Friday , June 22 2018
Home / اداریہ / صدر ایران کا دورہ ہند

صدر ایران کا دورہ ہند

بادل یہ محبت کے کبھی چھٹ نہیں سکتے
ہم راہ ترقی سے کبھی ہٹ نہیں سکتے
صدر ایران کا دورہ ہند
ہندوستان اور ایران کے باہمی تعلقات میں ایک خاص اہمیت ہے۔ یہ ایسے دوست ملک ہیں جو آزمائش کی کسی بھی گھڑی میں آنکھیں بند کرکے ایک دوسرے پر اعتماد کرسکتے ہیں۔ سفارتی و ثقافتی معاملات کے علاوہ اقتصادی حوالے سے بھی ان تعلقات کی بے پناہ اہمیت اور افادیت ہے۔ صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی کا سہ روزہ دورہ ہند اور حیدرآباد میں علماء، مشائخین اور دانشوروں سے خطاب، تاریخی مکہ مسجد میں مسلمانوں سے خطاب کی خصوصیات پر رتوجہ دی جائے تو انہوں نے ساری دنیا میں رونما ہونے والے موجودہ حالات اور مغربی دنیا کا اسلام دشمن رویہ کے حوالے سے ان کے خیالات اور تجاویز و مشورے وقت کی نزاکت کی عکاسی کرتے ہیں۔ عالم اسلام میں اختلافات مناسب نہیں اس لئے انہوں نے مسلم ممالک کو کلمہ طیبہ کی بنیاد پر متحد ہوکر اسلام دشمن طاقتوں کا مقابلہ کرنے کی اپیل کی۔ حیدرآباد اور ایران کے روابط دیرینہ ہیں اس بات کا ادعا صدر ایران نے فخریہ طور پر کیا ہے۔ ہندوستان کے ساتھ ایران کے روابط دونوں ملکوں کی داخلی و خارجی پالیسیوں کو تقویت پہنچاتے رہے ہیں۔ صدر ایران کا یہ دورہ تقریباً ایک دہے کے وقفہ کے بعد ہوا ہے۔ سابق میں صدر خاتمی نے 2003ء میں دورہ کیا تھا۔ صدر احمدی نژاد 2008ء میں ٹرانزٹ ویزٹ پر ہندوستان پہنچے تھے۔ اسی مدت کے دوران ہندوستان سے بھی وزرائے اعظم کی سطح پر دو دورے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم منموہن سنگھ نے 2012ء میں نام چوٹی کانفرنس میں شرکت کرتے ہوئے ایرانی قیادت سے باہمی ملاقات کی تھی۔ وزیراعظم نریندر مودی نے 2016ء میں تہران کا دورہ کیا تھا۔ اس وقت عالمی سطح پر جو تبدیلیاں آئی ہیں خاص کر اس خطہ میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کے درمیان صدر ایران حسن روحانی کا دورہ وزیراعظم نریندر مودی کے ملاقات کی خصوصی اہمیت ہے۔ صدر ایران کا دورہ ہند ایک ایسے وقت ہوا جب یمن میں کشیدگی۔ جنگ جیسی صورتحال ہے۔ سعودی عرب اور قطر کے درمیان کشیدگی نے خلیجی تعاون کونسل کو کمزور کردیا ہے۔ شام میں بشارالاسد کی حکومت کو روس کی مداخلت کے بعد استحکام مل رہا ہے۔ امریکہ کے ساتھ ایران کی سفارتی کشیدگی میں کمی دکھائی دے رہی ہے۔ تحدیدات بھی ختم ہوچکے ہیں لیکن نیوکلیئر مسئلہ پر امریکہ کا موقف ہنوز جارحانہ دکھائی دیتا ہے۔ ایران اس مسئلہ سے نکل کر اپنے دفاعی صلاحیتوں کے حق کو منوانے کوشاں ہے لیکن ہندوستان کے اندر ہونے والی مالیاتی اتھل پتھل کے دوران صدر ایران کا دورہ پس منظر کا شکار ہوسکتا ہے کیوں کہ ہندوستان میں سب سے بڑے بنکنگ اسکام نے مالیاتی شعبہ کو دہلا دیا ہے۔ اگرچیکہ وزارت خارجہ ہند نے صدر ایران کے دورہ اور ہندوستانی قائدین سے ان کی ملاقاتوں کے پروگرام پر اس کا کوئی اثر پڑنے نہیں دیا۔ ایران کے ساتھ باہمی تعلقات اپنی جگہ مستحکم ہیں سفارتی، معاشی اور حکمت عملی پر مبنی روابط ہندوستان کے لئے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ اگرچیکہ ان دونوں ملکوں ایران اور ہندوستان کے تعلقات ایک دوسرے کے برعکس اور مختلف ہیں۔ اس کے باوجود ایران اور ہندوستان نے اپنے تعلقات میں کسی قسم کی کمی آنے نہیں دی۔ ہندوستان کے ساتھ کئی معاہدوں پر دستخط کئے گئے ہیں۔ اب تک ہندوستان نے بھی ایران کے ساتھ باہمی مفادات کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے دیگر ممالک کے ساتھ باہمی مفادات کو مضبوط بنانے کا کام کیا ہے۔ جہاں تک دہشت گردی اور اسلام کو بدنام کرنے والی سازشوں کا سوال ہے، اس پر ہندوستان کو بھی تشویش ہے اور ایران نے بھی اس طرح کی سازشوں کو ناکام بنانے پر زور دیا ہے۔ دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خاتمہ کیلئے اس خط کے تمام ممالک سمیت دیگر ملکوں سے دوستی اور تعاون کو فروغ دینے پر توجہ دی جائے تو صدر ایران کے موقف کو تقویت ملے گی جو دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنے والی طاقتوں کے خلاف متحد ہوجانے پر زور دیتے آرہے ہیں۔ امن و سکون کے حالات میں ہی ملکوں کی ترقی و خوشحالی ہوتی ہے۔ ہندوستان اور ایران نے ترقیاتی معاشی تعلقات میں باہمی مفادات کا خاص خیال رکھا ہے تو آئندہ بھی معاہدوں اور وعدوں کے مطابق عزائم کی سطح بلند ہونے کی توقع ہے۔
امپورٹ ڈیوٹیز میں بے تحاشہ اضافہ
مرکز کی نریندر مودی حکومت نیہندوستان میں ’’میک ان انڈیا‘‘ اور سرمایہ کاری کے بہتریان مواقع فراہم کرنے کے وعدے کئے تھے مگر ان چار سال میں ہندوستان کے اندر بیرونی سرمایہ کاری کی شرح متوقع کے مطابق نہیں رہی۔ وزیراعظم مودی اپنے وعدوں اور قول سے ہٹ کر اقدامات کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے گذشتہ ماہ ہی ورلڈ اکنامک فورم میں اعلان کیا تھا کہ وہ تجارت کیلئے ہدنوستان کی راہیں کشادہ کردیں گے لیکن ان کی حکومت نے امپورٹ ڈیوٹیز میں شدید اضافہ کردیا ہے جو تین دہوں میں اتنا اضافہ نہیں دیکھا گیا۔ حکومت کے قول اور فعل میں اس طرح کے تضاد کے باعث ہندوستان میں سرمایہ کاری کا بہاؤ سست روی کا شکار ہورہا ہے۔ وزیراعظم نے امپورٹ ڈیوٹیز میں اضافہ کرکے ایک طرح کی تجارتی جنگ چھیڑ دی ہے جبکہ مودی کو آئندہ سال عام انتخابات کی بھی تیاری کرنی ہے۔ ہندوستان میں بیرونی راست سرمایہ کاری کو بھی دھکہ لگ سکتا ہے۔ ہندوستان میں اگر بیرونی سرمایہ کاری توقع کے مطابق نہیں ہوسکے گی تو روزگار کا مسئلہ سنگین ہوجائے گا۔ امپورٹ ڈیوٹیز میں اضافہ سے آٹو موبائیلس کے پارٹس، کیمرہ، ٹیلیویژن، الیکٹریسٹی میٹرس اور اسمارٹ فونس مہنگے ہوں گے۔ اس سے ہندوستان میں تجارت کے خواہاں ممالک کو دھکہ پہنچ سکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT