صدرانکل سے انہیں معاف کرنے کی درخواست۔ شبنم کے بیٹے کی ماں سے ملاقات کے بعد

   

انہوں نے کہاکہ ”میری ماں نے تعلیم پر توجہہ مرکوز کرنے کا استفسار کیا۔ میں درخواست کرتاہوں ”صدرانکل“ دوبارہ کے انہیں معاف کردیں“


رامپور(اترپردیش)۔پے در پے قتل کرننے کے جرم میں رام پور کی جیل میں قید شبنم علی کے 12 سالہ بیٹے ماں سے جیل جاکر ملاقات کی۔مذکورہ لڑکا عثمان اپنے سرپرست کے ساتھ کے ساتھ اتوار کے روز45منٹوں کے لئے اپنی ماں سے ملاقات کی۔بعدازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے عثمان نے بتایاکہ ان کی ماں نے تعلیم پر توجہہ مرکوزکرنے کا زوردیا۔

انہوں کہاکہ”میری ماں نے میری تعلیم پر توجہہ مرکوز کرنے کا استفسار کیا۔ میں درخواست کرتاہوں ”صدر انکل‘‘ دوبارہ انہیں معاف کردیں“۔

قبل ازیں سوشیل میڈیا پر ایک تصویر وائیرل ہوئی جس میں یہ لڑکا ہاتھ میں پلے کارڈ پکڑا ہے او رلکھا کہ”صدر انکل میری ماں شبنم کو معاف کردیں“۔

رامپور جیل سپریڈنٹ پی ڈی سالونیا نے کہاکہ”متھرا جیل میں شبنم کو پھانسی دینے کی تیاری کے متعلق خبر انے کے بعد مذکورہ ماں او ربیٹا دونوں ایک دوسرے سے ملنے کے لئے بے چین تھے۔

رام پور جیل میں مذکورہ لڑکا اپنے سرپرست کے ساتھ ہر تین ماہ میں ملاقات کے لئے آتاتھا‘ اتوار کے روز بھی ملاقات کے لئے ائے۔ دونوں کے درمیان 45منٹ تک کی ملاقات لڑکے کے جانے تک جاری رہی“۔

شبنم کو اپنی ہی فیملی کے سات لوگوں کو ماں‘ باپ‘ دو بھائیوں‘ ایک ننداور 10ماہ کے بھتیجے کو اس وقت قتل کردیاجب سلیم سے اس کی تعلقات کی مخالفت کی تھی۔

دونوں نے ملکر بے ہوشی کی دوا پرمشتمل دودھ ان لوگوں کو پلانے کے بعد ساروں کے گلے کاٹ دئے۔ اس وقت شبنم حاملہ تھی۔

مراداباد کی جیل میں ڈسمبر2008 کو اس نے بیٹے کو جنم دیا۔ جب وہ چھ کا ہوا مذکورہ سی ڈبلیو سی امرواہا میں اس کے سرپرست کے حوالے کردیا جو ضلع بلند شہر کے رہائشی تھی۔

آزاد ہندوستان میں پھانسی دی جانے والی شبنم پہلی خاتون ہے