Tuesday , September 25 2018
Home / ہندوستان / صادق جمال فرضی انکاؤنٹر،اضافی چارج شیٹ تیار

صادق جمال فرضی انکاؤنٹر،اضافی چارج شیٹ تیار

انٹلیجنس بیورو کے دو سابق عہدیداروں کے خلاف کارروائی کا امکان

انٹلیجنس بیورو کے دو سابق عہدیداروں کے خلاف کارروائی کا امکان
نئی دہلی ۔ /10 جون (سیاست ڈاٹ کام) سی بی آئی صادق جمال انکاؤنٹر مقدمہ میں اضافی چارج شیٹ کو قطعیت دے چکی ہے اور وہ عنقریب وزارت داخلہ سے رجوع ہوکر دو سابق انٹلیجنس بیورو عہدیداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی اجازت طلب کرے گی ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ تحقیقاتی ایجنسی حکومت مہاراشٹرا سے بھی یہ درخواست کرے گی کہ مہاراشٹرا پولیس کے دو عہدیداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی اجازت دے ۔ ذرائع نے بتایا کہ مبینہ فرضی انکاؤنٹر مقدمہ میں دائر کی جانے والی اضافی چارج شیٹ میں انٹلیجنس بیورو کے دو عہدیداروں کا نام بھی شامل ہے ۔ وہ اس وقت مہاراشٹرا انٹلیجنس بیورو ، اسٹیٹ یونٹ آئی بی سے وابستہ تھے ۔ اسی طرح مہاراشٹرا کے دو عہدیداروں کا بھی نام شامل ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ سی بی آئی کو یہ پتہ چلا ہے کہ صادق جمال کو مبینہ طور پر گجرات پولیس نے نشانہ بنایا اور یہ کارروائی انٹلیجنس بیورو عہدیدار کی جانب سے تیار کردہ فرضی تفصیلات کی بنیاد پر کی گئی ۔

یہ عہدیدار اس وقت ایس آئی وی میں اسسٹنٹ ڈائرکٹر کی حیثیت سے تعینات تھے ۔ صادق جمال کو فرضی انکاؤنٹر میں 2003 ء میں ہلاک کیا گیا ۔ سی بی آئی نے 8 گجرات پولیس ملازمین بشمول دو ریٹائرڈ عہدیداروں کو مجرمانہ سازش اور قتل کا ملزم قرار دیا ہے ۔ ایجنسی نے اپنی پہلی چارج شیٹ میں جو /22 ڈسمبر 2013 ء کو پیش کی گئی تھی کہا تھا کہ یہ انکاؤنٹر پہلے سے طئے شدہ تھا اور صادق جمال کو سٹی کرائم برانچ نے غیرقانونی طور پر اپنے قبضہ میں رکھا تھا ۔ صادق جمال کو /13 نومبر 2003 ء کو نروڈا علاقہ میں جو احمد آباد میں واقع ہے گیلاکسی سنیما کے قریب گولی مارکر ہلاک کیا گیا ۔ پولیس نے اسے لشکر طیبہ کا کارکن قرار دیا جو اس وقت کے چیف منسٹر نریندر مودی اور وی ایچ پی لیڈر پروین توگاڑیہ کو ہلاک کرنے کے مشن پر آیا ہوا تھا ۔ گجرات ہائیکورٹ نے جون 2011 ء میں صادق جمال کے بھائی شبیر جمال کی درخواست پر یہ مقدمہ سی بی آئی کو منتقل کیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT