Thursday , November 15 2018
Home / Top Stories / صحافی جمال خشوگی کا قتل ‘ظالمانہ منصوبہ بندی کا نتیجہ : ترکی

صحافی جمال خشوگی کا قتل ‘ظالمانہ منصوبہ بندی کا نتیجہ : ترکی

حقائق کو چھپانے کی کوششوں کا الزام ۔ تمام قیاس آرائیاں مسترد۔ برسر اقتدار پارٹی کا ادعا
انقرہ 21 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سعودی صحافی جمال خشوگی کا استنبول کے سعودی قونصل خانہ میں قتل کی ظالمانہ انداز میںمنصوبہ بندی کی گئی تھی ۔ ترکی کی برسر اقتدار پارٹی کے ترجمان نے آج یہ بات کہی ۔ پہلی مرتبہ یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ ترکی کے خیال میں اس قتل کا منصوبہ پہلے سے طئے کرلیا گیا تھا ۔ جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے ترجمان عمر سیلک نے انقرہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی ظالمانہ انداز کی منصوبہ بندی تھی اور ہم کو ایک ایسی صورتحال کا سامنا ہے جس میں اس سب کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی پیچیدہ قتل ہے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ترکی کی حکومت کسی قیاس آرائی کا شکار نہیں ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ اس پر دوسرے قیاس آرائی کرسکتے ہیں لیکن ترکی نہیں کرسکتا ۔ انہوں نے اس مسئلہ پر ترکی اور سعودی عرب کے مابین سودے بازی کے دعووں کو مسترد کردیا اور اسے غیر اخلاقی قرار دیا ۔ سعودی عرب نے ہفتہ کو کہا تھا کہ جمال خشوگی استنبول کے قونصل خانہ میں ایک اچانک پھوٹ پڑے جھگڑے میں ہلاک ہوگیا تھا ۔ سعودی عرب کے اعتراف سے قبل ترکی نے ادعا کیا تھا کہ اس قتل میں ان 15 سعودی شہریوں کا رول ہوسکتا ہے جو اسی دن دو پروازوں کے ذریعہ ترکی پہونچے تھے ۔ سعودی عرب نے اس دعوی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جن 15 افراد کے نام ظاہر کئے جا رہے ہیں ان میں سے ایک کا ایک سال قبل ہی انتقال ہوچکا ہے ۔ ترکی کی موافق حکومت میڈیا میں کہا جارہا ہے کہ اس دن قونصل خانہ میں جو کچھ ہوا ہے اس کے ویڈیو اور آڈیو ثبوت موجودد ہیں۔ یہ ادعا کیا جا رہا ہے کہ سعودی صحافی کو قونصل خانہ میں ایذا دیتے ہوئے قتل کردیا گیا اور اس کی نعش کو ٹھکانے لگادیا گیا ہے ۔ مسٹر عمر سیلک نے سی این این کے ایک سی سی ٹی وی فوٹیج کا حوالہ دیا جس میں ادعا کیا گیا ہے کہ ایک سعودی عہدیدار جمال خشوگی کا بھیس اختیار کرتے ہوئے سفارتخانہ سے باہر نکل گیا ہے ۔ ترکی نے تاہم ایسے کسی ویڈیو کی تردید کی ہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT