Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / صدر تلگو دیشم ساکھ بچانے بی جے پی سے اتحاد پر مجبور

صدر تلگو دیشم ساکھ بچانے بی جے پی سے اتحاد پر مجبور

سیاسی مفاہمت موقع پرستانہ ، ٹی آر ایس لیڈر ہریش راؤ کا بیان

سیاسی مفاہمت موقع پرستانہ ، ٹی آر ایس لیڈر ہریش راؤ کا بیان

حیدرآباد ۔ 7 ۔ اپریل (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر ہریش راؤ نے تلگو دیشم۔بی جے پی اتحاد کو موقع پرستانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو پارٹی کی ساکھ کو بچانے کیلئے بی جے پی سے اتحاد پر مجبور ہوچکے ہیں۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہریش راؤ نے الزام عائد کیا کہ چندرا بابو نائیڈو کبھی بھی اپنی بات پر قائم نہیں رہے۔ انہوں نے اپنے خسر این ٹی راما راؤ سے اقتدار حاصل کرنے کے بعد کبھی بھی تنہا مقابلہ نہیں کیا۔ ہر چناؤ میں کسی نہ کسی پارٹی سے مفاہمت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ دراصل تلگو دیشم پارٹی عوام میں غیر مقبول ہوچکی ہے اور بی جے پی کے سہارے اسے مستحکم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گجرات فسادات کے بعد نائیڈو نے نریندر مودی کو چیف منسٹر کے عہدہ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن آج اسی نریندر مودی کو ترقی کی علامت کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ہریش راؤ نے یاد دلایا کہ نائیڈو نے بی جے پی سے اتحاد کو تاریخی غلطی قرار دیا تھا لیکن اب اتحاد کو ملک کی بھلائی کے حق میں قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اتحاد ملک کی بھلائی کیلئے یا تلگو دیشم کی بھلائی کیلئے ؟ نائیڈو پر سیاسی موقع پرستی کا الزام عائد کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ 2009 ء میں ٹی آر ایس اور بائیں بازو جماعتوں سے مفاہمت کی گئی تھی لیکن اب دوبارہ بی جے پی کا ہاتھ تھام لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام چندرا بابو نائیڈو پر بھروسہ کرنے والے نہیں اور دونوں ریاستوں میں تلگو دیشم کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ نائیڈو اقتدار کیلئے بے چین ہیں اور کانگریس قائدین کو بڑے پیمانہ پر پارٹی میں شامل کر رہے ہیں۔ ہریش راؤ نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو نے وائی ایس راج شیکھر ریڈی کابینہ کو علی بابا چالیس چور سے تعبیر کرتے ہوئے تمام کو جیل میں ڈالنے کی بات کہی تھی لیکن آج انہی سابق وزراء کو تلگو دیشم میں شامل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلگو دیشم سے اتحاد کرنا بی جے پی کے لئے خودکشی کے مترادف ہے۔ چندرا بابو نائیڈو کو چاہئے تھا کہ وہ تنہا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی مقبولیت کا ثبوت دیتے لیکن وہ تنہا مقابلہ کے موقف میں نہیں ہے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ بی جے پی نے ایسی پارٹی سے مفاہمت کی ہے جس نے تلنگانہ کی مخالفت کی اور پارلیمنٹ میں بل کی منظوری کو روکنے کیلئے لمحہ آخر تک کوشش کی ۔ بی جے پی قائدین کو ایسی پارٹی سے مفاہمت کیلئے عوام کو جواب دینا پڑے گا۔

TOPPOPULARRECENT