Sunday , May 27 2018
Home / شہر کی خبریں / صدر نشین وقف بورڈ کا مختلف سیکشنوں کا تفصیلی دورہ

صدر نشین وقف بورڈ کا مختلف سیکشنوں کا تفصیلی دورہ

فائیلوں کی ترتیب اور باقاعدگی سے تیاری کے کاموں کا جائزہ ‘ عہدیداروں کو ہدایات
حیدرآباد۔/18نومبر، ( سیاست نیوز) صدر نشین وقف بورڈ محمد سلیم نے آج بورڈ کے مختلف سیکشنوں کا دورہ کرتے ہوئے فائیلوں کی ترتیب اور انہیں باقاعدگی سے تیار کرنے کے کاموں کا جائزہ لیا۔ محکمہ مال کے 28 عہدیداروں پر مشتمل ٹیم جس میں ڈپٹی کلکٹر، آر ڈی او اور ایم آر او رینک کے عہدیدار شامل ہیں وقف بورڈ کے عہدیداروں کی اعانت سے یہ کام انجام دے رہی ہے ۔ توقع ہے کہ 30 نومبر تک فائیلوں کی جانچ اور انہیں علحدہ سیکشنوں کی بنیاد پر تیاری کا کام مکمل ہوجائیگا۔ صدرنشین وقف بورڈ نے محکمہ مال کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کرکے کام کی پیشرفت کا جائزہ لیا۔ انہوں نے بورڈ کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ جیسے جیسے سیکشنوں کا ریکارڈ علحدہ ہوگا اسی طرح مذکورہ سیکشنوں کی کارکردگی بحال کردی جائیگی۔ محمد سلیم نے قضاۃ سیکشن کا دورہ کرکے میریج اور دیگر سرٹیفکیٹس کی اجرائی کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اس سیکشن کے ملازمین کو ہدایت دی کہ وہ تمام درخواستوں کی یکسوئی تک کام کریں تاکہ دوردراز سے آنے والے افراد کو مایوسی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ سرٹیفکیٹس کی اجرائی کے سلسلہ میں اگر رات 9 بجے تک بھی کام کرنا پڑے تو دفتر کھلا رکھنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ پاسپورٹ، ویزا اور دیگر سرکاری اُمور کیلئے میریج سرٹیفکیٹ کی ضرورت پڑتی ہے اور جو بھی افراد اس کیلئے آئیں انہیں مایوس نہ کیا جائے۔ قضاۃ سیکشن میں موجود درخواست گذاروں نے صدرنشین وقف بورڈ کے اس اقدام کی ستائش کی۔ وقف بورڈ میں 8 نومبر کو چیف منسٹر کی ہدایت پر ریکارڈ اور دفاتر کو مہر بند کرنے کے بعد صرف شعبہ قضاۃ کی کارکردگی بحال ہوئی ہے۔ آر ٹی آئی و دیگر شعبہ جات میں ریکارڈ کی عدم موجودگی کے باعث کام کاج شروع نہیں ہوسکا۔ بورڈ کا اِن ورڈ سیکشن بھی ابھی تک بحال نہیں ہوسکا۔ دورہ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدرنشین وقف بورڈ نے کہا کہ چیف منسٹر نے وقف بورڈ کے ریکارڈ کو بہتر بنانے اور تحفظ کیلئے جو قدم اٹھایا ہے وہ قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ میں کئی اہم جائیدادوں کا ریکارڈ غائب ہے لیکن اسے آرکیالوجیکل ڈپارٹمنٹ اور انڈومنٹس سے بازیاب کرنے کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر اوقافی جائیدادوں اور اراضیات کے تحفظ میں سنجیدہ ہیں اسی لئے انہوں نے ریونیو عہدیداروں کے ذریعہ ریکارڈ کی جانچ کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلہ سے اوقافی اراضیات کے ریونیو ریکارڈ میں شامل ہونے کا کام آسان ہوجائے گا۔ محمد سلیم نے بتایا کہ محکمہ مال کے 28 عہدیداروں سے وقف بورڈ کے 48 ملازمین و عہدیدار اس کام میں تعاون کررہے ہیں۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود نے 6 عہدیداروں کو اعانت کیلئے مامور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فائیلوں کی ترتیب اور انونٹری کی تیاری کے بعد اعلیٰ عہدیداروں کی ٹیم ریکارڈ کا جائزہ لے گی۔ محمد سلیم نے کہا کہ وقف بورڈ کی کارکردگی بہتر بنانے اور ریکارڈ کے تحفظ کیلئے آج تک کسی حکومت نے دلچسپی نہیں لی۔ چندر شیکھر راؤ نے اپنے وعدہ کے مطابق یہ کام انجام دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جاریہ اراضی سروے میں وقف اراضیات کی نشاندہی کیلئے بورڈ کی 30 سے زائد ٹیمیں ریکارڈ کے ساتھ اضلاع میں مصروف ہیں۔

TOPPOPULARRECENT