Saturday , December 15 2018

شیشہ و تیشہ

مزاحیہ غزل بات جیسی بھی ہو بیگم کی اثر رکھتی ہے کیونکہ منوانے کا وہ خوب ہنر رکھتی ہے کس سے ملتا ہوں، کہاں آتا کہاں جاتا ہوں صبح کی شام کی پل پل کی خبر رکھتی ہے میرے کپڑوں سے بتاتی ہے کہ میں کس سے ملا سونگھنے کا بھی وہ کچھ خاص ہنر رکھتی ہے نوٹ کتنے ہیں مری جیب میں، سکے کتنے ایکسرے جیسی وہ باریک نظر رکھتی ہے

مزاحیہ غزل
بات جیسی بھی ہو بیگم کی اثر رکھتی ہے
کیونکہ منوانے کا وہ خوب ہنر رکھتی ہے
کس سے ملتا ہوں، کہاں آتا کہاں جاتا ہوں
صبح کی شام کی پل پل کی خبر رکھتی ہے
میرے کپڑوں سے بتاتی ہے کہ میں کس سے ملا
سونگھنے کا بھی وہ کچھ خاص ہنر رکھتی ہے
نوٹ کتنے ہیں مری جیب میں، سکے کتنے
ایکسرے جیسی وہ باریک نظر رکھتی ہے
میری کولیگ نے لنچ آج مرے ساتھ کیا
ایسی باتوں کی بھلا کیسے خبر رکھتی ہے
شک بھی ہوتا ہے کہ بیگم ہے کہ جاسوس ہے وہ
میری ہر بات پہ کچھ ایسے نظر رکھتی ہے
گھر سے وہ مجھ کو نکالے گی، فقط دھمکی نہیں
ہر گھڑی باندھ کے وہ رختِ سفر رکھتی ہے
وہ چلاتی ہے چھری روز کچن میں لیکن
پیٹ میں میرے گھسانے کا جگر رکھتی ہے
………………………
اتنی رات گئے …!
٭ ایک مشاعرہ کافی دیر سے چل رہا تھا کہ دوران مشاعرہ ناظم مشاعرہ نے اناؤنس کیا کہ خالد صاحب نام کے آدمی جو بھی ہے وہ فوری گھر چلے جائیں کیونکہ اُن کا بچہ دیوار پر سے گرگیا ہے…! کچھ دیر توقف کے بعد انھوں نے پھر کہاکہ وہ جاکر یہ بھی پوچھیں کہ اتنی رات گئے بچہ دیوار پر کیوں چڑھا تھا اور کیا کررہا تھا …!!
محمد عباد خان ۔ حمایت نگر
………………………
وفادار !
٭ ایک صاحب اپنے دوست کے سامنے اپنے گھوڑے کی تعریف کرتے ہوئے بولے ، میں بیمار تھا ، درد سے کراہ رہا تھا ، آس پاس کوئی نہیں تھا مرا گھوڑا کسی طرح سے پیٹھ پر بٹھاکر مجھے دواخانہ لے گیا۔
دوست نے کہا : ’’بڑا وفادار گھوڑا ہے !‘‘
وہ صاحب بولے ، ہاں یار ! لیکن کمبخت مجھے حیوانات کے دواخانے لے گیا تھا۔
فیصل فریال شفاء ۔محبوب نگر
………………………
معاہدہ
٭ دو مشہور مزاح نگار ایک دعوت میں شریک ہوئے ۔ رسم کے مطابق کھانے کے بعد تقاریر کاسلسلہ شروع ہوا ۔ پہلا مزاح نگار بیس منٹ تک تقریر کرکے حاضرین کو ہنساتا رہا ۔ جب دوسرے مزاح نگار کی باری آئی تو وہ کہنے لگا :
’’حضرات ! دعوت میں ہم دونوں میں معاہدہ ہوا تھا کہ یہ میری تقریر پڑھیں گے اور میں ان کی ۔ آپ نے ان کی زبانی میری تقریر سُنی ۔ آپ نے جس انداز میں داد دی میں اس کیلئے شکر گذار ہوں ۔ میں اپنے ساتھی سے معذرت خواہ ہوں کہ اُن کی لکھی ہوئی تقریر مجھ سے کہیں گم ہوگئی !‘‘۔
نظیر سہروردی ۔ راجیو نگر
………………………
اہمیت کی بات !
٭ بیوی نے شوہر کے غصے میں آنے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا : ’’میں گھر کے کاموں میں اتنی مصروف رہی کہ تمہاری پتلون (پینٹ) میں بٹن ٹاکنے کا وقت نہیں نکال سکی ۔ اس میں اتنا غصہ میں آنے کی کونسی بات ہے ! آخر تمہاری پتلون ، تمہاری بیوی سے زیادہ اہمیت تو نہیں رکھتی ؟ ‘‘
شوہر نے ناراضگی کے انداز میں کہا : رکھتی ہے ! رکھتی کیوں نہیں ؟ میں تمہارے بغیر باہر جاسکتا ہوں ، لیکن پتلون کے بغیر باہر نہیں جاسکتا !
سید جمیل الرحمن ۔ سنتراش واڑی ، گلبرگہ
………………………
ایک گھونٹ !
٭ ایک ہندوستانی جب جاپان گیا تو اس کے جاپانی دوست نے اسے پہلے وہاں کی شراب پینے کو دی ۔ ہندوستان نے پہلا گھونٹ ہی پیا تھا کہ دیواریں لڑکھڑانے لگیں ۔ فرش ہلنے لگا ، چھت گھومتی ہوئی محسوس ہوئی ، فرنیچر اِدھر اُدھر گرنے بکھرنے لگا ۔
ہندوستانی گھبراکر بولا : ’’اُف یہ تو بہت تیز شراب ہے ، پہلے گھونٹ نے یہ حال کردیا ‘‘۔
جاپانی دوست نے اِسے سمجھاتے ہوئے کہا : ’’فکر مت کرو دوست ، اس گڑبڑ کی وجہ شراب نہیں زلزلہ ہے ‘‘۔
محمد منیرالدین الیاس ۔ مہدی پٹنم
………………………
کیا آتا ہے ؟
مالک نوکر سے : نہ تمہیں کھانا پکانا آتا ہے ، نہ صفائی کرنا ، نہ کپڑے دھونا ، آخر تمہیں کیا آتا ہے ؟
نوکر : ’’جی مجھے پسینہ آتا ہے ‘‘۔
سید حسین جرنلسٹ ۔ دیورکنڈہ
………………………

TOPPOPULARRECENT