Sunday , September 23 2018
Home / اضلاع کی خبریں / صدر نشین بلدیہ کے عہدہ کیلئے جوڑ توڑ شروع

صدر نشین بلدیہ کے عہدہ کیلئے جوڑ توڑ شروع

نارائن پیٹ 28 جون (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) بلدیہ نارائن پیٹ کے صدر نشین و نائب صدر نشین کے باوقار عہدوں کیلئے انتخابات 3 جولائی کو ہوں گے ۔ان عہدوں کیلے انتخاب کی تاریخ کیلئے سرکاری اعلامیہ کی اجرائی کے ساتھ جوڑ توڑ اور رسہ کشی شروع ہوگئی ہے۔ نارائن پیٹ بلدیہ کی 23 رکنی کونسل میں 12 بی جے پی،3 کانگریس،3 تلگودیشم ،2 ٹی آر ایس ،1 آزادامیدوار اور

نارائن پیٹ 28 جون (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) بلدیہ نارائن پیٹ کے صدر نشین و نائب صدر نشین کے باوقار عہدوں کیلئے انتخابات 3 جولائی کو ہوں گے ۔ان عہدوں کیلے انتخاب کی تاریخ کیلئے سرکاری اعلامیہ کی اجرائی کے ساتھ جوڑ توڑ اور رسہ کشی شروع ہوگئی ہے۔ نارائن پیٹ بلدیہ کی 23 رکنی کونسل میں 12 بی جے پی،3 کانگریس،3 تلگودیشم ،2 ٹی آر ایس ،1 آزادامیدوار اور ایم آئی ایم کو 2 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ اس طرح 23 رکنی کونسل میں 12 بی جے پی کو حاصل ہوئی ماباقی 11 دیگر جماعتوں کو ۔رکن اسمبلی نارائن پیٹ جو تلگودیشم سے تعلق رکھتے ہیں کونسل کے اعزازی رکن کی حیثیت سے ووٹ دینے کے مستحق ہیں اس طرح 12 بی جے پی کے مقابلے میں دیگر 12 متحد ہوں تو مقابلہ برابری پر ہوگا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ رکن اسمبلی نارائن پیٹ مسٹر ایس راجند ریڈی، بی جے پی سے اتحاد کی بنیاد پر نائب صدر نشین کا عہدہ تلگودیشم کے چھوڑنے پر تائید کرتے ہیں یا پھر دیگر پارٹیوں سے اتحاد کرتے ہوئے یہ دونوں عہدے بی جے پی سے چھین لیتے ہیں یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ رکن اسمبلی نارائن پیٹ مسٹر ایس راجندر ریڈی بی جے پی سے اتحاد کے باوجود بی جے پی کے ضلعی صدر مسٹر گنگا پانڈو ریڈی کے اسمبلی انتخابات میں ان کے مقابلے میں حصہ لینے سے سخت ناراض ہیں۔ بلدیہ نارائن پیٹ کے صدر نشین کی نشست بی سی خاتون کیلئے مختص ہے۔ صدر نشین کے عہدہ کو لیکر بی جے پی میں سخت اختلافات پائے جاتے ہیں۔ بی جے پی کے 8 خاتون ارکان کے منجملہ تین میں رسہ کشی جاری ہے۔ پارٹی میں اس عہدہ کیلئے اتفاق نہ ہونے کی صورت میں بغاوت ممکن ہے۔ رکن اسمبلی نارائن پیٹ مسٹر ایس راجندر ریڈی ان تمام حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ان کا ووٹ فیصلہ کن ہوگا ۔ بہت ممکن ہے کہ تلگودیشم کیلئے نائب صدر نشین کے عہدہ دینے کے عوض وہ بی جے پی کے صدر نشین کے عہدہ کی تائید کرسکتے ہیں۔ بہر حال 3 جولائی کوہی پتہ چلے گا ووٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT