Friday , November 24 2017
Home / اداریہ / صدرجمہوریہ اور وزیراعظم کا خطاب

صدرجمہوریہ اور وزیراعظم کا خطاب

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ کا سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
صدرجمہوریہ اور وزیراعظم کا خطاب
صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے یوم آزادی سے ایک دن قبل اور وزیراعظم نریندر مودی نے یوم آزادی کے جشن کے موقع پر تاریخی لال قلعہ کی فصیل سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستانی عوام کو جن باتوں، حقائق، تلخیوں، خرابیوں اور اچھائیوں کی جانب توجہ دلائی ہے، اس پر غور کیا جائے تو ہندوستان کے موجودہ حالات کے لئے کون ذمہ دار ہے، اس کا اندازہ کرنے میں کوئی تاخیر نہیں ہوگی۔ صدرجمہوریہ نے ازخود یہ بتایا کہ ہندوستان میں اب انتشار پسندانہ طاقتیں سرگرم ہیں جو سارے ہندوستانی معاشرہ کو اپنے ناپاک عزائم سے نقصان پہونچاتی ہیں۔ وزیراعظم مودی نے گاؤ رکھشکوں کے مسئلہ پر حالیہ دو چار دن سے اظہار کرتے ہوئے اپنی پارٹی اور سرپرست تنظیم آر ایس ایس کے نظریہ کی نفی کررہے ہیں تو اس سے عوام کے ذہنوں میں مختلف سوال اُٹھ رہے ہیں۔ لال قلعہ کی فصیل سے وزیراعظم مودی کا یہ تیسرا خطاب ہے۔ ان کی تقریر اور صدرجمہوریہ کے احساسات کے درمیان جو فرق پایا جاتا ہے، اس سے اہل فکر بخوبی واقف ہیں۔ معاشرہ کے اندر ہر ایک طبقہ کو دوسرے طبقہ پر برتری حاصل کرنے کے لئے قانون کو ہاتھ میں لینے ، ملک میں سیکولر کردار کو مسخ کرنے اور جمہوریت کو نقصان پہونچانے کی کھلی چھوٹ ملتی ہے تو دلتوں اور اقلیتوں پر حملوں کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے۔ صدرجمہوریہ نے گاؤ رکھشکوں کی جانب سے دلتوں اور اقلیتوں پر ہونے والے حملوں کے پس منظر میں یہ کہا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے سختی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی بھی یہی خیال رکھتے ہیں مگر یہ سوال ہنوز معلق ہے کہ آخر حکومت کے سربراہ اور سرکاری مشنری کے طرز عمل میں فرق کیوں ہے۔ اگر قانون و نظم و ضبط کی ذمہ داری ادا کرنے والوں نے انتشار پسندانہ اور تقسیم سماج کے عناصر کے سیاسی ایجنڈہ کو نظرانداز کردیا تو پھر ملک میں ہر روز ایسے واقعات کا رونما ہونا کوئی مشکل نہیں ہوگا۔ اگر حکومت اور اس کی مشنری ہی ان انتشار پسند طاقتوں کی پشت پناہی کرتی ہے تو سرزمین ہند پر نت نئے ہنگامے روز دیکھنے کوں ملیں گے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ اس ملک کے حصہ بخرے کرنے کے ایجنڈہ پر عمل پیرا طاقتوں کو کچلا جائے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں اپنی حکومت کے ٹھوس ایجنڈہ کا اعلان کرنے کے ساتھ انتشار پسندوں کو انتباہ دیتے ہوئے سخت کارروائی کا حکم دیتے تو شاید عوام میں آنے والے برسوں میں ملک کے اندر ایک پرامن معاشرہ کے فروغ پانے کی توقع پیدا ہوتی۔ اگرچیکہ وزیراعظم نے ملک کے 70 ویں یوم جشن آزادی کے لئے کئی عنوانات پر شہریوں سے تجاویز طلب کی ہیں تاکہ عوام الناس کی مرضی و منشاء کو ملحوظ رکھ کر ہی حکومت اپنی پالیسی وضع کرسکے۔ عوام سے مقررہ فارمس پر اپنی تجاویز پیش کرنے کی بھی اپیل کی گئی تھی جیسے وزیراعظم نے ’’میری حکومت‘‘ نامی ایک فورم قائم کیا تھا۔ اس کے علاوہ ’’نریندر مودی‘‘ ویب سائٹ بھی کھولا گیا اور اپنے موبائیل ایپ ’’نامو‘‘کو بھی عوام کی آراء حاصل کرنے کے لئے متحرک رکھا تھا۔ ماضی میں وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی حکومت کے کلیدی اقدامات پر اظہار خیال کیا تھا۔ معاشی ترقی اور سماجی پیشرفت کو یقینی بنانے کے پروگرامس وضع کئے گئے تھے۔ این ڈی اے حکومت کے مقبول نعرے ’’میک اِن انڈیا‘‘ نعرہ کو وزیراعظم کی پہلی یوم آزادی تقریب کی تقریر کا اہم حصہ بتایا گیا تھا۔ 2014ء میں کی گئی تقریر اور آج کی تقریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ وزیراعظم سے اپنی حکومت کی بعض کوتاہیوں کا درپردہ اعتراف بھی کرلیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وزیراعظم کی حیثیت سے مودی نے پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میں اہم جی ایس ٹی بل کو منظور کرالینے میں کامیابی حاصل کی اور اس کا سہرا بھی خود اپنے سَر باندھ لیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اس ہندوستانی اُجڑے معاشرہ کو باتوں سے بہلانے کا ہنر حاصل کرلیا ہے۔ صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے ملک کے معاشرہ کی جو تصویر کھینچی تھی، اس کے برعکس مودی کی تقریر دلیل سے عاری تھی۔ اگر وزیراعظم اپنی حکومت کی ڈھائی سالہ کارکردگی کا دیانتدارانہ جائزہ لیتے تو حالات کی نزاکت اور حساسیت کے مطابق فکر صحیح کا اظہار کرتے۔ بہرحال ملک کے دلتوں اور اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کو مستقبل کے جدید گاؤ رکھشک نظام میں کن حالات سے گذرنا پڑے گا، اس کا اندازہ کرتے ہوئے ایک مضبوط شعور کی راہ لینی ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT