Tuesday , December 12 2017
Home / آپ کے سوال / صاحب نصاب کا قربانی نہ دینا

صاحب نصاب کا قربانی نہ دینا

سوال : اگر کسی کے پاس سرمایہ ہوتا ہے وہ مالدار ہوتے ہیں اور ان کی اولاد بھی کمانے والے بیوی بچے والے ہوتے ہیں۔ ان سب کی طرف سے ایک یا دو قربانی دی جاتی ہے ۔ کیا کسی شخص پر قربانی واجب ہو اور اگر وہ قربانی نہ دے تو ازروئے شرع ایسے شخص کا کیا حکم ہے ؟
محمد کامران عزیز، مراد نگر
جواب : صاحب نصاب اگر قربانی نہ کرے تو اس کا گناہ ہوتا ہے کیونکہ قربانی واجب ہے اور ترک واجب گناہ کبیرہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شحص کو سخت وعید سنائی ہے ۔ حدیث شریف میں ہے ۔ عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : من کان لہ سعۃ ولم یضح فلا یقر بن مصلانا (ابن ماجہ، الترغیب و الترھیب للمنذری ج 2 ) حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس کے پاس (قربانی کرنے کی ) گنجائش ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔ حدیث شریف میں قربانی نہ کرنے والوں کے لئے یہ بہت بڑی وعید ہے کیونکہ عیدگاہ کو عید کی نماز پڑھنے کے لئے مسلمان جاتے ہیں اور جو مسلمان نہیں ہیں وہ عیدگاہ سے دور رہتے ہیں، یہ بہت سخت وعید ہے کہ مسلمان ہو اور گنجائش بھی ہو اور قربانی نہ دے ، یہ نہایت بدبختی ہے، اس لئے ہر صاحب نصاب مسلمان مرد عورت پر قربانی واجب ہے‘‘۔
مہرمیں متعینہ سونا ‘ چاندی کا
وقت ادائیگی کی قیمت کا اعتبار
سوال : زید اور ذاکرہ کا عقد (10 سال قبل ہوا‘ اور زر مہر نقد رقم مبلغ 15000/- (پندرہ ہزار روپئے سکہ رائج الوقت) اور تین دینار سرخ (یعنی تین تولہ اصلی سونا) مقرر ہوا‘ عقد کے روز رقم سے متعلق سکۂ رائج الوقت کا ذکر ہوا کرتا ہے جبکہ دینار شرعی و دینار سرخ کے تعلق سے رقم کی صراحت نہیں کی جاتی۔ عقد کے دن ایک تولہ سونے کی قیمت خرید مبلغ (4000) چار ہزار روپئے تھی‘ اب اس کی قیمت بڑھ کر مبلغ 30,000/- تیس ہزار روپیہ فی تولہ ہوگئی۔
زید اب زر مہر (نقد رقم) اور دینار سرخ کی قیمت بھی ادا کرنا چاہتا ہے ۔ زید کی اس وقت مالی حالت ا پنی بیوی کی کفالت و نفقہ اور بچوں کی تعلیم و تربیت و پرورش کی حد تک محدود ہے ۔ اس کو کوئی اور حلال آمدنی کا ذریعہ نہیں ہے ۔ دریافت طلب امر یہ ہیکہ زید اپنی بیوی کو تین دینار سرخ کی رقم یعنی تین تولہ سونے کی رقم جو اسکے عقد کے روز قیمت خرید تھی وہ ادا کرے یعنی 12000/- روپیہ فی تولہ 4000/- روپئے کے حساب سے یا پھر موجودہ قیمت خرید کے حساب سے 90,000/- (نود ہزار روپیہ) ادا کرنا ہوگا ۔ واضح رہے کہ زید اس قدر کثیر رقم 90,000/- روپئے ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔
محمد شعیب خان،مانصاحب ٹینک
جواب : مہر مؤجل (دیر طلب مہر) شوہر کے ذمہ در حقیقت …… قرض ہے۔ اس کی ادائیگی بہر صورت شوہر پر لازم ہے۔ مہر میں متعینہ رقم مقرر کی گئی تھی اور عرصہ دراز کے بعد اس کو ادا کیا جارہا ہے تو وہی مقررہ رقم ادا کی جائے گی ۔ اسی طرح مہر میں سونا یا چاندی کی متعینہ مقدار مقرر کی گئی تھی تو شوہر کو وہی متعینہ مقدار ادا کرنا لازم ہوگا اور مہر کی ادائیگی کے وقت متعینہ سونا چاندی کی قیمت زیادہ ہوجائے یا کم ہوجائے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ بہر صورت وہی متعینہ مقدار دینا ہوگا ۔ متعینہ سونا چاندی کی مقدار کا اعتبار ہے ۔ اس کی قیمت کی زیادتی یا کمی کا اعتبار نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وآتوا النساء صدقاتھن نحلۃ فان طبن لکم عن شئی منہ نفسا فکلوہ ھنیئا مریئا (سورۃ النساء 4/4 )
ترجمہ : اور عورتوں کو ان کے مہر خوشدلی سے ادا کیا کرو‘ پھر اگر وہ اس (مہر) میں سے کچھ تمہارے لئے اپنی خوشی سے چھوڑدیں تو تب اسے اپنے لئے سازگار اور خوشگوار کھاؤ۔اس آیت شریفہ میں عورتوں کو ان کے مہر خوشدلی سے ادا کرنے کی تلقین کی گئی اور وہ عورتیں اپنی خوشدلی سے اپنے مہروں میں کچھ انہیں دیدیں تو اس کو تصرف میں لانا شرعاً درست ہے ۔ پس دریافت شدہ مسئلہ میں زید نے بوقت عقد 3 دینار سرخ (تین اشرفی‘ تین قدیم تولہ سونا مساوی فی تولہ بارہ ماشے) مہر مقرر کیا تھا تو اب بوقت ادائیگی اتنی ہی مقدار سونا ادا کرنا لازم ہوگا ۔ بوقت عقد سونے کی جو قیمت تھی اس کا اعتبار نہیں۔ البتہ بیوی خود اپنی خوشدلی و رضامندی سے مہر معاف کرنا چاہے اس میں کم کرلے تو بیوی کو اختیار ہے اور یہ معاف کرنا‘ کم کرنا ازروئے شرع درست ہے۔ در مختار جلد 3 صفحہ 124 میں ہے : (وصح حطھا) لکلہ أو بعضہ (عنہ) ۔
دعاء کا صحیح طریقہ
سوال : دعاء کا صحیح طریقہ کیا ہے ‘ بعض حضرات دعاء کرتے وقت دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کرتے ہیں اور بعض حضرات چہرے کے قریب رکھتے ہیں۔ بعض دونوں ہاتھ ملاکر دعا کرتے ہیں اور بعض دونوں ہاتھوں میں گیپ رکھتے ہوئے دعا کرتے ہیں۔ مجھے جاننا یہ ہے کہ اسلام میں دعاء کرنے کا صحیح و مسنون طریقہ کیا ہے۔
محمد عارف، چوک
جواب : دعاء کی نوعیت سے دعا کا طریقہ مختلف ہوتا ہے لیکن عام دعا کا افضل طریقہ یہ ہے کہ آدمی دعاء کے وقت اپنی دونوں ہتھیلیوں کو کھلا رکھے اور دونوں ہاتھوں کے درمیان تھوڑی سی کشادگی ہو اور اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر نہ رکھے اور دعاء کے وقت دونوں ہاتھ سینے تک اٹھانا مستحب ہے۔ عالمگیری جلد 5 ص : 318 میں ہے : والا فضل فی الدعاء أن یبسط کفیہ و یکون بینھما… وان قلت ولا یضع احدی یدیہ علی الاخری … المستحب أن یرفع یدیہ عندالدعاء بحذاء صدرہ کذا فی القنیۃ دعاء سے فارغ ہونے کے بعد اپنے دونوں ہاتھ چہرے پر مل لے اسی میں ہے : مسح الوجہ بالیدین اذا فرغ من الدعاء قیل لیس بشئی و کثیرمن مشائخنا رحھم اللہ تعالیٰ اعتبروا ذلک و ھوا الصحیح و بہ ورد الخبر کذافی الغیاثۃ۔
سکرات میں تلقین
سوال : جو لوگ سکرات میں ہوتے ہیں‘ ان کو کلمہ کی تلقین کی جاتی ہے ۔ شریعت میں تلقین کا کیا حکم ہے اور اس کا فائدہ کیا ہے ؟ اگر شریعت میں اس کی کوئی فضیلت آئی ہے تو بیان کریں؟
کاظم خان، فرسٹ لانسر
جواب : آخرت میں کامیابی و سعادتمندی کا دارومدار صرف اور صرف خاتمہ بالخیر پر ہے ۔ جن کا خاتمہ ایمان پر ہو وہی شحص کا میاب و کامران ہے ۔ اس لئے شریعت مطھرہ میں جو شخص قریب الموت ہو اس کو ’’ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ کی تلقین کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ حکم مستحب ہے ۔ ردالمحتار ج : 2 ص : 78 میں ہے : لکنہ تجوز لما فی الدرایۃ من أنہ مستحب بالا جماع۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لقنوا موتاکم لا الہ الا اللہ فانہ لیس مسلم یقولھا عندالموت الا انجتہ من النار‘‘ یعنی تم قریب الموت افراد کو ’’ لا الہ الا اللہ ‘‘ کی تلقین کرو کیونکہ جو کوئی مومن موت کے وقت یہ کلمہ پڑھتا ہے۔ وہ دوزخ سے نجات پاجاتا ہے ۔ نیز آپ کا ارشاد گرامی ہے : من کان آخر کلامہ لا الہ الا اللہ دخل الجنۃ ‘ ‘ یعنی جس کا آخری کلام ’’ لا الہ الا اللہ ‘‘ (کوئی معبود نہیں ہے سوائے اللہ کے) وہ جنت میں داخل ہوگا (ابو داؤد) اس لئے تلقین کرنا پسندیدہ ہے۔
کمیشن لینا
سوال : مجھے میری آمدنی کے بارے میں کچھ شک و شبہ ہے ‘ میری مصروفیت یہ ہے کہ میں گاڑی ‘ مکان ‘ پلاٹ کے مالکین سے گفتگو کرتا ہوں اور ان کیلئے خریدار فراہم کرتا ہوں اور جب خریدار گاڑی ‘ زمین یا مکان خرید لیتا ہے تو میں اپنا نفع ان سے حاصل کرتا ہوں۔ عموماً اس کو کمیشن کہتے ہیں۔ اس طرح کا عمل شرعی لحاظ سے درست ہے یا نہیں ۔
عبدالقدوس کاروان
جواب : اگر کوئی شخص گاڑی ‘ زمین یا مکان کی خریدی میں کسی کی مدد کر رہا ہے۔ اس کی خاطر اپنا وقت دے رہا ہے اور اس کا معاوضہ لے رہا ہے ۔ دوسرے معنی میں وہ بحیثیت ایجنٹ کام کر رہا ہے اور کمیشن لے رہا ہے تو شرعاً یہ جائز ہے۔ عالمگیری جلد 4 ص : 441 میں ہے : واذا أخذ السمسار أجر مثلہ ھل یطیب لہ ذلک تکلموا فیہ قال الشیخ الامام المعروف بخواھرزادہ یطیب ذلک و ھکذا عن غیرۃ والیہ اشار محمد رحمہ اللہ تعالیٰ فی الکتاب ھکذا فی فتاوی قاضی خان۔
دم دینے کے بجائے رقم صدقہ کرنا
سوال : میں دمام(سعودی عربیہ) میں مقیم ہوں، اس سال میں حج کے ارادہ سے احرام باندھ کر روانہ ہوا لیکن بعض قانونی رکاوٹوں کی وجہ سے میں مکہ مکرمہ پہنچ نہیں سکا اور مجبوراً مجھے واپس ہونا پڑا، مجھے پہلے سے اطلاع تھی کہ اگر واپس ہوجائیں تو بغیر دم کے احرام نہیں کھول سکتے اس لئے فوری میں اپنے دوست سے ربط پیدا کیا اور ان سے خواہش کی کہ وہ میری طرف سے دم دیدیں۔ بہرحال ان سے رابطہ قائم کرنے میں بڑی دشواریاں ہوئیں اور میرے دوست کو بھی تکلیف ہوئی ۔ مجھے معلوم کرنا یہ ہے کہ اگر ہم جانور ذبح کرنے کے بجائے اس کی رقم صدقہ کردیں تو یہ قابل قبول ہے یا نہیں ؟
محمد لیاقت حسن ، دمام سعودی عرب
جواب : اگر کوئی شحص احرام باندھنے کے بعد کسی رکاوٹ کی وجہ سے حرم کو نہ پہنچ سکے تو احرام سے نکلنے کیلئے دو چیزیں ضروری ہیں یا تو وہ قربانی کا جانور دم کو روانہ کرے اور وہ جانور ذبح ہونے کے بعد حلال ہوسکتا ہے یعنی احرام کھول سکتا ہے یا پھر وہ قربانی کے جانور کی قیمت روانہ کرے تو اس قیمت سے جانور خریدا جائے گا اور اس کو حرم میں ذبح کیا جائے گا ۔ اس قیمت کو صدقہ کرنا جائز نہیں، اگر وہ رقم صدقہ کردی جائے تو وہ احرام کی پابندیوں سے نہیں نکل سکتا۔ ردالمحتار جلد 2 کتاب الحج صفحہ : 650 مطبعہ دارالفکر بیروت میں ہے : (بعث المفرد) ای بالحج أو العمرۃ الی الحرم قھستانی قولہ (دما) سیاتی بیانہ فی باب الھدی … قولہ (او قیمۃ ) ای یشتری بھی شاۃ ھناک و یذیح عنہ ۔ ھدایۃ وفیہ ایماء الی انہ لا یجوز التصدق بتلک القیمۃ۔
داماد وارث نہیں ہوتا
سوال : کسی مرحوم کے ترکہ میں فرزند ، دختر اور بیوہ کے علاوہ داماد کا بھی حصہ ہوگا ؟
خلیل انصاری، ای میل
جواب : وراثت کا حق مرحوم کے رشتہ داروں کا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ نے رشتہ داری کو پیدا کیا ہے وہی زیادہ جانتا ہے کہ مرحوم کے قریبی رشتہ دار کون ہیں اور کون اس کے مال و متاع کے حقیقی وارث و حقدار ہیں ، اس لئے قانونِ وراثت کا دارومدار وحی الٰہی پر موقوف ہے، اس میں قیاس کو دخل نہیں۔ پروردگار عالم نے بیٹی کو خونی رشتہ کی بناء وارث قرار دیا لیکن داماد کسی صورت میں وارث نہیں ہوسکتا۔

TOPPOPULARRECENT