔ ڈاکٹر نے اس کو توجہ سے دیکھ کر کہا : ’’بہت اچھا ہوا کہ تم آج ہی آگئیں‘‘ ۔ عورت : (ڈرتے ہوئے ) کیا مرض خطرناک ہے ؟
ڈاکٹر : بالکل نہیں ! اگر تم کل تک صبر کرتیں تو خود ہی ٹھیک ہوجاتی میری فیس کا نقصان ہوتا !
ڈاکٹر فوزیہ چودھری ۔ بنگلور
………………………

TOPPOPULARRECENT