Wednesday , November 22 2017
Home / مضامین / صادق خان نے لندن فتح کرلیا

صادق خان نے لندن فتح کرلیا

محمد ریاض احمد
انگریزوں نے برصغیر ہندو پاک میں برسوں حکومت کی اس وقت کسی نے نہیں سوچا ہوگا کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب برصغیر سے تعلق رکھنے والے برطانیہ کے وزرتوں میئر اور اہم ترین حکومتی عہدوں پر فائز ہوں گے۔ لندن نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک پاکستانی نژاد مسلمان کو اپنا میئر منتخب کیا ہے جس کے لئے لندن کے شہریوں کی جتنی تعریف و ستائش کی جائے کم ہے۔ حالانکہ انتحابی مہم میں لیبر پارٹی کے امیدوار صادق امان اللہ خاں کو جن کا شمار برطانیہ میں حقوق انسانی کے جانے مانے وکلاء میں ہوتا ہے قدامت پسند پارٹی کے امیدوار زیک گولڈ اسمتھ کی جانب سے مذہبی بنیادوں پر چلائی گئی مہم کا سامنا کرنا پڑا۔ حد تو یہ ہے کہ زیک گولڈ اسمتھ نے جو ارب پتی یہودی تاجر آنجہانی جیمز گولڈ اسمتھ کے بیٹے ہیں اپنی انتخابی مہم مذہبی بنیاد پر چلائی۔ لندن میں مقیم ہندوؤں اور سکھوں کی تائید و حمایت حاصل کرنے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کا نام بھی استعمال کیا لیکن گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام میں مبینہ طور پر ملوث رہنے کے الزامات کا سامنا کرنے والے مودی کے حوالے بھی انہیں شکست سے نہیں بچا سکے۔ آپ کو بتادیں کہ زیک گولڈ اسمتھ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خاں کی سابق اہلیہ جمیمہ گولڈ اسمتھ کے سگے بھائی ہیں۔ وہ کثرت سے سگریٹ نوشی اور خواتین میں مقبولیت کے باعث اپنی ایک منفرد پہچان رکھتے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ 1997 ء میں جب ان کے والد جیمز گولڈ اسمتھ کا کینسر کے باعث انتقال ہوا تب زیک گولڈ اسمتھ کو 20 تا 30 کروڑ پاؤنڈ روپے وراثت میں ملے تھے۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق فی الوقت وہ رقم کم از کم 70 کروڑ پاؤنڈس کے مساوی ہے۔ سب سے خوشی کی بات یہ ہے کہ لندن کے شہریوں نے انتخابی مہم میں امیدوار کے مذہب کو نہیں دیکھا اس کی دولت و شہرت نے بھی انہیں متاثر نہیں کیا۔ لندن کے رائے دہندوں نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ مقابلہ ایک سفید فام خوبرو برطانوی یہودی اور ایک خوددار پاکستانی نژاد برطانوی مسلمان کے درمیان ہے بلکہ لندن کے شہریوں نے اتحاد، ترقی، خوشحالی خود داری،محنت و جستجو اور سب سے بڑھ کر انسانی اقدار کے حق میں ووٹ دیا۔ ان لوگوں نے دولت مند اور سفید فام ہونے کے زعم میں مبتلا اس سیاستداں کو مسترد کردیا جس نے لندن کے شہریوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرتے ہوئے ان کے اتحاد و اتفاق کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کی۔ لندن کے رائے دہندوں نے انتشار پر اتحاد خوف پر امید، تعصب پر غیر جانبداری بے غیرتی پر عزت و خودداری کو کامیابی دلائی۔ صادق محمد امان اللہ خاں کو 1,310,143 ووٹس حاصل ہوئے جبکہ زیک گولڈ اسمتھ 994,614 ووٹ ہی حاصل کرسکے۔

ڈیلی میل کے مطابق برطانیہ کی تاریخ میں یہ کسی سیاسی قائد کو حاصل اب تک کی سب سے بڑی برتری ہے۔ اپنے انتخاب کے فوری بعد صادق خاں نے لندن کے شہریوں کا خوف پر امید کو منتخب کرنے کے لئے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان شہریوں کی سمجھ داری بردباری اور اتحاد پر انہیں فخر ہے۔ دوسری جانب لندن اسمبلی میں قدامت پسند پارٹی کے قائد نے زیک گولڈ اسمتھ پر انتخابی مہم کے دوران منفی انداز اختیار کرنے پر شدید تنقید کی تھی۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق دولت مند سیاستداں زیک گولڈ اسمتھ نے شاید یہ سوچا تھا کہ وہ ہندوستان کے نریندر مودی اور امریکہ کے ڈونالڈ ٹرمپ کی طرح نفرت انگیز، مہم چلاکر مذہب کی بنیاد پر عوام کے جذبات کا باآسانی استحصال کرلیں گے لیکن لندن کے شہریوں نے صادق خاں کے حق میں اپنے ووٹوں کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف قدامت پسند پارٹی کے قائدین بلکہ امریکہ اور ہندوستان میں قوم پرستی کا نعرہ بلند کرتے ہوئے عوام کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرکے اپنا الو سیدھا کرنے والوں کو بتادیا کہ وہ دوسروں کی طرح بے وقوف نہیں ہیں۔ اچھے برے کی تمیز رکھتے ہیں انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ مذہب اور رنگ و نسل کی بنیاد پر ووٹوں کی بھیک مانگنے والے اقتدار کے لالچی اور اپنے مفادات کے غلام ہوتے ہیں۔ انہیں ملک و قوم کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے خواہاں رہتے ہیں۔ صادق خاں کی عظیم الشان کامیابی پر قدامت پسند پارٹی کے قائدین میں ہنگامہ برپا ہوگیا ہے۔ سب کے سب زیک گولڈ اسمتھ کی عوام کو تقسیم کرنے والی پالیسیوں کو اس ناکامی کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے سابق ڈائرکٹر برائے حکمت عملی اسٹیو ہیلٹن کے خیال میں گولڈ اسمتھ کی مہم نے قدامت پسند پارٹی پر بدنامی کا ٹھپہ لگا دیا ہے۔ اپنی کامیابی کے بعد خطاب میں مسٹر صادق خاں نے جو ماضی میں برطانیہ کے وزیر مواصلات بھی رہ چکے ہیں کہا کہ خوف اور تقسیم کی سیاست ہمیں کمزور کرتی ہے اور ہمارے شہر میں اس قسم کی سیاست کا کبھی بھی خیرمقدم نہیں کیا گیا اور نہ ہی آئندہ کیا جائے گا۔ صادق خاں کے مطابق وہ لندن کے شکر گذار ہیں اور اس شہر پر انہیں بجا طور پر فخر ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے والد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بس ڈرائیور تھے اگر آج وہ ہوتے تو انہیں بھی اس شہر اور اس کے عوام پر فخر ہوتا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ انتخابی مہم کے دوران مسٹر زیک گولڈ اسمتھ اور وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے بار بار صادق خاں کے نام کو انتہا پسندوں کے ساتھ جوڑنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن لندن کے شہریوں نے ڈیوڈ کیمرون اور گولڈ اسمتھ کی نفرت پر مبنی سیاسی چالوں کو بڑی حقارت سے مسترد کردیا۔ صادق خاں نے اپنے خطاب میں انتہائی عاجزی و انکساری سے کہا کہ لندن سے کچھ فاصلے پر واقع ایک کونسل اسٹیٹ میں ان کی پیدائش ہوئی اور انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ لندن کے میئر کے باوقار عہدہ کے لئے ان کا انتخاب عمل میں آئے گا۔

صادق نے ناممکن کو ممکن بنانے پر لندن کے شہریوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور عہد کیا کہ وہ لندن والوں کو سستے اور قابل دسترس مکانات سے لے کر دوسری تمام سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔ لندن کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک مسلمان میئر کے انتخاب پر نہ صرف برطانیہ بلکہ ساری دنیا میں مسرت و اطمینان کا اظہار کیا جارہا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ صادق امان اللہ خاں 2005ء میں رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے نارتھ لندن یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے والے صادق خاں نے انسانی حقوق کے شعبہ میں بہت کام کیا ۔ ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے 2008ء میں انہیں برطانیہ کا وزیر مواصلات مقرر کیا گیا۔ صادق خاں نے کسی برطانوی لڑکی سے شادی کی بجائے 1994ء میں ایک پاکستانی نژاد لڑکی سعدیہ احمد سے شادی کی۔ انہیں دو بیٹیاں 17 سالہ انیسہ صادق خاں اور 15 سالہ عمارہ صادق خاں ہیں، جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں لکھا ہے کہ صادق خاں کے والد ایک بس ڈرائیور تھے۔ برطانیہ میں آمد کے بعد 25 برسوں تک انہوں نے سرکاری بس ڈرائیور کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ صادق خاں کا 8 بھائی بہنوں میں 5 واں نمبر ہے۔ سال 2009ء میں صادق خاں نے برطانیہ کے وزیر مواصلات کے عہدہ پر فائز رہتے ہوئے حکومت سعودی عرب کی دعوت پر حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔ صادق خاں نے اگرچہ خود کو ہمیشہ تنازعات سے دور رکھا لیکن 2013ء میں انہوں نے ہم جنس پرستوں کی شادیوں کے حق میں ووٹ دیا جس پر برطانیہ کے پاکستانی نژاد مسلمان نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہاں تک کہ بریڈ فورڈ کی مسجد کے امام نے انہیں مرتد قرار دے کر دائرہ اسلام سے ہی خارج کردیا تھا۔ اس کے باوجود صادق خاں خود کو ایک راسخ العقیدہ مسلمان کہتے ہیں۔ صادق خاں نے جو بورس جانسن کے جانشین ہوں گے لندن کو ساری دنیا کا ایک مثالی شہر بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اب دیکھا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو کس طرح نبھاتے ہیں۔
[email protected]

Top Stories

TOPPOPULARRECENT