Thursday , June 21 2018
Home / اداریہ / شیوسینا کی تضحیک

شیوسینا کی تضحیک

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لئے آ آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لئے آ شیوسینا کی تضحیک

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لئے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لئے آ
شیوسینا کی تضحیک
مہاراشٹرا میں بی جے پی کی پہلی حکومت نے حلف لے لیا ہے۔ 25 سال پرانی دوستی کو ختم کرنے کے بعد شیوسینا کو مسلسل نظرانداز کرنے اور بی جے پی کو اس ریاست میں حکمرانی کی انجام دہی ایک مشکل مرحلہ بن سکتی تھی۔صدر بی جے پی امیت شاہ نے مصالحت کی راہ نکال کر شیوسینا صدر کو راضی کروایا اور بائیکاٹ کا فیصلہ کرنے والے ادھو ٹھاکرے نے حلف برداری تقریب میں شرکت کرکے بڑی طاقت کے آگے اپنی کمزوری کو تسلیم کرلیا ۔انہوںنے حکومت میں شیوسینا ارکان کو شامل کرنے پر پارٹی کی توہین متصور کیا تھا۔ نریندر مودی نے مخلوط حکومت کی سیاست کو ختم کرتے ہوئے واحد پارٹی حکمرانی کو ترجیح دی ہے۔ انتخابات سے قبل بھی شیوسینا سے اتحاد نہ کرنے کا فیصلہ مخلوط حکومت سے گریز کرنا تھا۔ شیوسینا کو اس بات کی ہرگز توقع نہیں تھی کہ بی جے پی اس کا ساتھ چھوڑتے ہوئے اس کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کرے گی۔ مہاراشٹرا میں عوام کے خط اعتماد کو حاصل کرنے کے بعد بی جے پی اپنی مقبولیت کا فائدہ بھی ازخود اٹھانا چاہتی ہے لیکن جو پارٹی مرکز میں حکمرانی کے فرائض انجام دینے کیلئے آر ایس ایس کے اشاروں کی محتاج ہے وہ مہاراشٹرا میں بھی آر ایس ایس کی ہدایات کے تابع ہوگی۔ عوام کے بھاری خط اعتماد کو حاصل کرنے کا مطلب یہ نہیں ہیکہ وہ کسی ایک ثقافتی یا نظریاتی تنظیم کے اشاروں پر کام کرے۔ حقیقت یہی ہیکہ بی جے پی کو آر ایس ایس سے ہدایات مل رہی ہیں۔ نریندر مودی زیرقیادت حکومت اور آر ایس ایس کا یہ ریموٹ کنٹرول والا نظم و نسق ہندوستانی عوام کی بھلائی کے کام نہیں آئے گا۔ فی الحال یہ دونوں کھل کر سامنے نہیں آئے ہیں مگر مودی حکومت نے اب تک آر ایس ایس کی پالیسیوں کے مطابق کام کیا ہے۔ 2014ء کے عام انتخابات میں بی جے پی امیدواروں کو کامیاب کرنے میں آر ایس ایس کے کیڈرس نے کام کیا ہے تو حکومت میں بھی اس کی موجودگی غیرمتوقع نہیں ہے۔ شروع سے ہی ایک پرچارک کی حیثیت سے کام انجام دینے والے نریندر مودی پر تنقیدیں ہورہی ہیں کہ وہ بھی سابق یو پی اے حکومت کے سربراہ منموہن سنگھ کی طرح ریموٹ کنٹرول کے تحت کام کررہے ہیں۔ مہاراشٹرا میں حکومت کا کنٹرول راست آر ایس ایس کے ہاتھوں میں ہوگا۔ ایسے میں شیوسینا بھی اس سے الگ نہیں ہوسکتی۔ اودھو ٹھاکرے کل تک جس توہین یا بے عزتی کی بات کررہے تھے وہ اب پارٹی یعنی بی جے پی کی سرپرستی میں اپنے ارکان اسمبلی کو کام پر مامور کریں گے۔ مہاراشٹرا کے عوام نے کانگریس اور این سی پی کو مسترد کرکے بی جے پی کو ووٹ دیا ہے تو یہ مخالف حکمرانی لہرکا حصہ ہے۔ سابق حکومتوں سے جو غلطیاں یا خرابیاں سرزد ہوئی ہیں ان کو ختم کرکے ایک اچھی حکمرانی کی امید میں عوام نے ووٹ دیا ہے تو شیوسینا اور بی جے پی کو اپنے حصہ کی ذمہ داری پوری دیانتداری سے ادا کرنی چاہئے۔ شیوسینا سربراہ بال ٹھاکرے نے بی جے پی کو مرکز تک پہنچانے میں اہم رول ادا کیا تھا لیکن ان کے فرزند نے انتخابات سے قبل اور بعد میں بی جے پی کی بے رخی کی شکایت کرتے رہے اس سیاسی سبق کے کیا نتائج نکالے جائیں گے یہ آئندہ چند دن میں معلوم ہوگا۔ مہاراشٹرا کی نئی حکومت کو ریاست میں خاص کر ممبئی میں امن و امان کی صورتحال کی برقراری کے ساتھ دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی بھی ذمہ داری پوری کرنی ہے کیونکہ مہاراشٹرا میں جنوبی و شمالی ہند کے کئی باشندے مقیم ہیں۔ ممبئی میں ہندوستان کے کونے کونے سے آنے والے باشندے روٹی روزی سے وابستہ ہیں تو ان کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کو روکنا نئی حکومت کا کام ہے۔ ممبئی کو ترقی دینے وزیراعظم نریندر مودی کا مخصوص منصوبہ ہے تو بی ایم سی کے تازہ انتخابات کے ذریعہ ہی اس منصوبہ کو روبہ عمل لایا جاسکتا ہے۔ بی جے پی کو مہاراشٹرا انتخابات میں 123 نشستوں پر کامیاب ملی مگر ان میں سے 23 منتخب ارکان دراصل این سی پی، کانگریس اور شیوسینا سے سیاسی مستعار لئے ہوئے ہیں کیونکہ بی جے پی نے مہاراشٹرا میں اپنا مستقل رائے دہندہ پیدا نہیں کرسکی۔ مودی کی لہر کی وجہ سے اسے یہ کامیابی ملی ہے تو یہ عارضی بھی ہوسکتی ہے۔ بی جے پی کو اپنے ماضی کے دنوں کو فراموش نہیں کرنا چاہئیے جب اس کی مہاراشٹرا میں کسی نے تائید کرنے کی ہمت نہیں کی تھی۔ شیوسینا نے بی جے پی کو سہارا دیا تھا۔ مغربی مہاراشٹرا مراٹھواڑہ اور ممبئی میں اس کی کامیابی اسان نہیں تھی ان علاقوں میں بی جے پی کا کوئی مستقل پارٹی ورکرس نہیں تھے۔ شیوسینا نے کسی اتحاد یا تائید کے بغیر 63 نشستیں حاصل کی ہیں تو پارٹی کے اثر کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ این سی پی اور کانگریس کو خوداحتسابی کے ساتھ جائزہ لینا ہوگا اور مہاراشٹرا کی نئی حکومت کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھنی ہوگی جس کے بعد ہی اپوزیشن کا فریضہ پورا ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT