Wednesday , November 21 2018
Home / مذہبی صفحہ / صدر مسلم پرسنل لاء بورڈ کی خدمت میں چند معروضی اور چند استفسارات

صدر مسلم پرسنل لاء بورڈ کی خدمت میں چند معروضی اور چند استفسارات

شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد ایک تاریخی اور تہذیبی شہر ہے ، یہاں کے غیرت مند مسلمانوں نے دین اسلام کی ترویج ، شریعت اسلامی کی حفاظت، اسلامی اقدار و ثقافت کے تحفظ ، دینی تعلیمی بیداری ، عصری تعلیمی مراکز کے قیام نیز سیاسی اور صحافتی بیان میں قائدانہ رول ادا کیا ہے ۔ علاوہ ازیں دنیا کے کسی خطہ میں کلمہ گو مسلمانوں پر ہونے والے ظلم اور ناگہانی حالات میں اسلامی غیرت و حمیت کاعظیم نمونہ پیش کیاہے ۔ جس کا عمومی سہرا دکن کے عظیم محسن ، مجدد دین و ملت شیخ الاسلام والمسلمین عارف باﷲ ابوالبرکات امام محمد انواراللہ فاروقی خان بہادر و فضیلت جنگ بانی جامعہ نظامیہ قدس سرہٗ العزیز کے سر جاتا ہے ۔ آپ آصفیہ سلطنت کے آخری دو حکمراں غفرانِ مکان آصف سادس میر محبوب علیخان مرحوم اور آصف سابع اعلحضرت میر عثمان علیخان مرحوم کے اتالیق ، مملکت آصفیہ کے صدالصدور ، معین المھام و وزیر محکمہ اُمور مذہبی رہے ۔ دیگر امراء ، وزراء ، ارکان سلطنت اور عمائدین مملکت آپ کی علمی ، دینی اور انتظامی قدر و منزلت کے معترف تھے ۔ آپ نے نہایت خوش اسلوبی سے حکومت کا دھارا اسلام کی طرف موڑ دیا اور اسلام کے تحفظ کے لئے غیرمعمولی تجدیدی ، اقدامی اور انقلابی فیصلے فرمائے ۔ علمی مراکز کو قائم کیا ، علوم اسلامیہ کی تدریس کے لئے جامعہ نظامیہ کو قائم فرمایا ، نادر مخطوطات کی طباعت کے لئے دائرۃ المعارف العثمانیہ کی داغ بیل ڈالی ، اسلامی نوادرات کے تحفظ کے لئے کتب خانہ آصفیہ کو قائم فرمایا ، دنیا بھر کے علماء کی مالی امداد کی اور اُن سے درپیش مسائل پر کتابیں لکھوائیں اور ان کی طباعت کے لئے مجلس اشاعت العلوم کو قائم فرمایا ، دینی مدارس کا جال بچھایا ، خانقاہوں کے نظام کو مستحکم کیا ، سجادہ نشینوں کی اصلاح فرمائی ، اوقافی جائیدادوں کا تحفظ کیا، منشاء وقف اور شروط وقف کو نافذ فرمایا ، دفتر قضاء ت کی بنیاد رکھی ، اُمت اسلامیہ میں پائے جانے والے خرافات ، بدعتوں اور غیراسلامی رسم و رواج کا قلع قمع کیا ، گمراہ فرقوں کا سدباب کیا ، اسلام پر مغرب کی یلغار کا دندان شکن جواب دیا ، معاصر قلمکاروں کے فکری لغزشوں کی نشاندہی کی ، معرکۃ الاراء کتابیں تصنیف کیں ، حکومت کے وسائل سے بھرپور استفادہ کیا ، سرکاری خزانہ کو بے دریغ خرچ کیا جس پر بعض عمائدین مملکت کہنے پر مجبور ہوگئے کہ حضرت قبلہ علیہ الرحمہ اسلام پر سارے سرکاری خزانہ کو ختم کردیں گے ۔

پس ہندوستان کے مسلمانوں کو ایسی مرکزی قیادت کی سخت ضرورت ہے جو ملت کی ہر گوشے میں رہنمائی کرے ، اسلام پر جس جس جہت سے حملہ ہو اس کے ہر ہر گوشے کا جواب دے ۔ ان حالات میں ایسی مرکزیت مسلم پرسنل لاء بورڈ کو حاصل ہے اور اسی سے مؤثر اور مدبرانہ اقدامات کی توقعات وابستہ ہیں۔ سولہ سال قبل ۲۰۰۲؁ ء مسلم پرسنل لاء بورڈ کا اہم اجلاس حیدرآباد میں ہوا تھا اس وقت شہرحیدرآباد میں سالار ملت سلطان صلاح الدین اویسی، مولانا حمیدالدین عاقل اور مولانامحمد عبدالرحیم قریشی جیسی قدآور شخصیتوں کے علاوہ خانقاہ کے ایک عظیم المرتبت روحانی رہنما حضرت ابوالخیرات سید انواراللہ شاہ نقشبندی مجددی و قادری نبیرۂ محدث دکن علیہ الرحمہ موجود تھے ۔ بالاتفاق حضرت ابوالخیرات علیہ الرحمہ نے بطور صدر استقبالیہ تمام مہمانان کا خیرمقدم کیا اور شہر حیدرآباد کی نمائندگی کی ۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ ’’مجھے ایمان کے بعد سب سے زیادہ ملت عزیز ہے ‘‘ آپ حیدرآباد کی مرکزی خانقاہ کے سجادہ نشین ہونے کے باوصف وسعت نظری کا عملی نمونہ پیش کیا ، ملی اور سیاسی مسائل میں حصہ لیا ، مسلکی اختلافات سے بالاتر ہوکر شیعہ حضرات، جماعت اسلامی وغیرہ کے اجلاسوں میں شرکت کرکے اتحاد بین المسالک کی مثال قائم کی ۔ افسوس کہ حضرت ابوالخیرات علیہ الرحمہ ، مولانا عاقل اور مولانا محمد عبدالرحیم قریشی کے سانحۂ ارتحال سے حیدرآباد فرخندہ بنیاد کی غیرسیاسی ، بے باک ، وسیع النظر مدبرانہ مذہبی قیادت کا خاتمہ ہوگیا ۔

