Thursday , December 13 2018

شیعہ ملیشیا‘ داعش سے بڑا مسئلہ بن سکتی ہے: کرد رہنما

بغداد17 مارچ (سیاست ڈاٹ کام ) عراقی کردوں کے اہم رہنما مسرور برزانی نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں شیعہ ملیشیا کے عراقی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ عراقی کردستان میں انٹیلیجنس اور سکیورٹی کے امور کے سربراہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراقی حکومت کی جانب سے تکریت میں ایران نواز شیعہ جنگجوو

بغداد17 مارچ (سیاست ڈاٹ کام ) عراقی کردوں کے اہم رہنما مسرور برزانی نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں شیعہ ملیشیا کے عراقی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ عراقی کردستان میں انٹیلیجنس اور سکیورٹی کے امور کے سربراہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراقی حکومت کی جانب سے تکریت میں ایران نواز شیعہ جنگجوؤں کا استعمال، ملک میں شیعہ سنی تنازع کی شکل میں دولتِ اسلامیہ سے کہیں بڑا مسئلہ پیدا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں اسے داعش کے خلاف جنگ کے طور پر دیکھنا ہو گا۔ ہم سب کو مل کر داعش کے خلاف لڑنا ہے۔ لیکن اگر فرقوں اور نسلی گروہوں کے درمیان بدلے اور ردعمل کے جذبات ابھرتے ہیں تو یقیناً یہ مزید مشکل اور پیچیدہ مسئلہ بن جائے گا

جس پر قابو پانا زیادہ مشکل ہو گا۔ مسرور برزانی نے عراقی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ کردوں کو مالی مدد فراہم کرنے کی بجائے اس رقم سے شیعہ ملیشیا کو ادائیگی کر رہی ہے۔ ‘وہ موصل اور انبار میں پیسے دے رہے ہیں جو کہ داعش کے زیرِ قبضہ علاقے ہیں۔ وہ کردستان کو رقم کیوں نہیں دیتے جو ان کا اتحادی ہے۔ ہم ایک مشترکہ دشمن کے خلاف برسرِ پیکار ہیں تو پھر ہمیں مناسب مدد کیوں نہیں مل رہی۔’ انھوں نے سوال اٹھایا کہ ‘جب شیعہ ملیشیا کو پیسے مل رہے ہیں تو پیشمرگاہ کو کیوں نہیں؟ ‘برزانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ داعش ملک میں کی جانے والی سیاسی غلطیوں کا نتیجہ ہے اور خطے میں طویل المدتی سیاسی حل کے لیے تمام گروہوں کے مفادات کو مدِنظر رکھنا ہوگا۔

‘ پہلے القاعدہ تھی، آج داعش ہے، کل کوئی اور ہو سکتا ہے۔ کرد رہنما کے مطابق داعش اگر اسی حکمت عملی کو اپناتی ہے جو کسی زمانے میں القاعدہ کا طرہ امتیاز تھا تو پھر یہ نہ صرف بغداد اور شام کے علاوہ دنیا کے تمام علاقوں کیلئے خطرناک ثابت ہوگی لہذا اپنی بات دہراتے ہوئے انہو ںنے ایک بار پھر کہا کہ سیاسی حل کیلئے تمام گروہوں کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی درمیانی راستہ نکالا جانا چاہئے تا کہ داعش سے موثر طور پر نمٹتے ہوئے دنیا کے اُن علاقوں کے عوام کیلئے امن اور چین کا سودا کرنا انسانیت پر احسان عظیم ہوگا ۔ کردستان کو رقم دیئے جانے کے بارے میں انہوں نے ایک بار پھر مطالبہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT