Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / شیوپال ،ایس پی امیدوار بن گئے مگر سبوتاج کی دھمکی

شیوپال ،ایس پی امیدوار بن گئے مگر سبوتاج کی دھمکی

یوپی اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد نئی پارٹی تشکیل دینے کا اعلان، اکھیلیش کا شدید ردعمل
ایٹاوہ (یوپی) ۔ 31 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) اکھیلیش یادو کیلئے نیا چیلنج پیش کرتے ہوئے ان کے حاشیہ پر جاچکے چچا شیوپال یادو نے آج اعلان کیا کہ وہ انتخابی نتائج کا 11 مارچ کو اعلان ہونے کے بعد ایک پارٹی تشکیل دیں گے اور ’’باغی‘‘ امیدواروں کو واپس پارٹی صفوں میں لانے کی دھمکی دی۔ ’’تم حکومت بناؤ، ہم نئی پارٹی بنائیں گے‘‘۔ شیوپال نے ایس پی ٹکٹ پر جسونت نگر نشست کیلئے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے بعد یہ بات کہی جس پر ان کے بھتیجے اور نئے پارٹی سربراہ اکھیلیش نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور ایٹا میں کہا کہ جو بھی پارٹی مفاد کے خلاف کام کررہے ہیں انہیں بخشا نہیں جائے گا۔ تاہم اکھیلیش نے جو انتخابی مہم پر ہیں، شیوپال کے بیان پر ناراضگی ظاہر کرنے کے باوجود اپنے انکل کے خلاف کسی کارروائی کا اعلان نہیں کیا۔ الیکشن کمیشن نے ملائم سنگھ یادو اور ان کے فرزند کے درمیان عدم اتفاق اور بے رخی کو پارٹی پر کنٹرول کیلئے داخلی تنازعہ قرار دیا جس کے بعد اکھیلیش کو پارٹی کی صدارت مل گئی۔ اکھیلیش نے سکندارو میں انتخابی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں نیتاجی (ملائم) کا آشیرواد حاصل ہے اور سارا خاندان متحد ہے۔ انہوں نے کہا کہ کافی قیاس آرائیاں جاری تھیں لیکن اب میں نے سماج وادی پارٹی امیدوار کی حیثیت سے میرے کاغذات نامزدگی داخل کردیئے ہیں۔ دوسری طرف شیوپال نے کہا کہ وہ قائدین کا کیا ہوگا جنہوں نے گذشتہ 5 سال ایس پی کیلئے محنت کی۔ وہ بعض مقامات پر انتخاب لڑ رہے ہیں اور بقیہ کچھ نہیں کررہے ہیں۔ شیوپال نے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ ایس پی ۔ کانگریس اتحاد کے سرکاری امیدواروں کے خلاف باغیوں کیلئے مہم چلائیں گے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا دعویٰ ہیکہ شیوپال کا اس طرح کا بیان ایس پی ۔ کانگریس اتحاد کے خلاف جاسکتا ہے جو مسلم ووٹروں کو اپنے حق میں جٹانے کی کوشش کررہا ہے۔ مسلمان جو آزادی کے بعد سے کانگریس کی ٹھوس تائید کرتے رہے ہیں، وہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد ملائم کی پارٹی کی تائید میں آ گئے۔ اب ملائم کے وفاداروں، ایس پی۔ کانگریس اتحاد اور مایاوتی کی بی ایس پی کے مابین مسلم ووٹوں کی سہ رخی تقسیم کا اندیشہ ہے جس سے بی جے پی کو فائدہ ہوسکتا ہے جو اقتدار سے 15 سالہ دوری کو ختم کرتے ہوئے ہندی پٹی کی اس کلیدی ریاست میں حکومت تشکیل دینے کیلئے بے چین ہے۔

TOPPOPULARRECENT