ہندوستان کے مسلمانوں کی سیاسی بصیرت اور دوراندیشی مثالی ہے ، پاکستانی مسلمان اپنی اکثریت کے باوجود ایماندار ، قابل و باصلاحیت قیادت کو منتخب کرنے میں ناکام ہیں ۔ مصر اور شام میں علماء کے متضاد فتووں نے انتشار اور ہیجان کو پیدا کیا اور عوام الناس کو اس کی قیمت چکانی پڑی ۔ سعودی اور ایران کی کشمکش سارے خطہ میں کشیدگی اور بے اطمینانی پیدا کررہی ہے ۔ اور یمن کا معصوم مسلمان قیادت کے فقدان کی بناء بے موت مررہا ہے ۔ ان حالات میں ہندوستان کے مسلمانوں کی بصیرت ، ہمت ، اتحاد دیگر ممالک کے مسلمانوں کیلئے قابل تقلید ہے۔ بالخصوص ہندوستانی مسلمانوں کو متحد رکھنے میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مذہبی قیادت قابل مبارکباد ہے کہ جس نے مسلک کے علمی اختلافات کے باوجود دشمن کو ان کے مکر اور باطل منصوبوں میں کامیاب ہونے نہیں دیا۔
مسلم پرسنل لاء بورڈ کے خدمات کو چار خانوں میں تقسیم کرنے سے کارکردگی کے نتائج کو اخذ کرنے میں سہولت ہوسکتی ہے ۔ (۱) تمام مکاتب فکر کے مذہبی رہنماؤں کامسلکی اختلافات سے بالاتر ہوکر ایک پلیٹ فارم پر اتفاق رائے کا ساتھ جمع ہونا ۔ بلاشبہ مسلم پرسنل لاء بورڈ اس میں صد فیصد کامیاب رہا ہے ۔ (۲) قانونِ شریعت اور اسلامی شعائر کا تحفظ اور دفاع ۔ اس میں مسلم پرسنل لاء بورڈ نے جمہوری اور آئینی قوانین کی روشنی میں تحفظ اور دفاع کی بھرپور کوشش کی ہے لیکن حکومت پر دباؤ بنانے میں خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی ۔ (۳) شعور بیدار کرنا : مسلم پرسنل لاء بورڈ مسلمان قوم میں قانونِ شریعت کے تحفظ اور نظامِ نکاح و طلاق سے متعلق بیداری و شعور پیدا کرنے میں گرانقدر خدمات انجام دیاہے لیکن مسلم پرسنل لاء سے وابستہ کوئی مذہبی رہنما قوم میڈیا پر مؤثر طریقے سے نمائندگی کرتے ہوئے نظر نہیں آئے ۔ (۴) اقدام : یعنی ایسے اقدامات کرنا کہ باطل اسلام اور شریعت کے خلاف سازش رچنے سے خودبخود رُک جائے ۔ مثال کے طورپر ایسی طاقت و قوت کا جمع کرنا کہ باطل طاقتوں کو سیاسی طورپر شکست کھاجانے کااندیشہ لاحق ہوجائے ۔ اس ضمن میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کی کوئی اقدامی حکمت عملی نظر نہیں آئی ۔

رام مندر کے حامیوں نے بابری مسجد کے معاملے میں کبھی بھی عدالت کا احترام ملحوظ نہ رکھا اور نہ ہی سپریم کورٹ کے فیصلے کو قبول کرنے کی بات کی ہے ۔ ان حالات میں اس مقام پر دوبارہ بابری مسجد کی تعمیر سے زیادہ رام مندر کی تعمیر کو روکنا اہم مسئلہ ہے ۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی تمام تر توجہہ سپریم کورٹ پر مرکوز ہے ۔ رام مندر کی تعمیر کو روکنے کی کوئی تدبیر نہ کی جائے اور خدانخواستہ دشمن اپنے منصوبوں میں کامیاب ہوجائے تو آنے والی نسلیں مسلم پرسنل لاء بورڈ پر نہ اعتبار کریں گی اور نہ معاف کریں گی ۔
فقہ حنفی کے عظیم الشان مرکز ہندوستان میں پیدا ہونے اور فقہ حنفی کے ادنیٰ طالب علم ہونے کے ناطے مجھے یہ قلق و بے چینی ہے کہ حالیہ دنوں میں حکومتی سطح پر اور میڈیا کے ذریعہ جو فقہ حنفی کی تضحیک ہوئی ہے اس پر اگر امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے دربار سے ہندوستان کے علماء کا محاسبہ اور بازپرس ہو تو کیا جواب دیا جاسکتا ہے ؟ امید کی جاتی ہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ارکان ملت اور شریعت کے تحفظ کے لئے ہندوستان کے کسی بھی مقام پر اجلاس ہو تو اپنے ذاتی خرچ پر سفر کرنے اور تین دن اپنے قیام و طعام کا بنفس نفیس انتظام کرلینے کا جذبہ رکھتے ہوں گے ۔

TOPPOPULARRECENT