Thursday , August 16 2018
Home / اداریہ / صارفین کا تحفظ ضروری

صارفین کا تحفظ ضروری

مہرباں ہو کے کسی نے جو کبھی دی تسکین
کانپ اٹھا دل کو کوئی تازہ مصیبت آئی
صارفین کا تحفظ ضروری
مرکزی حکومت کی جانب سے گڈس اینڈ سرویس ٹیکس میں بے تحاشہ اضافہ کے بعد عوام الناس کو اپنے ماہانہ اخراجات میں بے تحاشہ اضافہ کا شکار ہونا پڑا تھا ۔ حکومت کے اس سخت اقدام کے خلاف عوام کے اندر بڑھتی ناراضگی اور حکومت کی مقبولیت میں کمی کو محسوس کرتے ہوئے جی ایس ٹی کی شرحوں میں بتدریج کمی کا اعلان کیا گیا ۔ خاص کر روزانہ استعمال میں آنے والی اشیاء کی شرحوں میں کٹوتی کی گئی ۔ اضافہ شدہ جی ایس ٹی کو کم کرنے کے بعد ہندوستانی مارکٹ میں پہلے سے اضافہ شرحوں کو کم نہیں کیا گیا ۔ تاجر طبقہ ، مینوفکچررس اور چلر کاروبار کرنے والوں نے اضافہ شدہ شرحوں کو ہی برقرار رکھ کر صارفین کو پریشان کرنا شروع کیا ہے ۔ اس خصوص میں سرکاری سطح پر کسی چوکسی یا کارروائی نہ ہونے سے عوام کو سابق اضافہ شدہ قیمتیں ہی ادا کرنی پڑرہی ہیں ۔ اس بات کی شکایت عام ہوئی ہے کہ جی ایس ٹی میں کمی کا فائدہ صارفین کو نہیں مل رہا ہے ۔ جی ایس ٹی نے ملک کی معیشت کو تباہ کرنے کی خبروں کے درمیان افراط زر میں اضافہ سے غریب صارفین کو مہنگائی کا بوجھ برداشت کرنا پڑا ۔ جی ایس ٹی ٹیکس نے عام صارفین کو بری طرح کمزور کردیا ہے ۔ اس سلسلہ میں اگر متعلقہ محکموں کی جانب سے کارروائی نہیں کی جاتی ہے تو تاجر طبقہ اور بیوپاری لوگ جی ایس ٹی کی آڑ میں من مانی قیمتیں وصول کرتے رہیں گے ۔ تلنگانہ میں جی ایس ٹی شرحوں میں کمی کے بغیر اشیاء فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا انتباہ دیا جاچکا ہے ۔ کمشنر سیول سپلائز لیگل میٹرالوجی کنٹرولر سی وی آنند نے شہریوں کی ان شکایات کا نوٹ لے کر غیر قانونی تجارتی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا اعلان کیا ۔ شہریوں نے شکایت کی کہ جی ایس ٹی میں کمی کا فائدہ صارفین تک نہیں پہونچایا جارہا ہے ۔ اس بات کا پتہ چلانے کی ضرورت ہے کہ متعلقہ عہدیدار اس کالا بازاری اور اضافہ قیمتوں کی وصولی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی نہ کر کے مجرمانہ خاموشی اختیار کیوں کررہے ہیں ۔ متعلقہ محکموں کے اصل ذمہ داروں کو جی ایس ٹی کی شرحوں میں کمی کا جائزہ لے کر دوکانداروں کو بھی اس سے واقف کروایا جائے ۔ اس سلسلہ میں کمشنر سیول سپلائز کو بھی حرکت میں آنے کی ضرورت ہے ۔ پیاکیج غذائی اشیاء کی فروخت کو نئی کمی شدہ شرحوں میں فروخت کیا جارہا ہے یا نہیں اور اگر کوئی پرانی قیمتوں میں ان اشیاء کو فروخت کررہا ہے تو ان کے خلاف کیا کارروائی کی جارہی ہے ۔ اس کا نوٹ لیا جانا چاہئیے خاص کر ہوٹلوں ، ریسٹورنٹس میں نئے جی ایس ٹی شرحوں کو روبہ عمل نہیں لایا گیا ۔ یہاں اضافہ شدہ قیمتوں کو وصول کیا جارہا ہے ۔ نئی جی ایس ٹی شرحوں کے مطابق ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں 18 فیصد سے گھٹا کر 5 فیصد کیا گیا ہے ۔ اس کا فائدہ ہوٹل میں کھانا کھانے والوں کو بہم نہیں پہونچایا جارہا ہے ۔ بلوں میں مختلف طریقوں سے اضافی شرحیں درج کر کے گاہکوں کو پریشان کیا جانا غیر قانونی عمل ہے ۔ اس طرح کی شکایات کے ازالہ کے لیے کمشنر سیول سپلائز کے علاوہ دیگر سرکاری محکموں کو حرکت میں آنے کی ضرورت ہے ۔ صارفین تحفظ قانون کے تحت غیر قانونی طریقہ سے پیسہ کمانے والوں کے خلاف اقدامات کرتے ہوئے عوام کی شکایات کو دور کیا جاسکتا ہے ۔ لیگل میٹرالوجی ڈپارٹمنٹ نے ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس پر دھاوے کئے ہیں اور جی ایس ٹی کے بشمول غیر ضروری طور پر اضافی قیمتیں وصول کئے جانے کا جائزہ لیا گیا ہے ۔ مگر دوکانداروں کے خلاف کارروائی نہ کرنے سے مارکٹ میں صارفین کے حقوق کا تحفظ نہیں ہوپارہا ہے ۔ عوام الناس کو بھی جی ایس ٹی شرحوں میں کمی سے واقف کرانے کے لیے شعور بیداری مہم چلانے کی بھی ضرورت ہے ۔ ملک کی بڑی کمپنیوں اور دیگر اداروں کو بھی جی ایس ٹی کی نئی شرحوں پر عمل آوری کو یقینی بناتے ہوئے صارفین کو راحت پہونچانے میں آگے آنا ہوگا ۔ مرکزی حکومت نے اپنے سخت اقدامات کے ذریعہ عوام کی بِڑی تعداد کو مختلف مسائل سے دوچار کیا ہے لیکن بعد ازاں کیے گئے فیصلوں اور قیمتوں میں کمی پر عمل نہ کرنے والے تاجروں کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی ہے تو پھر مرکز کے خلاف عوام کی ناراضگی بھی برقرار رہے گی ۔ حکومت کو فی الفور قیمتوں میں کمی کے علاوہ افراط زر میں اضافہ کو روکنے پر توجہ دینا ہے ۔ سرکاری خزانہ کو مالیاتی خسارہ سے بچانے کے لیے موثر منصوبے بنانا بھی اس کے لیے ایک مشکل ترین مرحلہ ہے ۔ ٹیکسوں میں اضافہ کے ذریعہ وہ سرکاری خسارہ کو کم کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اس کا منفی اثر ملک کی جملہ معیشت پر پڑے گا اور حکومت کا طویل مدتی معاشی اصلاحات کا عمل اُلٹا اثر دکھانا شروع کرے گا ۔۔

TOPPOPULARRECENT