Friday , November 24 2017
Home / مضامین / صدارتی انتخابات کی مہم اور ڈونالڈ ٹرمپ

صدارتی انتخابات کی مہم اور ڈونالڈ ٹرمپ

غضنفر علی خان
دنیا بھر میں سب سے زیادہ پسند کی جانے والی جمہوریت امریکہ ہی کی کہی جاتی ہے ۔ اس لئے کہ یہاں جمہوری اقدار ، روایات اور جمہوریت کی مخصوص تہذیب کا بڑا پاس و لحاظ رکھا جاتا ہے ۔ اس سال ماہ نومبر میں وہاں صدارتی انتخابات ہورہے ہیں ۔ دونوں بڑی پارٹیوں ری پبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے متوقع صدارتی امیدوار اپنی قسمت آزمارہے ہیں لیکن جس انداز میں ری پبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میں حد درجہ اصول شکنی کی ہے ، اسکی مثال نہیں مل سکتی ۔ ڈونالڈ ٹرمپ رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کرتے ہیں ، اس لحاظ سے وہ ہر چیز کو نفع و نقصان کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ وہ یہ سمجھ ہی نہیں سکتے کہ انتخابی مہم تو چند ماہ کے بعد ختم ہوجائے گی لیکن انھوں نے اسکے دوران جو بکواس کی ہے اس کے مضر اثرات امریکہ اور ساری دنیا پر کیا پڑیں گے ۔ وہ یہ سمجھ کر انتخابات لڑرہے ہیں کہ وہ ناقابل تسخیر امیدوار ہیں ۔ حالانکہ یہ ان کی خام خیالی ہے ۔ اپنی ہر تقریر کے دوران انھوں نے ثابت کردیا کہ وہ نہ تو امریکی عوام کا مزاج سمجھتے ہیں اور نہ ان کی بات سے خود امریکہ کو ہونے والے نقصانات ہی کا ان کو اندازہ ہے ۔ امریکہ میں  صدارتی انتخابات میں صدر کا راست انتخاب ہوتا ہے اور امریکی دستور کے مطابق کوئی شخص امریکہ کا صدر دو مرتبہ سے زیادہ بار عہدہ حاصل نہیں کرسکتا ۔ ان انتخابات میں جس سنجیدگی اور بالغ نظری کی ضرورت ہے اس کا ساری مہم کے دوران ٹرمپ نے مظاہرہ نہیں کیا ۔ اپنی اسلام دشمنی کا بھرپور اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہ کہ امریکہ میں مسلمانوں کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہئے ۔ جس کے واضح معنی یہ ہیں کہ اگر وہ صدر منتخب ہوجائیں تو اپنے ملک میں مسلمانوں کی آمد اور ان کی رہائش پر پابندی لگائیں گے ۔ ایک بات غور طلب ہے کہ کیوں ٹرمپ خاص طور پر مسلمانوں سے اپنی عداوت کا اس قدر کھل کر مظاہرہ کررہے ہیں ۔ حالانکہ ان ہی کی ری پبلکن پارٹی کے دوسرے صدارتی امیدواروں نے کبھی ایسی بات نہیں کہی جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جس مسلم دشمنی کا مظاہرہ ٹرمپ کررہے ہیں وہ ری پبلکن پارٹی کی پالیسی نہیں بلکہ خود ٹرمپ نے اپنے طور پر مسلمانوں کی مخالفت کو انتخابی موضوع بنایا ہے ۔ اس کی وجہ ان کے علاوہ اور کوئی نہیں سمجھ سکتا ۔

کیونکہ دنیا کے مختلف ممالک سے امریکہ آنے اور بس جانے والے افراد میں عالم اسلام کے افراد کی بھی خاصی بڑی تعداد ہے ۔ ایک محتاط اندازہ کے مطابق امریکہ میں 40 تا 60 لاکھ مسلمان آباد ہیں ، انھیں کیوں ٹرمپ امریکہ کا دشمن سمجھتے ہیں ، اسکی کوئی معقول وجہ نہیں ہے ۔ انھیں اس بات کا بھی قطعی کوئی اندازہ نہیں ہے کہ اقوام عالم میں دوسری سب سے بڑی قوم مسلمان ہے اور یہ صرف امریکہ نہیں بلکہ سارے براعظم یوروپ میں آباد ہے۔ اگر مسلمان امریکہ کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتے تو اتنے طویل عرصہ تک وہاں ان کی بود و باش کیسے ہوسکتی تھی ۔ ان کے برخلاف موجودہ صدر بارک اوباما نے یہ اعتراف کیا ہے کہ امریکہ میں آباد مسلمانوں نے امریکہ کی زبردست خدمت انجام دی ۔ اس میں شک نہیں کہ عیسائی دنیا کی سب سے بڑی آبادی ہے لیکن اس دنیا کی دوسری بڑی آبادی پر اتنی بیہودہ تنقید امریکہ کے معاشی اور سیاسی مفادات کے لئے مہنگا سودا ثابت ہوگا ۔ ٹرمپ کے پیش نظر صرف صدارتی انتخابات ہیں وہ سمجھ رہے ہیں کہ ان انتخابات کے بعد وہ امریکہ کے بے تاج بادشاہ ہوجائیں گے ۔ پہلی بات تو یہ ہیکہ ٹرمپ اگر پرائمری انتخابات میں کچھ کامیابی حاصل کرلیتے ہیں تب بھی اصل صدارتی مقابلہ میں ان کی جیت غیر  یقینی ہے ۔

ٹرمپ سے سارا امریکہ اس وقت سخت تشویش میں مبتلا ہے کہ یہ کیا صدارتی امیدوار ہے جو امریکہ کے قومی مفادات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اپنی مہم چلارہا ہے ۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی صف اول کی صدارتی امیدوار ہلاری کلنٹن ان کے مقابلہ میں زیادہ سنجیدہ اور اعتدال پسند معلوم ہورہی ہیں ۔ ہلاری کا تعلق امریکہ کے مشہور سیاسی گھرانے کلنٹن سے ہے ، خود ان کے شوہر بل کلنٹن دو مرتبہ امریکہ کے صدر رہ چکے ہیں ۔ ہلاری امریکہ کی وزیر خارجہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکی ہیں ۔ مختلف عالمی نوعیت کے مسائل پر ہلاری کی نظر ہے وہ عالمی سیاست کے نشیب و فراز، سیاہ و سفید کو خوب سمجھتی ہیں اور ان میں فرق کرنے کے فن سے بھی واقف ہیں ۔ امریکی عوام یہ سوچ رہے ہیں کہ کیسے کوئی ایسا شخص جس کو بین الاقوامی سیاست کا کوئی تجربہ نہیں ، جو عالمی سیاسی منظر سے واقف نہیں ، امریکہ کا صدر بن سکتا ہے ۔ یہ بات بڑے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ عالمی سیاسی بساط پر ایک معمولی اور ناتجربہ کار شخص ثابت ہوں گے ۔ امریکہ کا صدر صرف اپنے ملک کا سربراہ نہیں ہوتا بلکہ دنیا کے ہر مسئلہ میں امریکہ کا عمل دخل ہوتا ہے ۔ امریکہ دنیا کے سیاسی افق پر حاوی رہنے والا ایک طاقتور ملک ہے ۔ ان تمام حقائق سے نابلد ٹرمپ صرف اپنی ذاتی دولت کے بل بوتے پر انتخابات لڑرہے ہیں ۔ انھیں شکست ہوتی ہے یا فتح ایک علحدہ بحث ہے ، لیکن جن تخریب کارانہ مسائل کو انھوں نے اٹھایا ہے وہ دیر تک امریکہ کی مسلمہ حیثیت کے لئے چیلنج بن جائیں گے ۔ بارک اوباما کو ٹرمپ کے ہارنے کا یقین ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ بارک اوباما جانتے ہیں کہ ایک تسلیم شدہ بڑی طاقت ہونے کی وجہ سے امریکہ کو کسی بھی مسئلہ پر کیا کہنا اور کب کہنا چاہئے ۔ انھیں اندازہ ہوگیا ہے کہ ٹرمپ امریکی عوام کی نبض ٹٹولے بغیر امریکی عوام کے احتجاجی مزاج کو سمجھے بغیر لایعنی بکواس کررہے ہیں ۔

اور اس کی قیمت انھیں انتخابات میں چکانی پڑے گی ۔ ٹرمپ نے مہم کے دوران جو باتیں کہی ہیں وہ امریکہ کے منتخب ہونے والے صدر کے لئے ایک ناخوشگوار وراثت ثابت ہوگی کیونکہ اس کے اثرات ساری دنیا اور خاص طور پر عالم اسلام پر مرتب ہورہے ہیں ۔ ٹرمپ نے اگر کچھ کیا ہے تو یہ کہ ’’انھوں نے دنیا کی نظر میں اپنے ملک کو چھوٹا بنادیا ہے  ۔اس کے وقار کو متاثر کردیا ہے ۔ ہر عالمی مسئلہ پر امریکہ کا موقف صحیح نہیں ہوتا ہے لیکن صحیح نہیں ہونے کے باوجود اہم ضرور ہوتا ہے ۔ ٹرمپ نے امریکہ کی ساری تاریخ میں ایک ایسے شخص کا رول ادا کیا ہے جس کی وجہ سے امریکہ کا موقف متاثر ہوگا ۔ ابراہم لنکن سے لیکر صدر رچرڈ نکسن اور ان کے جانشین نے انتخابی مہم میں ایسی اخلاقی گراوٹ کا مظاہرہ نہیں کیا تھا جس کا ڈونالڈ ٹرمپ کررہے ہیں ۔ امریکہ کا عالمی موقف داؤ پر لگا ہوا ہے ۔ گرچہ ٹرمپ کی کامیابی کی امید کم ہے لیکن اگر وہ کامیاب ہوجاتے ہیں (خدانخواستہ) تو دنیا کی سیاسی بساط پر امریکہ کو از سر نو اپنے وجود کا جائزہ لینا ہوگا ۔ کسی بڑی قوم کو مائل بہ زوال کرنے کے لئے ایک ہی شخص کافی ہوتا ہے ۔ یہ انتخابات دراصل امریکہ کے احتجاجی مزاج ، اسکی سنجیدگی ، معاملہ فہمی کی کڑی آزمائش ثابت ہونگے ۔ امریکی قوم اس وقت ایک دوراہے پر کھڑی ہے ، جہاں اس کو یہ ثبوت دوبارہ فراہم کرنا پڑے گا کہ آیا وہ وسیع النظر اور ساری دنیا میں معزز ملک ہے یا پھر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرح تنگ نظر اور کوتاہ ظرف ملک ہے ۔ امریکی عوام کو اپنے اس اہم تاریخی موقف کو سمجھتے ہوئے ٹرمپ کو ناکام بنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگادینا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT