Tuesday , December 12 2017
Home / ہندوستان / شیوسینا کا گاؤ رکھشکوں کے شوروغل پر اظہارتشویش

شیوسینا کا گاؤ رکھشکوں کے شوروغل پر اظہارتشویش

پارٹی کے ترجمان سامنا کا اداریہ ، وزیراعظم پر بھی شدید تنقید
ممبئی ۔ 19 جولائی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) شیوسینا نے آج حال ہی میں گائے کے تحفظ کے نام پر تشدد کے واقعات پر اظہارتشویش کرتے ہوئے دریافت کیا کہ کیا گاؤ رکھشک حکومت کی جانب سے مقرر کئے گئے ہیںیا اُنھوں نے خود اپنے آپ کو مقرر کرلیا ہے۔ جب دہشت گردوں نے حال ہی میں وادی کشمیر میں امرناتھ یاترا کو اپنے حملے کا نشانہ بنایا تھا تو یہ گاؤ رکھشک کہاں تھے ؟ وزیراعظم نریندر مودی کو بھی اس مسئلہ پر اپوزیشن کی برہمی کا سامنا کرنا پڑا ۔ شیوسینا کے ترجمان سامنا کے ایک اداریہ میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی شراکت دار سیاسی پارٹی نے کہاکہ پاکستان چاہتا ہے کہ قوم میں گائے کے تحفظ کے نام پر پھوٹ پڑجائے ۔ شیوسینا کا یہ بیان ملک کے مختلف حصوں میں گائے کے تحفظ کے نام پر پرتشدد واقعات کے پس منظر میں اہمیت رکھتا ہے ۔ اپوزیشن کے حملے کو ناکام بنانے کے مقصد سے اتوار کے دن وزیراعظم نے یہ معاملہ ختم کرتے ہوئے اس کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں پر عائد کرنے کی کوشش کی تھی اور کہا تھا کہ موجودہ قانون کے تحت وہ ایسے عناصر کیخلاف سخت کارروائی کرسکتے ہیں ۔ اداریہ میں کہا گیا ہے کہ یہاں تک کہ ملک کے وزیراعظم کو بھی گاؤ رکھشکوں کے ملک گیر سطح پر شوروغل کے نتیجہ میں تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ وزیراعظم کی تنقید کے باوجود یہ لوگ اپنی کارستانیوں سے باز نہیں آتے ۔ شیوسینا نے کہاکہ یہ اب بہت بڑا کاروبار بن گیا ہے ۔ ملک گیر سطح پر مسلمانوں پر حملے کئے جارہے ہیں ، انھیں بیف منتقل کرنے کے شبہ میں ہلاک کیا جارہاہے ۔ ایک ایسے وقت جب کہ سرحدوں پر کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے داخلی اختلافات تباہ کن ثابت ہوسکتے ہیںاور ملک کی یکجہتی متاثر ہوسکتی ہے ۔ شیوسینا نے کہاکہ وزیراعظم کی آبائی ریاست گجرات میں بھی گاؤ رکھشک بے رحمی کے ساتھ گائے کے تحفظ کے نام پر عوام کو ہلاک کررہے ہیں ۔ یہ گاؤ رکھشک اُس وقت کہاں تھے جبکہ دہشت گردوں نے امرناتھ یاترا پر حملہ کرتے ہوئے یاتریوں کو ہلاک کردیا تھا ۔ انھیں ہتھیار اُٹھالینے سے کوئی روک نہیں رہا تھا۔ وہ انتقام لینے کے لئے کشمیر جاسکتے تھے ۔ بھگوا پارٹی نے کہاکہ گاؤ رکھشکوں کو چاہئے کہ وہ اپنی دلیری اور تمام سطحوں پر نظم و ضبط ہونے کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔ اُن کی چیخ و پکار سے ظاہر ہوتا ہے کہ نہ تو اُن میں دلیری ہے اور نہ نظم و ضبط وہ صرف مذہب کے نام پر چیخ و پکار کرسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT