Friday , November 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / صاحب نصاب کی زکوٰۃ کا مسئلہ

صاحب نصاب کی زکوٰۃ کا مسئلہ

(۱)    چاندی‘ سونے میں مطلقاً زکوٰۃ واجب ہے ( خواہ وہ کسی حالت میں اور کسی شکل میں ہو یعنی بصورت روپیہ ‘ اشرفی ہو یا زیور    برتن وغیرہ )۔
(۲)  چاندی ‘ سونے میں چالیسواں حصہ زکوٰۃ فرض ہے ۔
(۳)  چاندی کا نصاب دو سو درم (۴۲۵ گرام ۲۸۵ ملی گرام ) ہے۔ اور سونے کا نصاب بیس مثقال (۶۰ گرام ۷۵۵ ملی گرام ) ہے ۔ یعنی اگر کسی کے پاس دو سو درم (۴۲۵ گرام ۲۸۵ ملی گرام) چاندی یا بیس مثقال (۶۰ گرام ۷۵۵ملی گرام) سونا موجود ہو اور اس پر ایک سال گزر گیا ہو تو اس کا چالیسواں حصہ یعنی پانچ درم ( دس گرام ۶۳۲ ملی گرام )چاندی یا آدھا مثقال (ایک گرام ۵۱۹ ملی گرام ) سونا زکوٰۃ دینا فرض ہے ۔
(تنبیہ ) ۴۲ گرام ۲۸۵ ملی گرام (تقریبا ساڑھے بیالیس تولے چاندی) سے کم چاندی پر زکوٰۃ نہیں ۔ اسی طرح ۶۰ گرام ۷۵۵ ملی گرام سے کم سونے پر زکوٰۃ نہیں ۔
زکوۃ نکالنے والوں کی آسانی کیلئے نقشہ ملاحظہ ہو
۱۔
ہر ۱۰۰۰ روپئے پر
۲۵ روپئے
۲۔
ہر ۰۰۰ ،۱۰  روپئے پر
۲۵۰ روپئے
۳۔
ہر۰۰۰،۵۰ روپئے پر
۱۲۵۰روپئے
۴۔
ہر۰۰۰،۱۰۰ روپئے پر
۲۵۰۰ روپئے
اسی طرح اب ہر لاکھ پر ۲۵۰۰ رپئے کے حساب سے جتنی بھی رقم ہو اس پر زکوۃ نکالنی پڑے گی۔

TOPPOPULARRECENT