Sunday , May 27 2018
Home / دنیا / ’’صدرموصوف، برائے کرم گن کلچر کی روک تھام کیجئے‘‘

’’صدرموصوف، برائے کرم گن کلچر کی روک تھام کیجئے‘‘

: اسکول شوٹنگ :
صدرٹرمپ سے مہلوک طلباء کے سرپرستوں کی اپیل
قوم کے نام خطاب کے دوران ٹرمپ کا
گن کلچر کے تذکرہ سے گریز
پارک لینڈ (یو ایس) ۔ 16 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) فلوریڈا کے ہائی اسکول میں جس سابق طالب علم نے 17 طلباء کو اندھادھند فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا، اس نے اعتراف کیا ہیکہ اس کے پاس ایک نیم آٹو میٹک رائفل تھی جسے چلانے کیلئے اس نے صرف کچھ گھنٹوں کی ہی مشق کی تھی۔ اس نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ رائفل کے علاوہ اس کی پیٹھ پر جو بیگ لدا ہوا تھا اس میں بھی گولیوں کے میگزینس موجود تھے۔ شیریف کے ڈپارٹمنٹ سے جاری کئے گے ایک بیان میں یہ تفصیلات بتائی گئیں۔ حملہ آور نکولس کروز نے تحقیقاتی افسران کو بتایا کہ میریوری اسٹون مین ڈگلس ہائی اسکول میں اس نے جملہ پانچ کلاس رومس کو نشانہ بنایا جن میں سے چار کلاس رومس پہلی منزل پر اور ایک کلاس روم دوسری منزل پر واقع تھی۔ اس نے اپنے ساتھ زائد ہتھیار اور گولہ بارود بھی اپنی پیٹھ پر لاد رکھا تھا تاکہ وقت پڑنے پر ان سے کام لیا جاسکے۔ شیریف اسکاٹ اسرائیل نے یہ بات بتائی حالانکہ فائرنگ کا سلسلہ صرف تین منٹوں تک ہی جاری رہا اور فائرنگ رکتے ہی اسکول اسسٹنٹ دوڑتا ہوا عمارت کی تیسری منزل پر پہنچا اور حملہ آور پر قابو پاتے ہی اس کی AR-15 رائفل زمین پر گرادی اور اس کے پیٹھ پر لدے بیگ کو بھی حاصل کرلیا جس میں ہتھیار اور گولہ بارود بھرا ہوا تھا۔ حیرت کی بات یہ ہیکہ حملہ کرنے کے بعد بھی نکولس کروز انتہائی پرسکون تھا اور وہ راست طور پر وال مارٹ سے متصلہ ایک ریستوران پہنچا اور وہاں سے ٹھنڈا مشروب حاصل کیا اور وہاں سے ایک دیگر ریستوراں میکڈونالڈ پہنچا تاہم وہاں سے نکلنے کے تقریباً 40 منٹ بعد اسے گرفتار کیا گیا۔

حملہ آور کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں اس کے مطابق وہ ایک یتیم تھا جس کی ماں کا گذشتہ سال ہی انتقال ہوا تھا۔ کروز ایک ڈالر اسٹور میں ملازمت بھی کیا کرتا تھا اور بعدازاں اسکول کے ROTC پروگرام کا حصہ بھی رہا جہاں اس نے انسٹا گرام پر ہتھیاروں کی تصاویر بھی اپ لوڈ کی تھی۔ اب تک امریکہ میںکسی بھی اسکول پر کئے جانے والے حملوں میں یہ حملہ بدترین نوعیت کا تھا۔ اس موقع پر جب اسکول کے دیگر طلباء سے بات کی گئی تو وہ ڈرے ہوئے اور سہمے ہوئے تھے۔ وہ اپنے تاثرات کا اظہار کرنے کے موقف میں بھی نہیں تھے۔ ایک 16 سالہ طالبہ کٹرینہ لنڈن نے بتایا کہ جس وقت حملہ ہوا ہماری کلاس میں ریاضی پڑھائی جارہی تھی۔ حملہ آور نے میری بغل میں بیٹھی ہوئی سہیلی کو ہلاک کردیا۔ کلاس میں سناٹا چھا گیا اور ہر طرف بارود کا دھواں پھیلا ہوا تھا۔ جب حملہ آور وہاں سے چلا گیا تو ہم بھی دبے پاؤں باہر نکلے تو دیکھا کہ جگہ جگہ نعشیں پڑی ہوئی ہیں جن میں ہمارے فٹ بال کوچ بھی تھے جو سیکوریٹی گارڈ کے فرائض بھی انجام دیا کرتے تھے۔ زخمی ہونے والے 13 افراد کا ہاسپٹل میں علاج کیا جارہا ہے۔ آج صبح تقریباً 1000 افراد نے اسکول پہنچ کر موم بتیاں جلائیں اور مہلوکین کو خراج عقیدت پیش کیا۔ وہاںموجود لوگوں نے گن کنٹرول کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ’’نومورگنس، نو مورگنس‘‘ کے نعرے بھی لگائے۔ اب تک حکام نے حملہ کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں بتائی ہے البتہ یہ کہا جارہا ہیکہ کروز کو نظم و نسق کی بنیاد پر اسکول سے خارج کردیا گیا تھا اور شاید اس نے انتقامی جذبہ کے تحت یہ واردات انجام دی ہو۔ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے اس حملہ کو ’’ذہنی طور پر بیمار‘‘ لڑکے کی کارستانی قرار دیا۔ دریں اثناء حملہ کے ایک مہلوک طالب علم کی والدہ نے گریہ وزاری کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے کہا کہ برائے مہربانی کچھ کیجئے۔ ہمارے بچوں کو تحفظ کی ضرورت ہے۔ حیرت کی بات یہ ہیکہ قوم کے نام اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے امریکہ میں پائے جانے والے گن کلچر کا تذکرہ ہی نہیں کیا بلکہ ایسی وارداتوں کیلئے ان لوگوں کوموردالزام ٹھہرایا جو ذہنی طور پر بیمار ہیں۔ ایک طالبہ کی والدہ الہدف نے زاروقطار روتے ہوئے صدر ٹرمپ سے اپیل کی کہ وہ ملک میں گن کلچر کے بڑھتے ہوئے رجحان کی روک تھام کیلئے کچھ کریں جس نے اس کی بیٹی کی جان لے لی۔

TOPPOPULARRECENT