Wednesday , January 17 2018
Home / سیاسیات / شیوسینا ارکان پارلیمان کی جانب سے روزہ تڑوانے پر پارلیمنٹ دہل گئی

شیوسینا ارکان پارلیمان کی جانب سے روزہ تڑوانے پر پارلیمنٹ دہل گئی

نئی دہلی۔ 23جولائی (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ آج شیوسینا ارکان پارلیمان کی جانب سے ایک روزہ دار مسلم کارکن کو نیو مہاراشٹرا سدن میں کھانے پر مجبور کرتے ہوئے اس کا روزہ تڑوانے پر دہل کر رہ گئی، لیکن حکومت نے الزامات کو ’’بے بنیاد‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے اس خبر کی توثیق ضروری ہے، ورنہ مذہبی جذبات براَنگیختہ ہوسکتے ہیں۔ اپوزیشن ک

نئی دہلی۔ 23جولائی (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ آج شیوسینا ارکان پارلیمان کی جانب سے ایک روزہ دار مسلم کارکن کو نیو مہاراشٹرا سدن میں کھانے پر مجبور کرتے ہوئے اس کا روزہ تڑوانے پر دہل کر رہ گئی، لیکن حکومت نے الزامات کو ’’بے بنیاد‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے اس خبر کی توثیق ضروری ہے، ورنہ مذہبی جذبات براَنگیختہ ہوسکتے ہیں۔ اپوزیشن کے شوروغل کے بعد لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اجلاس مختصر مدت کیلئے ملتوی کردیئے گئے کیونکہ برہم ارکان یہ مسئلہ اٹھانا چاہتے تھے جس کی شیوسینا کی جانب سے زبردست مخالفت کی گئی۔ لوک سبھا کے اجلاس سے کانگریس ، این سی پی، بائیں بازو کی پارٹیوں اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے واک آؤٹ کیا۔ لوک سبھا میں طوفان کا منظر دیکھا گیا جبکہ بی جے پی رکن رمیش بدوری ایوان کے وسط میں پہنچ گئے ۔

بعدازاں رکن نے مرکزی وزیر پارلیمانی اُمور ایم وینکیا نائیڈو کی جانب سے ان کے کردار پر اعتراض کے بعد اپنے تبصرہ سے دستبرداری اختیار کرلی۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ہم ایک حساس مسئلہ سے نمٹ رہے ہیں، فرقہ وارانہ جذبات نہ بھڑکائیں، سچائی کوئی نہیں جانتا کہ واقعہ پیش بھی آیا ہے نہیں۔ ہمیں ابھی یقین نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس ناگوار واقعہ سے کوئی تعلق رکھتی ہے، ہمیں تحقیقات کرنی ہے، ملک کو غلط اشارے نہیں دینا چاہئے۔ وقفہ ٔ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کانگریسی رکن ایم آئی شاہنواز نے واقعہ کو صدمہ انگیز قرار دیا اور کہا کہ یہ سکیولرازم کی جڑیں کاٹ رہا ہے۔ ارکان پارلیمان جو مثالی نمونہ ہونے چاہئیں، برا نمونہ بن گئے ہیں۔ اقلیتوں کا اعتماد مسخ ہوگیا ہے۔ ایوان کو اس کی مذمت کرنی چاہئے۔ انہوں نے متعلقہ کارکن ارشد کے بیان کا حوالہ دیا۔ مرکزی وزیر اننت گیتے نے شیوسینا ارکان پارلیمان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ماہ رمضان کا احترام کرنا چاہتے ہیں، انہیں ایوان میں جھوٹے بیان نہیں دینے چاہئیں۔ اس پر اپوزیشن کی جانب سے زبردست احتجاج کیا گیا۔ گیتے نے کہا کہ جو بھی خبر منظر عام پر آئی ہے ، قطعی بے بنیاد ہے۔ کانگریس نریندر مودی حکومت کی شبیہ مسخ کرنا چاہتی ہے۔ راجیہ سبھا میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی اُمور پرکاش جاؤدیکر نے کہا کہ یہ بے بنیاد خبر ہے، ہمیں اگلی سطح تک نہیں لے جانا چاہئے۔ اس کی توثیق ضروری ہے،

کیونکہ اس سے حساس بھی وابستہ ہے۔ راجیہ سبھا میں علی انور انصاری (جنتا دل۔ یو) نے وقفہ صفر کے بعد یہ مسئلہ اٹھایا لیکن نائب صدرنشین پی جے کورین نے کہا کہ وہ اس کی اجازت نوٹس دینے کے بعد دیں گے۔ علی انور انصاری کی تائید کانگریس ارکان نے کی، کیونکہ وہ ایوان کے وسط میں پہنچ گئے تھے اور برسراقتدار پارٹی کے ارکان اور اپوزیشن میں زبردست زبانی تکرار ہورہی تھی۔ کورین نے اجلاس 10 منٹ کیلئے ملتوی کردیا۔ بعدازاں علی انور انصاری نے کہا کہ یہ واقعہ دستوری ہند کی توہین ہے جو تمام مذاہب کا احترام کرتا ہے۔ انہوں نے ارکان پارلیمنٹ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ روزہ دار شخص کے منہ میں زبردستی روٹی ٹھونسنا شخصی وقار کے بعد خلاف ہے۔شوروغل جاری رہنے پر کورین نے کہا کہ یہ حقیقت ہے یا نہیں ابھی اس کی توثیق نہیں ہوسکی۔ حکومت کو اس کا یقین نہیں ہے ۔ واقعہ کی تصدیق ابھی باقی ہے۔ اس کے بعد حکومت ایوان میں واپس آئے گی اور قانون کے مطابق ضروری کارروائی کی جائے گی۔ لوک سبھا میں گیتے نے کہا کہ شیوسینا ارکان پارلیمان جو نیو مہاراشٹرا سدن میں مقیم ہیں، ریسیڈنٹ کمشنر سے ملاقات کرکے ناقص انتظام کے خلاف شکایت درج کروانے گئے تھے لیکن ان سے ملاقات نہیں ہوسکی۔

لوک سبھا کا اجلاس جیسے ہی شروع ہوا ، کئی اپوزیشن ارکان نے یہ مسئلہ اٹھایا اور اسے مذہبی عقائد کی خلاف ورزی قرار دیا۔ کانگریس، راشٹریہ جنتا دل، ترنمول کانگریس کے ارکان اپنی نشستوں سے اُٹھ کر کھڑے ہوگئے اور یہ مسئلہ اٹھانے کے لگے کہ پیپلز ڈیموکریٹک ارکان اخبار لہرارہے تھے لیکن شوروغل میں ان کی بات نہیں سنی جاسکی۔ وزیراعظم نریندر مودی بھی اس وقت ایوان میں موجود تھے، قائد کانگریس لوک سبھا ملکارجن کھرگے چاہتے تھے کہ یہ مسئلہ اخلاقیات کمیٹی سے رجوع کیا جائے۔ بدوری کے تبصرہ پر طوفان تھمنے کے بعد آر جے ڈی رکن پپو یادو بھی ایوان کے وسط میں پہنچ گئے ۔ شیوسینا ارکان بھی ایوان کے وسط کی جانب بڑھے لیکن انہیں بی جے پی ارکان نے شہ نشین ہی پر روک دیا۔ بعدازاں لوک سبھا کا اجلاس مختصر وقت کے لئے ملتوی کردیا گیا۔مرکزی وزیر پارلیمانی اُمور ایم وینکیا نائیڈو نے بدوری کے تبصرہ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بااخلاق برتاؤ کرنا چاہئے اور ایوان کا وقار برقرار رکھنا چاہئے۔ ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہئے۔
مبینہ طور پر 11 شیوسینا ارکان پارلیمنٹ ، مہاراشٹرین کھانا سربراہ کرنے پر برہم ہوگئے تھے اور انہوں نے روزہ مسلم سوپر وائزر کو مبینہ طور پر حالت ِ روزہ میں چپاتی کھانے پر مجبور کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT