Wednesday , January 17 2018
Home / مذہبی صفحہ / صحت اسکیم کیلئے قیمت اور مال کے تعین کی صراحت ہو

صحت اسکیم کیلئے قیمت اور مال کے تعین کی صراحت ہو

حضرت مولانامفتی محمد عظیم الدینمفتی جامعہ نظامیہ

حضرت مولانامفتی محمد عظیم الدینمفتی جامعہ نظامیہ

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مسلمانوں میں پس اندازی کی عادت ڈالنے اور تجارت میں فروغ کی خاطر سو {۱۰۰} ارکان پر مشتمل ایک اسکیم کا آغاز اس طرح کیا کہ ہر ممبر کو ماہانہ پچاس روپیئے {۵۰} ادا کرنا ہوگا، جسکی ادائی بارہ ماہ تک ضروری ہوگی۔ البتہ ہر ماہ قرعہ اندازی بھی ہوگی اور قرعہ میں جس ممبر کا نام یا نمبر نکلے اسکو آئندہ اقساط ادا کئے بغیر چھ سو {۶۰۰} روپیئے مالیت کا مال دیا جائے گا۔ اور جن کا نام یا نمبر نہ نکلے انکے بارہ ماہ کی مدت کے اختتام پر چھ سو {۶۰۰} روپیئے کی مالیت کا مال دیا جائیگا۔
کیا یہ اسکیم ازرئے شرع شریف جائز ہے یا نہیں ؟ بینوا تؤجروا
جواب : صورت مسئول عنہا میں جو اسکیم بتلائی گئی ہے وہ ’’جوا‘‘ ہے اور ناجائز ہے۔ نیز صحت بیع کیلئے لازمی ہے کہ قیمت اور مال کا تعین و صراحت ہوجائے، یہ چیز یہاں نہیں پائی جاتی اس لئے اسکو تجارت بھی نہیں کہا جاسکتا۔ درمختار بر حاشیہ ردالمحتار جلد ۴ {وشرط لصحتہ معرفۃ قدر} مبیع و ثمن۔
حاملہ و غیر حاملہ بیوہ کی عدت
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورت شوہر کے انتقال کے کتنے دن بعد دوسرا عقد کرسکتی ہے ؟ بینوا تؤجروا
جواب : صورت مسئول عنہا میں عورت شوہر کے انتقال کے وقت حاملہ ہو تو وضع حمل کے بعد دوسرا عقد کرسکتی ہے اگر غیر حاملہ ہو تو عدت وفات چار ماہ دس یوم کے بعد دوسرا عقد کرسکتی ہے جیسا کہ شرح الوقایہ جلد دوم کے باب العدۃ ص ۱۴۶ میں ہے : وللموت اربعۃ الشھر وعشرا … وللحامل الحرۃ او الامۃ وان مات عنہا صبی و ضع حملھا۔
متروکہ
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا انتقال ہوا ورثاء میں ایک بیوی، دولڑکے اور تین شادی شدہ لڑکیاں موجود ہیں۔ ایسی صورت میں متروکئہ زید کی تقسیم ان پر کس طرح ہوگی ؟
جواب : صورت مسئول عنہا میں تمام متروکئہ زید مرحوم سے بعد وضع مصارف تجہیز و تکفین وادائی دیون و زرمہر زوجہ و اجرائی وصیت درثلث مابقی جو کچھ رہے اس کے آٹھ حصے کرکے بیوی کو ایک، دونوں لڑکوں سے ہرایک کو دو دو اور تینوں لڑکیوں سے ہرایک کو ایک ایک حصہ دیا جائے۔
صحن مسجد میں تعمیر ملگی درست نہیں
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جمعہ، متبرک راتوں اور رمضان شریف میں جبکہ مصلیوں کی کثرت ہوتی ہے صحنِ مسجد میں تخمیناً چودہ سال سے نماز باجماعت ہوتی ہے۔
ایسی صورت میں مذکورہ صحنِ مسجد میں ملگی تعمیر کرکے مسجد کی آمدنی میں اضافہ کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟
جواب : صورت مسئول عنہا میں صحن مسجد کے حکم میں ہے، اُس کے کسی بھی حصہ کو مسجد سے خارج کرکے ملگی کی تعمیر شرعاً جائز نہیں، خواہ وہ ملگی کی آمدنی ضروریات مسجد کے لئے ہی صرف کرنا مقصود کیوں نہ ہو۔ عالمگیری جلد دوّم ص ۴۶۲ میں ہے : قیم المسجد لا یجوز لہ أن یبنیٰ حوانیت فی حد المسجد أو فی فنائہ لأن المسجد اذا جعل حانوتا و مسکنا تسقط حرمتہ وھذا لا یجوز والفناء تبع المسجد فیکون حکمہ حکم المسجد کذا فی محیط السرخسی۔
فقط واﷲ تعالٰی أعلم

TOPPOPULARRECENT