Friday , November 24 2017
Home / اداریہ / شیوسینا ۔ بی جے پی میں اختلافات

شیوسینا ۔ بی جے پی میں اختلافات

کروٹیں یہ زمانہ بدلتا رہا
ہر پرندہ ٹھکانہ بدلتا رہا
شیوسینا ۔ بی جے پی میں اختلافات
مہاراشٹرا میں جس وقت سے شیوسینا اور بی جے پی نے مخلوط حکومت تشکیل دی ہے اس وقت سے ہی دونوں جماعتوں کے مابین اختلافات کا سلسلہ چلا آ رہا ہے ۔ شیوسینا ایسا لگتا ہے کہ دوسرے درجہ کو قبول کرنے کو اب تک تیار نہیں ہے ۔ لوک سبھا اور اسمبلی کے انتخابات میں ریاست میں شیوسینا سے زیادہ بی جے پی کو کامیابی حاصل ہوئی تھی اور اس کامیابی کے بعد ریاست میں بی جے پی نے حکومت تشکیل دی ہے ۔ حالانکہ شیوسینا حکومت میںشامل ہے اور مرکز میں برسر اقتدار این ڈی اے میں بھی شیوسینا بی جے پی کے ساتھ ہے اس کے باوجودایسا لگتا ہے کہ شیوسینا مطمئن نہیں ہے اور وہ چاہتی ہے کہ کسی طرح بی جے پی اس کو اور زیادہ اہمیت دینے لگے جس کیلئے بی جے پی تیار نظر نہیں آتی ۔ بی جے پی کے ریاستی قائدین شیوسینا سے نالاں ہوتے جا رہے ہیں۔ شیوسینا کے ترجمان سامنا میں جس طرح سے ریاست میں اور مرکز میں بی جے پی برسر اقتدار حکومت کو تنقیدوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس سے بی جے پی قائدین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ شیوسینا وقفہ وقفہ سے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتی جا رہی ہے ۔ شیوسینا کے دباو اور تنقیدوں کا ہی نتیجہ تھا کہ بی جے پی نے ریاست میں وزیر مال کی حیثیت سے کھڈسے کو کابینہ سے علیحدہ کردیا ۔ گذشتہ دنوں ملک بھر میں بلکہ دنیا کے مختلف حصوں میں یوگا کا عالمی دن منایا گیا ۔ اس پر بھی شیوسینا نے تنقید کی اور یہ سوال کیا تھا کہ آیا یوگا کرنے سے عوام کو افراط زر اور مہنگائی سے اور کرپشن سے جو تکالیف درپیش ہیں آیا وہ بھی دور ہوسکتی ہیں ؟ ۔ یہ شیوسینا کا ایسا طنز تھا جس نے بی جے پی قائدین کے قائدین کو بے چین کردیا ہے ۔ اب بی جے پی کی حمایت کرنے والے ایک اخبار میں واضح طور پر یہ سوال کیا گیا ہے کہ شیوسینا ‘ بی جے پی سے کب علیحدگی اختیار کرنا چاہتی ہے ۔ حالانکہ شیوسینا بظاہر ابھی سے بی جے پی سے علیحدگی اختیار کرنے کو تیار نظر نہیں آتی اور وہ پہلے حالات پیدا کرنا چاہتی ہے اس کے باوجود بی جے پی ایسا لگتا ہے کہ اب شیوسینا کی تنقیدوںکو برداشت کرنے تیار نہیں ہے اور وہ چاہتی ہے کہ یہ سلسلہ فوری رک جائے ۔ ایک طرح سے اس نے شیوسینا کو اشارہ دیدیا ہے کہ اب مزید تنقیدیں دونوں جماعتوں کے اتحاد کیلئے خطرہ ہوسکتی ہیں۔
بی جے پی کا کہنا ہے کہ شیوسینا کو دوسرے درجہ پر ہی مطمئن ہوجانا چاہئے کیونکہ نہ صرف لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں بلکہ اس کے بعد سے ریاست میں نچلی سطح پر بھی جتنے بھی انتخابات ہوئے ہیں ان میں بھی بی جے پی نے شیوسینا سے زیادہ کامیابی حاصل کی ہے ۔ یہی بات ہے جو شیوسینا کا اطمینان متاثر کر رہی ہے ۔پارٹی سمجھتی ہے کہ سارے مہاراشٹرا پر اگر حکمرانی کا حق ہے تو صرف اسے حاصل ہے ۔ وہ بی جے پی کو حالانکہ اپنے ساتھ ضرور رکھنا چاہتی ہے لیکن اس کا مقصد و منشا یہی ہے کہ بی جے پی دوسرے درجہ پر اکتفا کرے لیکن امیت شاہ کی قیادت میں بی جے پی ایسا کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ بی جے پی نے شیوسینا سے اتحاد اس وقت کیا تھا جب شرد پوار کی این سی پی نے بی جے پی کو غیر مشروط تائید کی پیشکش کی تھی ۔ اس تائید کو قبول کرنے سے گریز کرتے ہوئے بی جے پی نے شیوسینا سے اتحاد کیا تھا اور وہ چاہتی ہے کہ شیوسینا بی جے پی کی برتری کو تسلیم کرتے ہوئے مطمئن ہوجائے ۔ شیوسینا ایسا کرنا نہیںچاہتی اور اس کیلئے وہ وقفہ وقفہ سے بی جے پی کو تنقیدوں کا نشانہ بناتی جا رہی ہے ۔ یہ تنقیدیں بیجا بھی نہیں ہیں ۔ یہ ایسی تنقیدیں ہیں جو اکثر و بیشتر اپوزیشن جماعتیں کرتی ہیں۔ شیوسینا حکومت میںرہتے ہوئے اپوزیشن کا رول نبھا رہی ہے اور یہ اس کا دوہرا معیار ہے ۔ بی جے پی چاہتی ہے کہ اب مسئلہ واضح ہوجائے کہ شیوسینا اتحاد میں رہتی ہے تو اسے تنقیدوں کا سلسلہ بند کرنا ہوگا ورنہ وہ اپنا علیحدہ راستہ اختیار کرنے کیلئے آزاد ہے ۔ وہ نہیں چاہتی کہ شیوسینا کی تنقیدوں سے ریاست میں اپوزیشن کے حوصلے بھی بلند ہوجائیں۔
شینا نے اب تک مہاراشٹرا کی بی جے پی حکومت ہو یا مرکز کی این ڈی اے حکومت ہو دونوں سے جو سوال کئے ہیں وہ انتہائی چبھتے ہوئے سوال ہیں۔ یہ ایسے سوال ہیں جو اپوزیشن جماعتوں کو حوصلہ دے سکتے ہیں اور اپوزیشن ان کا استحصال کرسکتی ہے ۔ شیوسینا کو حکومت میں رہتے ہوئے ایسی تنقیدیں کرنے سے کوئی فائدہ نہیںہوسکتا ۔ اسے چاہئے کہ وہ واقعی ان سوالات کے تعلق سے سنجیدہ ہے تو حکومت سے علیحدگی اختیار کرلے اور اپوزیشن کی صفوںمیں بیٹھتے ہوئے حکومت کی عدم کارکردگی کو آشکار کرے ۔ حکومت میںرہتے ہوئے اقتدار کے مزے لوٹتے ہوئے ایسا کرنا سیاسی اخلاقیات کے مغائر اقدام ہے اور اس سے شیوسینا کا دوہرا معیار ظاہر ہوتا ہے ۔ اسے یقیناً حکومت پر تنقیدیں کرنی چاہئیں لیکن اس سے قبل اسے ریاست اور مرکز دونوں ہی جگہ حکومت سے علیحدگی اختیار کرلینی چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT