Monday , November 20 2017
Home / شیشہ و تیشہ / شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

ڈاکٹر خواجہ فریدالدین صادق ؔ
خوامخواہ …!
کیکو کاماں چھوڑائے رے تو
کس کی دُھن میں بیٹھائے رے تو
پاگل کُتا کاٹا کیا اک
خوامخواہ کے ہنس رائے رے تو
………………………
ابن غوری
کوئی ہرج نہیں…!
سینے میں دل نہیں ہے؟
کوئی ہرج نہیں ہے!
جیبوں میں سیل نہیں ہے؟
تم کو سمج ، نہیں ہے
………………………
شجاع عاطف (آسٹریلیا)
مزاحیہ غزل
(روح ساحرؔ سے معذرت کے ساتھ)
اُن سے جب سے دل لگی ہونے لگی
اپنے دل کی سرجری ہونے لگی
آپ سے کیا دشمنی ہونے لگی
دشمنوں سے دوستی ہونے لگی
پھر حسینوں کی طرف مائل ہے دل
اس لئے پھر شاعری ہونے لگی
سال نو کی دیر تھی آنے میں بس
جنوری سے فروری ہونے لگی
سُن کے عاطفؔ کی غزل مت کہئے گا
شاعری دردِ سری ہونے لگی
………………………
نمک پارے …!
٭ ہندوستانی ATMS اتنے محفوظ ہیں کہ اس میں سے کوئی بھی پیسہ نہیں نکال سکتا۔ کیونکہ یا تو وہ غیرکارکرد رہتے ہیں یا پھر اُس میں پیسہ ہی نہیں ہوتا…!
٭ دنیا کے ہر ملک کا ایک مخصوص ہتھیار تھا جیسے سعودی عرب کی تلوار ، آفریقہ کا تیر، آسٹریلیا کا نیزہ ، امریکہ کا پستول ، پاکستان کا بم اور ہندوستان کا لیڈیز سینڈل…!
٭ ہندوستان وہ واحد ملک ہے جس میں آپ بغیر کوئی کام کرے کے بھی ساری زندگی گذارسکتے ہیں۔
٭ ساری دنیا کی پولیس کو جرم ہونے کے بعد پتہ چلتا ہے لیکن ہندوستانی پولیس کو جُرم ہونے سے پہلے ہی پتہ رہتا ہے !
٭ ساری دنیا کے لوگ نئی نئی ایجادات (چیزیںبنانے)میں ماہر ہیں لیکن ہندوستانی باتیں بنانے میں ماہر ہیں۔
مظہر قادری۔ حیدرآباد
………………………
برما نوازی …!
٭ جولی کی کار شہر کی سب سے بارونق و ہجوم بھری سڑک سے گذر رہی تھی ۔ گاڑی کی رفتار حد سے زیادہ تجاوز کرچکی تھی یکایک ایک بوڑھی عورت کار کی زد میں آگئی اور فضاء اس کی دلخراش چیخ سے کانپ اُٹھی ، بوڑھی کی چیخ سُن کر کافی لوگ جمع ہوگئے ۔ جولی کار سے اُترتے ہوئے بولی معاف کیجئے گا میرے پیارے وکٹر کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے اور میں اُسے لے کر ڈاکٹر کے پاس جارہی تھی ۔ پریشانی کی وجہہ سے توازن برقرار نہ رکھ سکی اور بوڑھی عورت کو چوٹ آگئی ۔ لوگوں نے کار میں جھانک کر دیکھا تو پچھلی سیٹ پر ایک کتا آنکھیں مودے آرام سے لیٹا تھا …!!
رشید شوق۔بانسواڑہ
………………………
تمہیں مرنے کی کیا جلدی تھی …!
٭ قبرستان میں ایک صاحب ایک قبر پر پہنچے اور قبر سے لپٹ کر دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کردیا۔ ساتھ ہی ساتھ وہ یہ جملہ کہتے جاتے:’’تمھیں مرنے کی کیا جلدی تھی… تمھیں مرنے کی کیا جلدی تھی… تمھیں مرنے کی کیا جلدی تھی‘‘۔ انکی آہ و بکا سن کر دیگر لوگ متوجہ ہوگئے اور انکے غم میں شریک ہونے کے لئے ان کے قریب پہنچے۔وہ صاحب ابھی بھی قبر کی مٹی اٹھا کر آنکھوں سے لگاتے۔ اپنے سر میں ڈالتے۔ سر پیٹتے اور روتے چلاّتے یہی کہتے جاتے۔
’’تمھیں مرنے کی کیا جلدی تھی … تمھیں مرنے کی کیا جلدی تھی… ‘‘
لوگوں نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا:’’ دیکھیے جناب! مرنے والوں کا سب کو دکھ ہوتاہے۔ لیکن یہ آخر کون ہے جس کے غم میں آپ یوں نڈھال ہوئے جارہے ہیں؟ آپکے بیٹے، والد، بہن بھائی یا … کوئی اور…؟؟؟‘‘
ان صاحب نے ہچکیوں کے درمیاں لوگوں کو بتایا: ’’یہ میری بیوی کے پہلے شوہر کی قبر ہے ‘‘۔
ابن القمرین ۔ مکتھل
………………………

TOPPOPULARRECENT