Friday , November 24 2017
Home / شیشہ و تیشہ / شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

وحید واجدؔ (رائچور)
صرف نفرت اور مہنگائی…!
ظُلم ، ہتّیا ، کہیں بُرے دن ہیں
کیجئے گا یقیں بُرے دن ہیں
صرف نفرت ہے اور مہنگائی!
اچھے دن تو نہیں بُرے دن ہیں
………………………
لیڈرؔ نرملی
غزل (مزاحیہ)
لیڈراں بھی نئے ، بھاشن نئے، نعرے بھی نئے
آئے دن ہوتے ہیں اس دیش میں دنگے بھی نئے
پردہ میں رہ کے بھی بے پردہ ہیں پردے والے
آگئے اِن دنوں بازار میں برقعے بھی نئے
کاش! تعلیم کا معیار بھی اونچا ہوتا
سیلابس بھی نیا، اسکول کے بستے بھی نئے
کبھی طلاقِ ثلاثہ تو سِیول کوڈ کبھی
ڈگڈگی والا نیا، اُس کے تماشے بھی نئے
بچّہ بچّہ یہاں U-Tube کا ہے دیوانہ
ان کا ماحول نیا، ان کے مشغلے بھی نئے
گھر کے اندر کا نظر آتا ہے باہر سے سب
گھر نئے ، در نئے ، دروازے کے پردے بھی نئے
اُن کے لوگوں کو کھلانا کَتے ہائی فائی کھانا
دولہے پاشاہ بھی نئے، دولہے کے نخرے بھی نئے
ہیں الیکشن میں کہاں ڈبّے پُرانے لیڈرؔ
اب مشیناں بھی نئی، ووٹوں کے گھپلے بھی نئے
………………………
دلچسپ درخواستیں…!
٭ ہمارے ملک کے کلرک کو عام طور پر انگریزی بس برائے نام ہی آتی ہے لیکن دفتری مجبوری کے تحت انہیں درخواستیں انگریزی میں ہی لکھنی پڑتی ہیں۔ مختصر چھٹیوں کے لئے دی گئی چند درخواستوں کے اردو ترجمعے پیش خدمت ہیں۔
٭ مجھے اپنے ایک رشتے دار کی تدفین کے سلسلے میں ٹھیک 12:00 بجے قبرستان پہنچنا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ میں واپس نہ آسکوں۔ لہٰذا مجھے باقی وقت کیلئے رخصت مرحمت فرمائی جائے۔
٭ اپنی مالی مجبوریوں کی بنا پر مجھے گاؤں کی زمین فروخت کرنی ہے۔ بیوی بھی ساتھ ہوگی اس لئے دس روز کی رخصت منظور کی جائے۔
٭ گاؤں میں میری ساس کا انتقال ہو گیا ہے اور چونکہ میں تمام امور میں مکمل ذمہ دار ہوں اس لئے دس روز کی رخصت منظور کی جائے۔
٭ میری بیوی چند روز سے شدید بیمار ہے۔ چونکہ میں ہی اس کا اکلوتا شوہر ہوں اور گھر اور بیوی کی دیکھ بھال میری ہی ذمہ داری ہے لہٰذا تین دن کی رخصت کا طلب گار ہوں۔
٭ آج کے اخبار میں آپ کی معروف کمپنی کا اشتہار نظر نواز ہوا۔ آپ نے لکھا ہے کہ آپ کی کمپنی کو سیکریٹری ، اکاؤنٹنٹ کی اسامی کے لئے درخواستیں مطلوب ہیں۔ درخواست گزار خواہ مرد ہو یا عورت فوراً رجوع کرے۔ گزارش ہے کہ میں ان دونوں معیار پر پورا اترتا ہوں۔ لہٰذا میری صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میرا تقرر کیا جائے… شکریہ
ابن القمرین ۔ مکتھل
………………………
گدھا…!
٭ ایک گھوڑے اور گدھے میں بحث ہورہی تھی ۔ گھوڑا کہہ رہا تھا کہ آسمان کا رنگ نیلا ہے لیکن گدھا کہہ رہا تھا کہ رنگ کالا ہے۔ آخر انھوں نے جنگل کے راجہ شیر کے سامنے جاکر اس مسئلہ کو رجوع کیاتو شیر نے کہا کہ پہلے گھوڑے کو جیل میں ڈال دیا جائے ۔ گھوڑا بولا میں صحیح بات کیا تھا اور مجھے ہی جیل میں ڈال رہے ہو آخر کیا بات ہے؟ میرا قصور کیا ہے ؟ تو شیر بولا تیرا قصور یہ ہے کہ تو نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ گدھا ہے گدھے سے بحث ہی کیوں کی …!
شعیب علی فیصل ۔ محبوب نگر
………………………
جا بیٹا !!
٭ تین کام چور مل کر کھانا کھا رہے تھے کہ کھانے میں نمک کم پڑگیا ۔ ایک بولا ’’جو پہلے بولے گا وہ نمک لے کر آئے گا !!‘‘
یہ سن کر سب خاموش بیٹھے رہے ، نہ کوئی بولا نہ کھایا ، تین دن اسی طرح گذر گئے ، تینوں بیہوش ہوگئے لوگوں نے مردہ سمجھ کر تدفین کی تیاری شروع کردی ۔ جب پہلے والے کو لے جانے لگے تو وہ بولا …!
’’اُوئے میں زندہ ہوں!!‘‘
یہ سنکر باقی کے دونوں بولے ’’چل بیٹا!! جا نمک لے کے آ‘‘۔
حذیفہ عمر العیدروس ۔ ممتاز باغ
………………………

TOPPOPULARRECENT