Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / صدر مائنمار تھین سین اقتدار کی پرامن منتقلی کے خواہاں

صدر مائنمار تھین سین اقتدار کی پرامن منتقلی کے خواہاں

فوج کیلئے 25 فیصد محفوظ نشستیں سوچی کی راہ میں زبردست رکاوٹ، صدر اور فوجی سربراہ سے سوچی کی بات چیت جاری
ینگون 12 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مائنمار کے صدر نے ملک کے فوجی سربراہ کے ساتھ انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے والی جمہوریت حامی قائد آنگ سان سوچی کو مبارکباد دی اور وعدہ کیاکہ اقتدار کی عنقریب پرامن طور پر منتقلی عمل میں آئے گی۔ جنتا کی راست فوجی حکمرانی کا سلسلہ گزشتہ نصف صدی سے مائنمار کا مقدر بن چکا تھا جبکہ 2011 ء سے فوجی حکومت کی ہی حلیف جماعتوں کے ذریعہ نیم سیویلین حکومت چلائی جارہی تھی۔ تاہم اتوار کو ہوئے انتخابات میں سوچی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) کو اب تک جن نشستوں کے نتائج کا اعلان کیا گیا، اُن میں 85 فیصد نشستوں پر کامیابی ملی ہے جو یقینا ملک میں جمہوریت کے لئے جاری طویل جدوجہد کا مثبت نتیجہ ہے۔ فیس بُک پر کل ایک بیان جاری کرتے ہوئے صدر تھین سین نے کہاکہ سوچی کو عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعہ جس طرح حمایت کا اعلان کیا ہے اس کے لئے سوچی یقینی طور پر قابل مبارکباد ہیں۔ ہم عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے جلد ہی اقتدار منتقل کردیں گے۔ این ایل ڈی کو 256 نشستوں پر کامیابی ملی ہے جو دراصل واضح اکثریت سے صرف 70 کے عدد سے کم ہے تاہم اس کا حصول بھی کوئی خاص مشکل بات نظر نہیں آتی کیوں کہ مزید کچھ حلقوں کے نتائج کا اعلان ابھی باقی ہے۔ سوچی کو کل ملک کے فوجی سربراہ من آنگ لیانگ سے بات چیت کے لئے مدعو کیا تھا جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ صدر تھین سین کے علاوہ فوجی سربراہ بھی اقتدار کی پرامن منتقلی کے خواہاں ہیں۔ مرکزی الیکشن کمیشن کے ذریعہ انتخابات کے مکمل نتائج کے اعلان کے بعد ہی دونوں نے سوچی کو بات چیت کے لئے مدعو کیا۔ فوجی سربراہ نے اپنے فیس بُک اکاؤنٹ پر بھی سوچی کو انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے پر مبارکباد دی۔

یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ 1990 ء میں بھی سوچی کی پارٹی نے واضح کامیابی حاصل کی تھی لیکن فوجی حکومت نے عوام کی رائے کو بھی کوئی اہمیت نہیں دی اور اس طرح برتاؤ کیا جیسے انتخابات کا سرے سے انعقاد ہوا ہی نہ ہو۔ مزید برآں انتخابی نتائج کو قبول نہ کرتے ہوئے اقتدار پر فوج نے اپنی گرفت اور بھی مضبوط کرلی۔ سوچی کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے اُن کی راہوں میں کانٹے بچھانے کا سلسلہ جاری رہا جس میں 2008 ء میں فوج کے ذریعہ تشکیل دیا گیا دستور بھی شامل ہے جس کے تحت ایسے کسی بھی قائد کو جس کے بچے بیرون ملک پیدا ہوئے ہوں یا جس نے کسی غیر ملکی شہری سے شادی کی ہو، صدر کے جلیل القدر عہدہ پر فائز نہیں ہوسکتا؍سکتی۔ یاد رہے کہ سوچی کے بیٹے برطانوی شہری ہیں اور اُن کے آنجہانی شوہر بھی برطانوی شہری ہی تھے۔ جس وقت مائنمار میں سوچی کو فوجی حکومت نے نظربند کر رکھا تھا، اُس وقت برطانیہ میں سوچی کے شوہر کا انتقال ہوگیا تھا۔ فوج کے لئے مائنمار پارلیمنٹ کی 25 نشستیں بلامقابلہ محفوظ رکھی گئی ہیں جس سے یہ نکتہ واضح ہوجاتا ہے کہ این ایل ڈی کو چاہے کتنی ہی اکثریت کیوں نہ ملے، فوج جب چاہے اقتدار پر قابض ہوسکتی ہے۔ اس المیہ نے اب تک مائنمار میں جمہوریت کی راہ ہموار نہیں کی اور اب امید کی کرنیں نظر ضرور آئی ہیں لیکن صدر اور فوجی سربراہ کے ساتھ سوچی کی بات چیت کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں اور ملک کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہوگی یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

TOPPOPULARRECENT