Saturday , December 15 2018

صبر کا وقت ختم ہوگیا ‘ مندر کیلئے قانون ضروری : بھاگوت

ناگپور 25 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے آج کہا کہ اب صبر کا وقت ختم ہوگیا ہے اور اگر یہ مسئلہ عدالت میں ترجیحی بنیادوں پر سماعت کیلئے نہیں آتا ہے تو ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کو یقینی بنانے کیلئے ایک قانون بنایا جانا چاہئے ۔ وشوا ہندو پریشد کی جانب سے یہاں رام مندر مسئلہ پر منعقدہ ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بھاگوت نے کہا کہ یہ احتجاج کا فیصلہ کن مرحلہ ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل خود انہوں نے کہا تھا کہ صبر سے کام لینا چاہئے ۔ اب وہ کہتے ہیں کہ صبر سے کام نہیں ہوگا ۔ ہمیں عوام کو مجتمع کرنا ہوگا ۔ اب ہم کو ایک قانون کا مطالبہ کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی وجہ سے عدالت میں رام مندر مسئلہ ترجیحی نہیں ہوتا ہے تو پھر حکومت کو چاہئے کہ وہ مندر کی تعمیر کیلئے قانون منظور کرنے پر غور کرے ۔ اس قانون کو جلد از جلد متعارف کروایا جانا چاہئے ۔ عدالتوں کا مصروف شیڈول ہوسکتا ہے یا پھر عدالتیں سماج کی حساسیت کو نہیں سمجھ سکتی ہیں تو پھر حکومت کو قانون سازی کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ احتجاج کا فیصلہ کن مرحلہ ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ 1992 میں مندر کیلئے احتجاج کرنے والوں نے اس وقت کے وزیر اعظم ( نرسمہا راو ) سے رابطہ کیا تھا لیکن انہوں نے فوری کارروائی نہیں کی ۔ پھر کارسیوک برہم ہوگئے اور جو کچھ ہوا ہوا ۔ انہوں نے اس طرح بابری مسجد کی شہادت کا حوالہ دیا ۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ رام جنم بھومی عقیدہ کا مسئلہ ہے جس پر کوئی سوال نہیں کیا جاسکتا انہوں نے کہا کہ سماج صرف قانون کے الفاظ سے نہیں چلتا بلکہ اپنی خواہشات سے بھی چلتا ہے ۔ 2010 میں الہ آباد ہائیکورٹ نے مندر کی تعمیر کے حق میں فیصلہ کیا تھا لیکن اب یہ واضح اشارے ہیں کہ یہ مسئلہ سپریم کورٹ کیلئے ترجیح نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT