Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / صدر جمہوریہ کے انتخاب کیلئے تلنگانہ اسمبلی کے احاطہ میں انتظامات مکمل

صدر جمہوریہ کے انتخاب کیلئے تلنگانہ اسمبلی کے احاطہ میں انتظامات مکمل

پولیس اور دیگر محکمہ جات کے ساتھ اجلاس میں قطعیت ، سکریٹری لجسلیچر ڈاکٹر راجہ ایس سدرام کا بیان
حیدرآباد۔14 جولائی (سیاست نیوز) صدر جمہوریہ کے انتخاب کے لیے تلنگانہ اسمبلی کے احاطہ میں انتظامات مکمل کرلیئے گئے ہیں۔ سکریٹری لیجسلیچر ڈاکٹر راجہ ایس سدارام نے بتایا کہ پولیس اور دیگر محکمہ جات کے ساتھ اجلاس میں انتظامات کو قطعیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے احاطہ اور اس کے اطراف رائے دہی کے موقع پر موثر حفاظتی انتظامات رہیں گے اور غیر متعلقہ افراد کو داخلے کی اجازت نہیں رہے گی۔ تلنگانہ اسمبلی میں 119 ارکان اسمبلی رائے دہی کے اہل ہیں۔ عام انتخابات میں رائے دہی میں حصہ لینے پر لوک سبھا اسمبلی اور مجالس مقامی کے نمائندوں کو کوئی ٹی اے ڈی اے ادا نہیں کیا جاتا لیکن صدارتی انتخاب کے سلسلہ میں رائے دہندوں کو یہ سہولت حاصل ہے۔ قواعد کے مطابق پارلیمنٹ اور اسمبلی کے ارکان جو رائے دہی میں حصہ لینے کے لیے پولنگ اسٹیشن پہنچیں وہ ٹی اے اور ڈی اے کے مستحق رہیں گے۔ 17 جولائی کو صدارتی امیدوار کے لیے رائے دہی مقرر ہے اور اصل مقابلہ این ڈی اے کے امیدوار رام ناتھ کووند اور یو پی اے کے امیدوار میرا کمار کے درمیان ہے۔ 17 جولائی کو پارلیمنٹ کا مانسون سیشن شروع ہورہا ہے لہٰذا تمام ارکان پارلیمنٹ کو روزانہ 2 ہزار روپئے کے حساب سے ڈی اے ادا کیا جائے گا۔ انہیں سیشن کے آغاز اور اختتام کے دن فضائی ٹکٹ بھی فراہم کیا جاتا ہے چوں کہ رائے دہی کا دن اور پارلیمنٹ کے آغاز کا دن دونوں ایک ہیں لہٰذا پارلیمنٹ سکریٹریٹ پر ٹی اے ڈی اے کی ادائیگی کے لیے زائد بوجھ نہیں پڑے گا۔ تاہم تلنگانہ کے 119 ارکان اسمبلی اور آندھراپردیش کے 174 ارکان اسمبلی کو ٹی اے ڈی اے کی ادائیگی کے لیے متعلقہ حکومتوں کو چند کروڑ روپئے خرچ کرنے ہوں گے۔ دونوں ریاستوں میں چوں کہ اسمبلی کا اجلاس طلب نہیں کیا گیا لہٰذا قواعد کے مطابق رائے دہی میں حصہ لینے والے ارکان کو ٹی اے اور ڈی اے ادا کیا جائے گا۔ تلنگانہ کے ہر رکن اسمبلی کو روزانہ 800 روپئے کے حساب سے ڈی اے اور 20 روپئے فی کیلومیٹر کے حساب سے ٹی اے ادا کیا جائے گا۔ یہ ادائیگی متعلقہ حلقہ انتخاب کے ہیڈکوارٹر سے آمد اور واپسی میں شمار کی جائے گی۔ عہدیداروں نے بتایا کہ اگر رکن اسمبلی ایک دن کے لیے بھی آتے ہیں تو قواعد کے مطابق تین دن کا ڈی اے ادا کرنا پڑے گا۔ تلنگانہ لیجسلیچر پر ارکان اسمبلی کے ٹی اے اور ڈی اے کی ادائیگی کے سلسلہ میں 80 لاکھ روپئے کا خرچہ آسکتا ہے۔ جبکہ آندھراپردیش لیجسلیچر کے لیے یہ خرچ دیڑھ کروڑ تک ہوگا۔ رائے دہی میں حصہ لینے وشاکھاپٹنم، راجمندری، تروپتی اور کڑپہ سے بذریعہ طیارہ پہچنے والے ارکان کو فضائی کرایہ بھی ادا کیا جائے گا۔ صدارتی انتخاب کے سلسلہ میں تلنگانہ میں ٹی آر ایس، بی جے پی، تلگودیشم نے این ڈی اے امیدوار کی تائید کا اعلان کیا ہے جبکہ کانگریس اور سی پی ایم نے میرا کمار کی تائید کی۔ مقامی جماعت مجلس نے ابھی تک اپنے موقف کی وضاحت نہیں کی۔ اس کے برخلاف آندھراپردیش میں برسر اقتدار تلگودیشم اور اہم اپوزیشن وائی ایس آر کانگریس سمیت بی جے پی نے رام ناتھ کووند کی تائید کا اعلان کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT