Friday , October 19 2018
Home / دنیا / صدر میانمار خرابی صحت کی بنیاد پر مستعفی

صدر میانمار خرابی صحت کی بنیاد پر مستعفی

ینگون ۔ 21 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) صدر میانمار ہتن کیا نے آج اچانک اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا اور اس طرح ملک کی اعلیٰ سطحی قائد آنگ سان سوچی اس وقت اپنے قریب ترین رفیق سے محروم ہوگئی ہیں جبکہ انہیں راکھین اسٹیٹ میں روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جارہے ظلم و جبر کے خلاف کوئی بیان نہ دینے اور ان سے ہمدردی کے دو بول تک نہ بولنے پر عالمی سطح پر غم و غصہ کا سامنا ہے۔ مسٹر ہتن کیا، سوچی کے اس زمانے سے دوست ہیں جب دونوں ایک ساتھ ایک ہی اسکول میں زیرتعلیم تھے۔ میانمار میں سوچی کے صدر بننے کے امکانات اس وقت موہوم ہوگئے تھے جب فوجی آئین کے مطابق کسی بھی غیرملکی کو ملک کے صدر کے عہدہ پر فائز نہیں کیا جاسکتا جس کے بعد انہوں نے ہتن کیا کو یہ ذمہ داری سونپی تھی۔ حالانکہ اس عہدہ کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ اسی لئے شاید سوچی نے ہتن کیا کو یہ عہدہ تفویض کرتے ہوئے خود اپنے لئے ملک کے کونسلر کا عہدہ قبول کیا تھا، لیکن اس کے باوجود ہتن کیا، سوچی کے قریبی رفیق تھے اور آئینی طور پر ملک کے سربراہ۔ 72 سالہ ہتن کیا کی صحت گزشتہ کچھ عرصہ سے خراب بتائی جارہی ہے جبکہ انہیں عارضہ قلب بھی لاحق ہے۔ صدر کے دفتر سے منسلک سرکاری فیس بک پیج پر بھی صدر ہتن کیا کے مستعفی ہونے کی توثیق کی گئی جبکہ اس کی وجوہات نہیں بتائی گئی۔ صدر موصوف فی الحال اپنی موجودہ ذمہ داریاں سنبھالنے کے موقف میں نہیں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT