Friday , December 15 2017
Home / مذہبی صفحہ / صحبت میں تاثیر کی صلاحیت ہے

صحبت میں تاثیر کی صلاحیت ہے

قرآن و حدیث اور سیرت کی روشنی میں صوفیائے کرام نے صحبت کو طریقت میں لازمی قرار دیا ہے ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے صحبت میں تاثیر کی بڑی صلاحیت رکھتی ہے ۔ صحبت خواہ اچھی ہو یا بری اثر ضرور کرتی ہے ۔ اخلاق و عادات غیرمحسوس طریقے سے ساتھی میں منتقل ہوتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے بڑی خوبصورت مثالوں سے اچھی اور بری صحبت کے اثرات کو واضح فرمایا ہے : ’’اچھے اور بُرے ساتھی کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی مشک بردار ہو اور کوئی بھٹی دھونکنے والا ، چنانچہ مشک بردار تم کو مشک دے گا یا تم خود اس سے خریدو گے یا پھر کم از کم اس سے تم کو خوشبو ملے گی ، لیکن بھٹی دھونکنے والا تمہارے کپڑے جلادے گا یا پھر تم اس سے ناگوار بو ہی پاؤ گے ‘‘۔ (متفق علیہ )
اہل را صحبتِ نا اہل زیاں با دارد
آب در کوزۂ ناپختہ گل آلود شود
( لائق لوگوں کے لئے نالائقوں کی صحبت میں کئی نقصانات ہیں ، کچے اور ناپختہ مٹی کے پیالے میں پانی مٹی سے آلودہ ہوجاتا ہے ) ۔
اﷲ رب العزت کا ارشاد ہے: اپنے آپ کو ان لوگوں سے وابستہ رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو اس کی رضا جوئی کی خاطر پکارتے ہیں ۔ (کہف ۱۸:۲۸) اسی طرح اﷲ تعالیٰ کا ایک اور ارشاد یہ بھی ہے : مسلمانو ! اﷲ سے ڈرتے رہو اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو ۔ (توبہ ۹:۱۱۹)

اسی لئے رسول اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے فرمایا ہے آدمی اپنے دوست کی روش پر ہوتا ہے لہذا تم میں سے ہر ایک کو یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کس سے دوستی کررہا ہے ۔ ( ابوداؤد ، ترمذی) ۔ اسی طرح آپﷺ نے ابورزینؒ سے فرمایا : کیا میں تمہیں دین کی بنیاد اور اس کا خلاصہ نہ بتاؤں جس کے ذریعہ تم دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل کرسکتے ہو ؟ ذکر اور یاد الٰہی کرنے والوں کی مجالس میں بیٹھا کرو اور جب تنہائی ہو تو جہاں تک ہوسکے ذکر الٰہی سے اپنی زبان کو متحرک رکھو اور کسی سے محبت کرو تو اﷲ ہی کے لئے کرو اور کسی سے بغض رکھو تو اﷲ ہی کے لئے رکھو ، اور ابورزین ! کیا تمہیں پتا ہے کہ جب آدمی اپنے بھائی سے ملاقات کیلئے گھر سے نکلتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اس کے پیچھے چلتے ہیں اور سب کے سب اس کے لئے دعا کرتے ہوئے کہتے ہیں ، یارب ! اس نے تیری وجہ سے تعلقات قائم رکھے ہیں ، تو اس کو جوڑ دے ، اگر تم خود کو اس کام میں لگاسکو اور اس پر عمل کرسکو تو ضرور کرنا ( بیہقی ) ۔ یہاں مجالس سے مراد اولیاء اﷲ ، بزرگان دین ، علماء کرام اور واعظین کی مجلسیں ہیں۔
حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : توبہ کرنے والوں اور اﷲ کی طرف بکثرت رجوع ہونے والوں کی مجلسوں میں بیٹھا کرو اس لئے کہ ان کے دل بہت نرم ہوتے ہیں یعنی مطلب یہ ہے کہ ان کی صحبت کی وجہ سے تمہارے دل بھی نرم ہوجائیں گے ۔

حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اپنے صاحبزادے حضرت حسن رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : بیٹے! دین کا جوہر اور اس کی بنیاد اہل تقویٰ کی صحبت ہے اور ابودردا رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : اہل علم کی صحبت میں بیٹھنا سمجھ داری اور عقل مندی کی علامت ہے ۔
اسی لئے کہا گیا ہے کہ …صحبت صالح ترا صالح کند ، صحبت طالح ترا
طالح کند … نیک اور صالح آدمی کی صحبت تم کو بھی نیک اور صالح بنادے گی اور برے آدمی کی صحبت تم کو بھی بُرا آدمی بنادے گی ۔ خوب یاد رکھو اچھی صحبت برے سے برے انسان کو بھی صالح ، نیک اور بڑے سے بڑے مجرم کو بھی متقی اور پرہیزگار بنادیتی ہے ۔ جب کہ بری صحبت ، شریف زادوں ، علماء اور بزرگوں کی اولاد کو اور ان سے نسبت رکھنے والوں کو بھی غلط راستہ پر ڈال دیتی ہے ۔ کیوں کہ اﷲ تعالیٰ نے صحبت میں تاثیر کی اور انسانی فطرت میں تاثر کی صلاحیت رکھی ہے ۔ انسان حسن و جمال سے بھی متاثر ہوتا ہے اور فضل و کمال سے بھی ، عادات و اطوار سے بھی متاثر ہوتا ہے اور اچھے اور برے کردار سے بھی ۔ دیکھو ! نوح علیہ السلام کا بیٹا بری صحبت میں پڑکر کافروں میں سے ہوگیا  ؎
پسرِ نوح بابداں بنشست
خاندانِ نبوتش گم شد
صحابہ کرام کا مقام اور مرتبہ انبیاء کرام کے بعد خیرالخلائق کیوں قرار پایا ؟ اس لئے کہ ان کو اُس انسان کامل کی صحبت میسرآئی تھی جس کی صحبت سے زیادہ اچھی صحبت کا دنیا میں کہیں بھی اور کبھی بھی وجود نہیں رہا اور اسی لاجواب اور اعلیٰ ترین صحبت کی وجہ سے ان کا لقب ’صحابہ‘ یا ’اصحاب النبیؐ‘ قرار پایا ۔ یہ صحابہ خیرالخلائق تھے ان سے زیادہ اچھا طبقہ ، انبیاء کے بعد طبقات انسانی میں آج تک پیدا نہیں ہوا اور نہ قیامت تک کبھی ہوگا ۔ صحبتِ رسولؐ ہی کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ نے ان کا ذکر قرآن کریم میں رسول اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کے ذکر کے ساتھ ہی کیا ہے اور حضورؐ کے ساتھیوں کی حیثیت ہی سے کیا ہے ۔

محمد صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم اﷲ کے رسول ہیں اور جو ان کے ساتھی ( صحابہ ) ہیں وہ کفار کے مقابلہ میں بڑے جری ، بے باک اور طاقتور ہیں اور آپس میں بڑے رحم دل ہیں ، اﷲ کے فضل و رضا کی تلاش میں تم ان کو بارگاہ خداوندی میں کبھی جھکے ہوئے اور کبھی سجدہ ریز دیکھتے ہو ۔ ان کے چہروں پر ان کے ایمان و تقویٰ کے اثرات نمایاں ہیں ، اُن کی ان صفات کاتدکرہ توریت اور انجیل میں بھی ہے ۔ ان کی مثال ایسی ہے : جیسے ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی ، پھر اس کو تقویت دی ، پھر وہ گدرائی ، پھر اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی ۔ اب یہ لہلہلاتی کھیتی کاشتکار کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گئی لیکن اس کے دشمن ( کفار) اسے دیکھ دیکھ کر جلے جارہے ہیں ۔(فتح ۴۸:۲۹)
ایک بات یاد رکھو اشداء کا مطلب تشدد کرنے والے نہیں بلکہ اس کا مطلب ہے کفار کے مقابلے میں اتنے بہادر اور جری ہیں جیسے پتھر کی چٹان جس کو ٹس سے مس نہیں کیا جاسکتا ، انھیں رام کرنا ممکن نہیں ، وہ موم کی ناک نہیں ہیں کہ کافر ان کو جس طرح چاہیں موڑ لیں۔ اقبالؔ نے اس بات کی خوب ترجمانی کی ہے   ؎
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
شدت کے لغوی معنیٰ ہیں قوت اور دل کا مضبوط ہونا ، اور شدید کے معنیٰ شجاع ، بہادر اور طاقتور کے ہیں ، ظلم و زیادتی اور تشدد کرنے والے کے ہرگز نہیں ہیں اور کھیتی کی تشبیہ بھی خوب ہے ، کھیتی کو لہلہلاتا دیکھ کر کاشتکار بھی خوش ہورہے ہیں ، ان کے دوست بھی خوش ہورہے ہیں اور دشمن جل رہے ہیں ۔ پہلے بھی جلتے تھے ، اب بھی جلتے ہیں قیامت تک جلتے رہیں گے بلکہ قیامت کے بعد بھی عالم آخرت میں دوزخ میں جلتے رہیں گے ۔ اﷲ نے ان کی قسمت میں سینہ کوبی ، رونا اور جلنا ہی لکھا ہے ۔ نوشتۂ تقدیر کو کون بدل سکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT