Tuesday , January 23 2018
Home / مذہبی صفحہ / صحابہ اور اہل بیت اطہار ث کا ادب عین ایمان ہے

صحابہ اور اہل بیت اطہار ث کا ادب عین ایمان ہے

سید زبیر ہاشمی ، معلّم جامعہ نظامیہ اگر صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق پر غور کیا جائے تو یہ معلوم ہوگا کہ دونوں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر کسی بھی موقع پر جان قربان کرنے سے گریز نہیں کئے۔

سید زبیر ہاشمی ، معلّم جامعہ نظامیہ

اگر صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق پر غور کیا جائے تو یہ معلوم ہوگا کہ دونوں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر کسی بھی موقع پر جان قربان کرنے سے گریز نہیں کئے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس رات مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائے، اُس رات کفار اور مشرکین مکہ ننگی تلواریں لئے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جب آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو ہجرت کا حکم دیا تو اُس وقت تک اکثر مسلمان مدینہ منورہ ہجرت کرچکے تھے، تاہم ابھی تک حضرت علی مرتضی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما نے ہجرت نہیں کی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سوچا کہ حکم خداوندی کی تعمیل میں ہجرت کرنے سے قبل اپنے پاس رکھی ہوئی لوگوں کی امانتیں کسی کے سپرد کرجاؤں۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی نگاہِ انتخاب حضرت علی رضی اللہ عنہ پر پڑی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے فرمایا کہ ’’میں مدینہ ہجرت کرنا چاہتا ہوں، تم میرے بستر پر لیٹ جاؤ، میرے پاس کچھ لوگوں کی امانتیں ہیں، تم یہ امانتیں انھیں واپس کرکے بعد میں آجانا‘‘۔ اس رات حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر مبارک کافروں کی تلوار کے نشانہ پر تھا۔

حضرت امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’التفسیر الکبیر‘‘ اور حجۃ الاسلام حضرت امام غزالی نے ’’احیاء العلوم‘‘ میں بیان کیا ہے کہ ہجرت کی شب حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت علی مرتضی رضی اﷲ عنہ کو اپنے بستر مبارک پر سلاکر چلے گئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل و حضرت میکائیل علیہما السلام سے فرمایا کہ ’’دیکھو! علی (رضی اللہ عنہ) میرے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جان فدا کر رہا ہے، جاؤ جاکر ساری رات اس کی حفاظت کرو‘‘۔ چنانچہ بحکم خداوندی دونوں فرشتے آئے۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام سر کی طرف اور حضرت میکائیل علیہ السلام پاؤں کی طرف کھڑے ہو گئے اور حضرت جبرئیل امین علیہ السلام نے بلند آواز سے اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرما رہے تھے ’’اے ابن ابی طالب! آج تمہارے جیسا کون ہے؟ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے تم پر فخر فرما تے ہوئے ارشاد فرمارہا ہے ’’اور لوگوں میں سے ایک وہ ہے، جو اپنی جان اللہ کی رضامندی کے لئے بیچتا ہے‘‘۔

ہجرت مدینہ کی شب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر مبارک پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا سونا، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے حد درجہ ایثار، شجاعت اور جواں مردی کا مظہر ہے۔ مگر ہجرت ہی کی شب اگر حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ایثار دیکھیں تو وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں سفر کرنا، کفار و مشرکین مکہ کے نزدیک ایک ایسا جرم تھا، جس کی سزا بہرحال شہادت ہی تھی۔ کتب حدیث میں آتا ہے کہ جب ہجرت مدینہ کا حکم آیا اور اکثر مسلمان مدینہ ہجرت کرچکے تھے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی مدینہ منورہ جانے کی تیاری کرلی۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ’’تم ذرا ٹھہرو! کیونکہ مجھے بھی اجازت ملنے کی امید ہے‘‘۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ عرض گزار ہوئے ’’میرے والدین آپ پر قربان، کیا آپ کو بھی ہجرت کی امید ہے؟‘‘۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ہاں‘‘۔ پس حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کی خاطر اپنے آپ کو روکے رکھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس دو اونٹنیاں تھیں، آپ انھیں چار ماہ تک کیکر کے پتے کھلاتے رہے۔ {صحیح البخاری، کتاب المناقب، باب ہجرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم وصحابہ الی المدینہ}

ایک مرتبہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ان کے دروازے پر تشریف لے گئے اور وہاں جاکر دیکھا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ دروازہ پر کھڑے ہوئے حاضری کی اجازت طلب کر رہے ہیں۔ اتفاق سے ان کو حاضر ہونے کی اجازت نہیں ملی۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ یہ خیال کرکے کہ جب انھوں نے (یعنی حضرت عمر فاروق نے) اپنے بیٹے کو اندر آنے کی اجازت نہیں دی تو مجھے کب اجازت دیں گے۔ یہ سوچ کر واپس ہو گئے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ اس خیال سے واپس چلے گئے ہیں تو آپ فورا حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ ’’مجھے آپ کے تشریف لانے کی اطلاع نہ تھی‘‘۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’میں اس خیال سے واپس آگیا کہ جب آپ نے اپنے بیٹے کو اجازت نہیں دی تو مجھے کب دیں گے؟‘‘۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’آپ اس سے زیادہ مستحق ہیں‘‘۔

مذکورہ تحریری واقعات سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم اجمعین کے درمیان کسی قسم کی عداوت یا رنجش نہیں تھی، بلکہ ان کے درمیان باہم محبت و الفت کا رشتہ تھا۔ بے شک تمام صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کا ادب و احترام اور محبت و مودت عین ایمان ہے۔ دونوں میں سے کسی ایک کو بھی چھوڑنا بالواسطہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (کو چھوڑنا اور آپ) کی شان میں گستاخی ہے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT