Tuesday , September 25 2018
Home / Top Stories / صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند کا دورہ سیاچن

صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند کا دورہ سیاچن

اے پی جے عبدالکلام کے 2004ء کے دورہ کے بعد دوسرے صدر جمہوریہ کا سیاچن فوجی کیمپ میں خطاب

سیاچن ( جموں و کشمیر) ۔ 10مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند نے آج فوجی بیس کیمپ سیاچن کا دورہ کیا ۔ یہ دنیا کا بلند ترین میدان جنگ ہے اور انہوں نے سپاہیوں سے جو یہاں تعینات ہیں اظہار تشکر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جس دلیری اور بہادری کے ساتھ ہمارے فوجی سیاچن میں گذشتہ 34سال سے تعینات ہیں‘ اُس کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے ۔ صدر جمہوریہ ہند نے کہا کہ انہوں نے ہر ہندوستانی کو اُن کی دلیری اور بہادری سے یہ اعتماد ہوگیا ہے کہ ہماری سرحدیں محفوظ ہیں ۔ کووند نے کہا کہ وہ سیاچن کو اس لئے آئے ہیں تاکہ یہاں پر تعینات فوجیوں کی حوصلہ افزائی کرسکیں اور ہندوستان کے تمام شہریوں کو تیقن دے سکیں گے حکومت ہند ہمیشہ ان کے ساتھ ہے اور ان کے خاندانوں کے تحفظ کیلئے سرگرم ہے ۔ فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ مسلح افواج کے بحیثیت صدر جمہوریہ ہند سپریم کمانڈر ہیں ۔ وہ ان تمام افراد سے اظہار تشکر کرنے کیلئے یہاں آئے ہیں کہ پوری قوم اُن کی احسان مند ہیں ۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ سیاچن دنیا کا بلندترین میدان جنگ ہے اور یہاں پر رہنا بھی بہت مشکل ہے ‘ کیونکہ عام آدمی کیلئے یہاں کا موسم انتہائی ناخوشگوار ہوتا ہے ۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ ان حالات میں یہ سپاہیوں کیلئے یہاں قیام کرنا ایک غیرمعمولی فرض انجام دینے کے مترادف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں ان کی مستقل طلایہ گردی اور مقابلہ کرنے کیلئے تیار حالت میں رہنا ان کے فرائض سے وابستگی اور ملک سے ان کی محبت کا ثبوت ہے اور اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔ تمام ساتھی شہریوں کیلئے اُن کی دفاع سے وابستگی اور اس کیلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کیلئے تیار رہنا ایک قابل تقلید مثال ہے ۔ کووند نے کہا کہ وہ کمار چوکی کا بھی دورہ کریں گے ۔ رام ناتھ کووند دوسرے صدر جمہوریہ ہند ہیں جس نے سیاچن کا دورہ کیا ہے ۔ سابق دورہ اے پی جے عبدالکلام نے اپریل 2004ء میں کیا تھا ۔ اس طرح انہوں نے سیاچن میں تعینات فوجیوں سے خواہش کی تھی کہ وہ جب بھی دہلی آئیں راشٹرپتی بھون ضرور آئیں ۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ وہ سیاچن کیلئے جو ایک جنگی یادگار بھی ہے‘ انتہائی احترام رکھتے ہیں ‘ کیونکہ یہ 11ہزار فوجیوں اور فوجی عہدیداروں کی جانوں کی قربانی کی یادگار ہے جنہوں نے میک دوت کارروائی کے 13اپریل 1984ء کو پیش کی تھی ۔سیاچن کی چوکی 29ہزار فیٹ بلندی پر قائم ہے جہاں درجہ حرارت منفی 52درجہ سلسیس بھی ہوجاتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT