Thursday , January 18 2018
Home / اداریہ / شیوسینا ارکان پارلیمنٹ کی حرکت

شیوسینا ارکان پارلیمنٹ کی حرکت

تجاہل ، تغافل ، تبسم ، تکلم یہاں تک تو پہونچے وہ مجبور ہوکر شیوسینا ارکان پارلیمنٹ کی حرکت

تجاہل ، تغافل ، تبسم ، تکلم
یہاں تک تو پہونچے وہ مجبور ہوکر
شیوسینا ارکان پارلیمنٹ کی حرکت
مہاراشٹرا کی جماعت شیوسینا کے ارکان پارلیمنٹ نے دہلی میں خود اپنی ریاست کے ایک ملازم کے ساتھ انتہائی نازیبا حرکت کرتے ہوئے اس کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہونچانے کی کوشش کی ہے ۔ ان کا یہ رویہ انتہائی قابل مذمت ہے اور خود پارلیمنٹ میں بھی اس تعلق سے ہنگامہ آرائی ہوئی ہے ۔ حالانکہ ایک رکن پارلیمنٹ نے اپنی اس حرکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور یہ عذر پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ انہیں اس ملازم کی مذہبی شناخت کا علم نہیں تھا اور انہوں نے صرف مہاراشٹرا سدن میں بد انتظامیوں کے خلاف پنا احتجاج درج کروایا تھا تاہم ایسا لگتا ہے کہ شیوسینا کی جانب سے اس واقعہ کو انتہائی منظم اور منصوبہ بند انداز میں وقوع پذیر کیا گیا ہے ۔ جس طرح سے اس واقعہ پر شیوسینا نے جس رد عمل کا اظہار کیا ہے اس سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوششیں واضح طور پر نظر آتی ہیں۔ ایسے وقت میں جبکہ دنیا بھر کے مسلمان خشوع و خضوع کے ساتھ ماہ رمضان المبارک میں روزوں کا اہتمام کر رہے ہیں اور عالمی سطح پر امن کیلئے دعائیں کی جا رہی ہیں ۔ خود ہندوستان کی خوشحالی اور ترقی کیلئے دعائیں کی جا رہی ہیں ایسے میں ایک مسلمان ملازم کے ساتھ انتہائی سفاکانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے حالت روزہ میں اس کے منہ میں روٹی ٹھونسنے کی کوشش کرنا ایک مذموم عمل ہے ۔ اس سے نہ صرف ایک مسلمان ملازم کے بلکہ سارے ملک کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہونچی ہے ۔ پارلیمنٹ میں اس مسئلہ پر ہنگامہ ہوا ہے اور تقریبا سبھی سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس کی مذمت کی گئی ہے ۔ شیوسینا تاہم ہٹ دھرمی والا رویہ ہی اختیار کئے ہوئے ہے ۔ اس کے علاوہ ہندوتوا کی حامی تنظیمیں بھی اس عمل کی مدافعت میں جٹ گئی ہیں۔ مرکز کی نریندر مودی حکومت کی جانب سے بھی اس پر خاموشی اختیار کی گئی ہے اور حکومت کا یہ رویہ بھی قابل مذمت ہے ۔ شیوسینا جیسی سیاسی جماعت ہو یا مرکز کی نریندر مودی جیسی حکومت ہو ان تمام کو ہندوستان کے دستور کے مطابق سبھی مذاہب کا احترام کرنا چاہئے ۔ سبھی طبقات کے مذہبی جذبات کا احترام سبھی گوشوں پر لازم ہے ۔ اپنے ارکان پارلیمنٹ کی حرکت پر معذرت کرنے کی بجائے شیوسینا کی جانب سے اس کی مدافعت کی جا رہی ہے ۔
شیوسینا کی جانب سے اپنے رکن پارلیمنٹ کی جانب سے اس طرح کی حرکت کی جس انداز میں مدافعت کی جا رہی ہے وہ اور بھی افسوسناک ہے ۔ پارٹی کے ترجمان سامنا میں ایک اداریہ میں تحریر کیا گیا ہے کہ ارکان پارلیمنٹ صرف احتجاج کر رہے تھے اور انہیں اس ملازم کی مذہبی شناخت کا علم نہیں تھا ۔ اس کے علاوہ یہ کہا جارہا ہے کہ کسی کو بھی اپنا مذہب اپنے دل اور اپنے گھر تک محدود رکھنا چاہئے اسے دوسروں کے خلاف استعمال نہیں کیا جانا چاہئے ۔ واضح رہے کہ یہ وہی شیوسینا ہے جو زندگی کے ہر شعبہ میں ہندوتوا کی بات کرتی ہے اور اب وہ مسلمانوں کو اپنا مذہب اپنے دل اور اپنے گھر تک محدود کرنے کی تعلیم دینا چاہتی ہے ۔ یہ شیوسینا کی دوہری اور مذموم ذہنیت ہے اور یہ واضح کرنے کی کوشش ہے کہ اس ملک میں مسلمان عملا دوسرے درجہ کے شہری بنادئے گئے ہیں۔ اس انتہائی مذموم حرکت کو صرف احتجاج سے تعبیر کرنے اور احتجاج کا حق واضح کرنے والی شیوسینا نے کئی موقعوں پر شخصی اظہار خیال کی آزادی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسے اپنے مذہبی جذبات سے جوڑنے کی کوشش کی تھی اور اب مسلمانوں کو اپنا مذہب اپنے دل اور اپنے گھر تک محدود رکھنے کی تلقین کی جا رہی ہے ۔ یہ شیوسینا کا دوہرا معیار ہے اور اس سے اس کی مسلم دشمن ذہنیت مزید واضح ہوجاتی ہے ۔ اس کے علاوہ ہندوتوا حامی تنظیموں کے عزائم کا بھی اظہار ہوتا ہے جو اس ملک میں مسلمانوں کو مذہبی فرائض انجام دینے سے بھی روکنا چاہتے ہیں۔
یہ شکوک بے بنیاد نہیں ہوسکتے کہ یہ عمل سازش کا حصہ ہے جس کا مقصد صرف سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے ۔ مہاراشٹرا میں اب جبکہ انتخابات کا بگل بجنے والا ہے اس کی تیاری کی جارہی ہے ۔ اس میں مذہبی خطوط پر سماج میں نفرت اور کشیدگ پیدا کرتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنا شیوسینا کا مقصد ہوسکتا ہے ۔ اس واقعہ کوسیاسی رنگ نہ دینے کی بھی تلقین کی جارہی ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے مقصد ہی سے ایک مسلمان روزہ دار کے ساتھ زیادتی کرتے ہوئے اس کا روزہ ختم کروانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ مرکزی حکومت ہو یا اپوزیشن جماعتیں ہوں سبھی کو اس تناظر میں اس واقعہ کو دیکھتے ہوئے شیوسینا کے ارکان پارلیمنٹ کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنی چاہئے کیونکہ کسی کو بھی مذہبی روایات اور فرائض کا استحصال کرتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ ایسی کوششوں کو روکنا حکومت کی ذمہ داری اور فرض ہے اور حکومت اس سے تغافل نہیں برت سکتی ۔

TOPPOPULARRECENT