Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ٹرمپ کا پہلا بیرونی دورہ

صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ٹرمپ کا پہلا بیرونی دورہ

بروسلز میں ناٹو چوٹی کانفرنس میں شرکت ، مودی سے بھی ملاقات متوقع
واشنگٹن ۔ 22 ۔ مارچ : ( سیاست ڈاٹ کام ) : امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ 25 مئی کو بروسلز کا دورہ کریں گے ۔ صدر کے جلیل القدر عہدہ پر فائز ہونے کے بعد یہ ان کا پہلا بیرونی دورہ ہوگا جہاں وہ نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن () کے قائدین سے ملاقات کریں گے ۔ دریں اثناء وائیٹ ہاوس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ صدر موصوف اپنے ناٹو م منصبوں سے ملاقات کے منتظر ہیں تاکہ امریکہ اور ناٹو کے درمیان مستحکم تعلقات کی ایکبار پھر توثیق کی جاسکے جب کہ اس اتحاد کو درپیش دیگر سنگین معاملات بھی بات چیت کا موضوع ہوں گے جن میں سب سے زیادہ توجہ دہشت گردی کے خلاف ناٹو کی لڑائی کی جانب مرکوز کی جائے گی ۔ یاد رہے کہ 20 جنوری کو صدر کے عہدہ کا حلف لینے کے بعد ٹرمپ کا یہ پہلا دورہ بروسلز اور بلجیم ہوگا ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ اپنی انتخابی مہمات کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ ناٹو کو بھی اپنے دفاع کے لیے اپنی جانب سے مناسب قیمت ادا کرنی چاہئے تاہم جنوری میں انہوں نے ناٹو اتحاد کو غیر اہم قرار دیا تھا ۔ اس کے بعد جو ہوا اسے ہم ٹرمپ کی فطرت سے ہی تعبیر کرسکتے ہیں یعنی گدشتہ ہفتہ انہوں نے ایکبار پھر یوٹرن لیتے ہوئے ناٹو کے لیے امریکہ کے بھر پور تعاون کا تیقن دیا ۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے آئندہ ماہ جرمنی کے سفر کا اشارہ بھی دیا ہے جہاں وہ G-20 چوٹی اجلاس میں شرکت کریں گے جہاں عالمی سطح پر دیگر قائدین کے علاوہ وزیراعظم ہند نریندر مودی بھی شرکت کریں گے ۔ واضح رہے کہ نریندر مودی کو جاریہ سال وائیٹ ہاوس میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دی گئی ہے اور ٹرمپ چاہتے ہیں کہ مودی اس میں ضرور شرکت کریں ۔ دوسری طرف مودی نے بھی ٹرمپ کو دورہ ہند کی دعوت دی ہے اور اس طرح دونوں قائدین نے ایکدوسرے کی دعوتوں کو قبول کرلیا ہے اور اب تاریخوں کا تعین باقی ہے ۔ اگر تاریخوں کا تعین نہ ہوسکا تو اس صورت میں G-20 چوٹی کانفرنس ٹرمپ اور مودی ملاقات کا پہلا موقع فراہم کرے گی ۔ ٹرمپ کے ناٹو اجلاس میں شرکت کو اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے کیوں کہ عام طور پر امریکہ کا نیا صدر ہمیشہ اپنے پہلے بیرونی دورہ پر کسی پڑوسی ملک روانہ ہوتا ہے ۔ ناٹو اجلاس میں شرکت کے علاوہ صدر موصوف 12 اپریل کو وائیٹ ہاوس میں سکریٹری جنرل اسٹولن برگ کا بھی خیر مقدم کریں گے جہاں دونوں قائدین قومی اور بین الاقوامی سیکوریٹی کو لاحق چیلنجس سے نمٹنے اتحاد کو مستحکم کرنے کے موضوع پر تبادلہ خیال کریں گے ۔ دوسری طرف وزیر دفاع جیمس میٹس نے پنٹاگان میں اسٹولن برگ سے ملاقات کی جہاں انہوں نے دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی کی حکمت عملی اور افغانستان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ۔ بعد ازاں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسٹولن برگ نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ مصائب کے وقت ، غیر یقینی حالات کے وقت ایک بین الاقوامی نوعیت کے اتحاد کی ضرورت لازمی ہوجاتی ہے جیسا کہ ناٹو ہے کیوں کہ اتحاد کے ذریعہ ہی آج ہمیں درپیش چیلنجس اور غیر یقینی حالات کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوروپ کے لیے ایک مضبوط ناٹو کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ۔ اس سلسلہ میں ہمیں امریکہ کا بھی احسان مند رہنا چاہئے ۔ دو جنگ عظیم اور سرد جنگ نے ہمیں یہ سکھادیا کہ یوروپ اور شمالی امریکہ کے لیے امن اور استحکام کتنے ضروری ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ ناٹو ہمیشہ کی طرح دولت اسلامیہ کے خلاف اپنی لڑائی میں موثر ثابت ہوگی ۔ یاد رہے کہ واشنگٹن میں دولت اسلامیہ اتحاد مخالف بین الاقوامی اجلاس میں شرکت کیلئے عالمی قائدین جمع ہوئے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT