Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / صحت سے متعلق خبروں کی نمایاں اہمیت

صحت سے متعلق خبروں کی نمایاں اہمیت

عوام میں شعور بیدار کرنے اور منفی معلومات کی فراہمی سے گریز کی ضرورت
حیدرآباد۔21ستمبر(سیاست نیوز) صحت کے متعلق صحافتی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور عوام پر شحت کی خبروں کے ہونے والے اثرات کو محسوس کرتے ہوئے ان خبروں کی اشاعت کے سلسلہ میں محتاط طریقہ کار اختیار کرنے علاوہ عوامی شعور کو اجاگر کرنے والی خبروں کو مناسب جگہ اخبارات میں فراہم کی جانی چاہئے ۔ یونیسیف اور رائیٹرس کے زیر اہتمام دہلی میں منعقدہ سہ روزہ ورکشاپ کے دوران یونیسیف کے ذمہ داروں کے علاوہ سینیئر صحافیوں نے ملک بھر کی صحافیوں کو صحت سے متعلق رپورٹ پر خصوصی توجہ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے صحت عامہ کے متعلق کسی بھی رپورٹ کی اشاعت سے قبل کے حقائق کا پتہ ضرور چلائیں کیونکہ ان کی خبرعوام میں شعور اجاگر کرنے کے بجائے ان میں خوف و سراسمیگی پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے اسی لئے اس طرح کی خبروں کی تحقیق کرنا لازمی ہے جو عوام پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے ۔یونیسیف کی عہدیدار محترمہ سونیا سرکار کے علاوہ اس سہ روزہ ورکشاپ سے محترمہ آرتی ڈہار ‘ جناب مظفر حسین غزالی ‘ جناب سنجے ابھگیان‘ جناب اجئے چوہان کے علاوہ دیگر نے اپنے خطاب کے دوران 5َٓ َّّٓٓ سال سے کم عمر بچوں کو دیئے جانے والے ٹیکوں کی اہمیت اور اس میں موجود قوت مدافعت کے علاوہ ماں کی دودھ کی تاثیر کے متعلق واقف کروایا۔ سہ روزہ ورکشاپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران محترمہ سونیا سرکار نے کہا کہ صحت سے متعلق خبروں کی اشاعت میں عدم معلومات کی بناء پر کی جانے والی معمولی غلطیوں کے جومنفی اثرات صحت عامہ پر مرتب ہو رہے ہیں ان کے سبب عوام میں پیدا ہونے والی سنسنی کو محسوس کرتے ہوئے یونیسیف نے ایک ایسا نصاب تیار کیا ہے جس میں صحت کے متعلق رپورٹ تیار کرنے والے صحافیوں کو تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ صحت عامہ سے متعلق کسی بھی رپورٹ کی اشاعت کے دوران چند ضروری معلومات کو نظر میں رکھتے ہوئے خبریں تحریر کریں تاکہ ان کی خبروں کے سماجی صحت پر مثبت اثرات کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ عوام میں لاشعوری کے سبب ٹیکہ اندازی کے علاوہ صحت سے متعلق دیگر امور پرعدم توجہی صحتمند معاشرہ کی تشکیل میں اہم رکاوٹ ہے اسی لئے عوام یں شعور اجاگر کرنے کے لئے ضروری ہے کہ صحافی اپنی ذمہ داری ادا کریں۔ اس سہ روزہ ورکشاپ کے دوران ٹیکہ اندازی اور اسکولوں میں فراہم کئے جانے والی ادویات کے عدم استعمال کے متعلق عوام میں شعور کی کمی کے علاوہ حمل کے دوران ماں اور بچے کو درپیش مسائل اور ان کی صحت کو بہتر بنانے کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ مسٹر سنجے ابھگیان ایڈیٹر امر اجالہ نے بتایاکہ صحافتی ذمہ داری حقائق کو منظر عام پر لانا ہے لیکن رفتار اور سب سے پہلی خبر کے نام پر افواہ معاشرہ پر منفی اثرات کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی لئے صحت کے متعلق خبر کی صحت کا جائزہ لینے کے بعد ہی اس کی اشاعت کے متعلق فیصلہ کیا جانا چاہئے۔ محترمہ آرتی ڈہار نے بتایا کہ ملک میں صحت کے متعلق شعور بیداری کے سلسلہ میں کئی ادارے کام انجام دے رہے ہیں اور یونیسیف بھی سرکاری اداروں کے ساتھ ملکر کر صحت عامہ بالخصوص بچوں کی صحت پر خصوصی توجہ دیئے ہوئے ہے۔ انہوں نے عام طور پر صحت کے متعلق سروے رپورٹس میں کی جانے والی غلطیوں کی جانب سے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کچھ اداروں کی جانب سے چھوٹے سروے کئے جاتے ہیں لیکن ان کی خبریں دانستہ یا نا دانستہ طور پر بڑی شائع ہوجاتی ہیں جو کہ عوام کے مفاد میں نہیں ہوتی اورقاری خبر کے اخبار میں شائع ہونے کی بنیاد پر اپنا فیصلہ کرنے لگتا ہے۔ مسٹر اجئے چوہان نے کہا کہ ہندستانی ذرائع ابلاغ میں صحت کیلئے جگہ کم مختص کی جاتی ہے لیکن اس میں بھی اگر بے بنیاد خبروں کے علاوہ تشہیری خبروں کی اشاعت ہونے لگ جائے تو اس کا عوام کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ صحت سے متعلق خبروں کو مفاد عامہ کی نظر سے دیکھا جانا چاہئے ۔ جناب مظفر حسین غزالی نے سہ روزہ ورکشاپ کے دوران مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت کی صحت کے متعلق شعور بیداری مہم ہو یا پھر یونیسیف جیسے اداروں کی مہم ہو ان کو عوام تک پہنچانے میں ذرائع ابلاغ ادارو ںکا کلیدی کردار ہوتا ہے اور اس میں اردو اور ہندی ذرائع ابلاغ اداروں کو اپنی ذمہ داری نبھانی چاہئے ۔ورکشاپ کے دوران دہلی کی تنظیم شکھر کے ذمہ دار ڈاکٹر سوری نے بھی ورکشاپ میں موجود صحافیوں سے خطاب کیا۔

TOPPOPULARRECENT