Sunday , June 24 2018
Home / سیاسیات / شیوسینا و بی جے پی ایک ہی سکے کے دورخ، نفرت پھیلانا اصل مقصد

شیوسینا و بی جے پی ایک ہی سکے کے دورخ، نفرت پھیلانا اصل مقصد

کولہاپور۔ 9 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر کانگریس سونیا گاندھی نے بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے رائے دہندوں سے اپیل کی کہ وہ ایسے لیڈروں کی چکنی چپڑی باتوں میں نہ آئیں جو سماج میں منافرت پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور شیوسینا نے بھلے ہی سیاسی اتحاد توڑ لیا ہے لیکن حقیقت میں دونوں آج بھی ایک ہیں۔ مہاراشٹرا کے مغرب میں واقع

کولہاپور۔ 9 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر کانگریس سونیا گاندھی نے بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے رائے دہندوں سے اپیل کی کہ وہ ایسے لیڈروں کی چکنی چپڑی باتوں میں نہ آئیں جو سماج میں منافرت پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور شیوسینا نے بھلے ہی سیاسی اتحاد توڑ لیا ہے لیکن حقیقت میں دونوں آج بھی ایک ہیں۔ مہاراشٹرا کے مغرب میں واقع ہندوؤں کی جاترا کیلئے مشہور کولہاپور میں ایک انتخابی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور شیوسینا کا مقصد ہی منافرت پھیلانا ہے لہٰذا بی جے پی کی باتوں میں نہ آئیں جنہوں نے اپنے چہرے پر خدمت کرنے والے لیڈروں کے نقاب چڑھا لئے ہیں۔ یاد رہے کہ 15 اکٹوبر کو منعقد شدنی انتخابات کیلئے مہم سازی کے اختتام کو اب صرف 4 روز ہی باقی ہیں اور انتخابی مہم کے نقطہ عروج کے وقت شامل ہوتے ہوئے سونیا گاندھی نے ایک بار پھر اپنی بات دہرائی اور کہاکہ شیوسینا اور بی جے پی دونوں موقع پرست پارٹیاں ہیں اور حصول اقتدار کیلئے کچھ بھی کرسکتی ہیں۔ ان کا سیاسی اتحاد ضرور ختم ہوا ہے لیکن وہ آج بھی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ انہوں نے کانگریس کی اسکیمات کا مضحکہ اڑایا تھا اور آج کانگریس کی اسکیمات پر ہی عمل آوری کی جارہی ہے۔ ملک میں کوئی بھی نئی اسکیم متعارف نہیں کی گئی ہے۔ ہمارے مخالفین کہتے ہیں کہ وہ مہاراشٹرا کو گجرات سے زیادہ ترقی یافتہ بنائیں گے جبکہ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ریاست مہاراشٹرا ہر شعبہ میں ریاست گجرات سے آگے ہے۔ جس وقت مودی گجرات کے وزیراعلیٰ تھے اس وقت وہ گجرات کی ترقی کے ماڈل پر بہت زور دیا کرتے تھے اور ان کے اسی دعوؤں کو سونیا گاندھی نے تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی انتخابات آتے ہیں، بی جے پی بڑی بڑی باتیں کرنے لگتی ہے لیکن اس کی حقیقت کچھ اور ہے۔ لوک سبھا انتخابات کے دوران بی جے پی نے بلند بانگ دعوے اور وعدے کئے ہیں۔ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ افراط زر کو صرف 100 دنوں میں کم کردیا جائے گا۔ کہاں ہیں ان کے وعدے؟ ان وعدوں کو کیا ہوا؟

TOPPOPULARRECENT