Saturday , November 25 2017
Home / شیشہ و تیشہ / شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

دلاور فگار
دعائے نجات
کسی شاعر نے اک محفل میں نوے شعر فرمائے
ردیف و قافیہ یہ تھا دعا کردے دوا کردے
کہیں مقطع نہ پاکر اک سامع نے دعا مانگی
الہ العالمیں اس قید سے مجھکو رہا کردے
مرسلہ : ارمان سلطانہ ۔ مہدی پٹنم
………………………
طالب خوندمیری
سبب!!
مادرِ لیلیٰؔ بھی گوری، باپ بھی گُل رنگ تھا
وہ مگر کالی کلوٹی ، ہو بہو کوّا ہوئی
قیسؔ نے اس کا سبب پوچھا تو لیلیٰ نے کہا
کیا بتاؤں ، میں اندھیری رات میں پیدا ہوئی
………………………
سردی میں
لبوں میں آکے کلفی ہوگئے اشعار سردی میں
غزل کہنا بھی اب تو ہوگیا دشوار سردی میں
محلہ بھر کے بچوں نے ڈھکیلا صبح دم اس کو
مگر ہوتی نہیں اسٹارٹ اپنی کار سردی میں
دوا دے دے کے کھانسی اور نزلے کی مریضوں کو
بیچارے ڈاکٹر خود پڑگئے بیمارسردی میں
کئی اہل نظر اس کو ڈسکو کی ادا سمجھے
بیچارہ کپکپایا جب کوئی فنکار سردی میں
یہ تو چوریوں اور وارداتوں کا زمانہ ہے
کہ بیٹھے آگ تاپتے ہیں پہرہ دار سردی میں
………………………
شوہر کی تلاش
٭  ایک لڑکی کی شادی نہیں ہورہی تھی ۔ ایک دن وہ ایک میریج بیورو میں گئی اور اس کے لئے شوہر ڈھونڈنے میں مدد کرنے کی درخواست کی ۔ میریج بیورو کے مالک نے شوہر کے بارے میں اپنی پسند اور خواہش کے بارے میں بتانے کو کہا ۔ وہ بولی ’’وہ بہت ہی خوبصورت اور دلکش ہو ۔ ہمیشہ میرے ساتھ رہے ۔ جب کبھی میں کام سے تھک جاؤں تو وہ میرا دل بہلانے کے لئے گانے گائے اور ڈانس کرے ۔ وہ مجھے اچھی اچھی کہانیاں اور لطیفے سنائے ۔ جب بھی میرا موڈ ہو مجھے ہندی یا انگریزی سینما دکھائے جب بھی میں چاہوں وہ بولنا بند کردے ‘‘۔
میریج بیورو والے نے بیچ میں اُس کی بات کاٹتے ہوئے بولا ’’میڈم آپ غلط جگہ پر آئی ہیں ، لگتا ہے آپ کو شوہر کی نہیں بلکہ ٹی وی کی ضرورت ہے ۔
ڈاکٹر گوپال کوہیرکر ۔ نظام آباد
………………………
فرطِ مسرت !!
٭  ایک صاحب کے منہ پر جگہ جگہ سیاہی لگی دیکھ کر ان کے دوست نے جب اس کی وجہ معلوم کی تو دوست نے مسرت سے کانپتی آواز میں کہا ۔ یار میری بیوی میکے چلی گئی اور میں اسے گاڑی میں بٹھاکر آرہا ہوں ، بہت خوب دوست مسکرایا ۔ لیکن تمہاری بیوی کے میکے سدھارنیسے ان دھبوں کا کیا تعلق ہے ؟
دراصل جب گاڑی آہستہ آہستہ پلیٹ فارم پر رینگنے لگی تو مجھ سے نہ رہا گیا اور میں نے فرطِ مسرت سے کئی بار انجن کو چوم لیا۔ ان صاحب نے جواب دیا۔
رشید شوقؔ ۔ بانسواڑہ
………………………
مشورہ
٭  ایک عورت ڈاکٹر سے اپنے شوہر کی شکایت کررہی تھی ۔ ’’ میں اپنے شوہر کے بارے میں تم سے ایک بات پوچھنا چاہتی ہوں ۔ ہماری شادی کو بیس سال ہوگئے ہیں ، میرا شوہر ایک مثالی شوہر تھا ، بے پناہ محبت کرنے والا لیکن جب سے آپ نے اس کا علاج کیا ہے ، اس کی شخصیت بدل کر رہ گئی ہے ۔ اب اس کا زیادہ تر وقت گھر سے باہر گزرتا ہے ، مجھ سے بھی صحیح بات نہیں کرتا ، نہ ہی کوئی تحفہ لاکر دیتا ہے ۔ بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ وہ میری شکل بھی دیکھنا پسند نہیں کرتا اور یہ سب کچھ تمہارے علاج کی وجہ سے ہوا ہے ‘‘۔
’’ میں نے اس کاکوئی علاج نہیں کیا … میں نے تو اسے صرف نظر ٹسٹ کروانے اور چشمہ لگوانے کا مشورہ دیا تھا‘‘۔ ڈاکٹر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔
عاتکہ احمد ۔ چندرائن گٹہ
………………………
خاطر میں لانا ؟!!
اُستاد رفیق سے :  ’’خاطر میں لانا‘‘ اس کو اپنے جملے میں استعمال کرو ۔
رفیق :  میری امّی میرے ابّو کو خاطر میں نہیں لاتی ہے !!۔
اقبال محمد خان ۔ لیبر کالونی ، ناندیڑ
………………………

TOPPOPULARRECENT