Sunday , June 24 2018
Home / شہر کی خبریں / صدر ٹی آر ایس کے سی آر کا میدک پارلیمنٹ اور گجویل اسمبلی سے ادخال پرچہ نامزدگی

صدر ٹی آر ایس کے سی آر کا میدک پارلیمنٹ اور گجویل اسمبلی سے ادخال پرچہ نامزدگی

تلنگانہ قائدین پر سیما آندھرا کے ایجنٹ کی حیثیت سے کام کرنے کا الزام ، کانگریس پر سخت تنقید

تلنگانہ قائدین پر سیما آندھرا کے ایجنٹ کی حیثیت سے کام کرنے کا الزام ، کانگریس پر سخت تنقید
حیدرآباد ۔ 9 ۔ اپریل (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے سربراہ کے چندر شیکھر راو نے آج حلقہ لوک سبھا میدک اور حلقہ اسمبلی گجویل سے پرچہ جات نامزدگی داخل کی ہے۔ چندر شیکھر راؤ نے پرچہ نامزدگی کے ادخال سے قبل اپنے ارکان خاندان اور بھانجے ہریش راؤ کے ہمراہ میدک کے کوئنا پلی میں واقع مندر میں خصوصی پوجا کی ۔ انہوں نے اپنے بی فارم مورتی کے قدموں میں رکھتے ہوئے آشیرواد حاصل کیا۔ کے سی آر نے اپنی اور پارٹی کے دیگر تمام امیدواروںکی کامیابی کیلئے پوجا کی۔ وہاں سے وہ سیدھے سنگا ریڈی کلکٹریٹ پہنچے اور لوک سبھا حلقہ میدک کیلئے پرچہ نامزدگی داخل کیا ۔ بعد میں چندر شیکھر راؤ گجویل پہنچے اور گجویل اسمبلی حلقہ کیلئے پرچہ داخل کیا۔

بعد میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے چندر شیکھر راؤ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ تلنگانہ کی ترقی کیلئے ٹی آر ایس کو برسر اقتدار لائیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کانگریس اور تلگو دیشم کو مناسب سبق سکھائیں، جن کے اقتدار میں تلنگانہ کے ساتھ ناانصافیاں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کے قیام کے ذریعہ ہی تلنگانہ کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے تلنگانہ میں سیاسی بے قاعدگیوں اور کرپشن کے خاتمہ کا عہد کرتے ہوئے اعلان کیا کہ فلاحی اسکیمات کا ہر روپیہ عوام کی بھلائی پر خرچ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کی ترجیح کمزور اور پسماندہ طبقات کی بھلائی ہوگی۔ درج فہرست اقوام و قبائل کی ترقی کیلئے حکومت خصوصی منصوبہ تیار کرے گی۔ تلگو دیشم اور کانگریس کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ ان پارٹیوں کو ٹی آر ایس کی کامیابی کا خوف لاحق ہوچکا ہے۔ انہوں نے ان پر اعلیٰ طبقات سے تعلق کے سبب عائد کئے جانے والے الزامات کو مسترد کردیا ۔ کے سی آر نے کہا کہ وہ کبھی بھی زمین داری نظام یا پھر اعلیٰ طبقات کے تسلط کے حق میں نہیں رہے۔ وہ ہمیشہ خود کو عوامی خدمت گزار تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے تلگو دیشم اور کانگریس حکومتوں کی کارکردگی کو قریب سے دیکھا ہے۔ ان دونوں حکومتوں نے نہ صرف عوامی مسائل کو نظر انداز کیا بلکہ مختلف اسکامس کے ذریعہ عوام کو دھوکہ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اسکامس کے سبب ریاست کے وزراء اور اعلیٰ عہدیداروں کو بھی جیل جانا پڑا۔ کے سی آر نے سوال کیا کہ وزراء اور اعلیٰ عہدیداروں کے اسکام میں ملوث ہونے سے کیا بے قاعدگیوں کا اندازہ نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کے انتخابی منشور میں جو وعدے کئے گئے ان پر عمل کرتے ہوئے تلنگانہ کو ایک ماڈل اسٹیٹ میں تبدیل کیا جائے گا ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹی آر ایس کو لوک سبھا کی 16 نشستیں حاصل ہوں گی جبکہ تشکیل حکومت کیلئے درکار اسمبلی کی نشستوں پر ٹی آر ایس کو کامیابی حاصل ہوگی ۔ ٹی آر ایس سنہری تلنگانہ کی تشکیل کا منصوبہ رکھتی ہے جبکہ تلگو دیشم اور کانگریس نے اپنے ذاتی مفادات کیلئے سرکاری خزانے اور عوام کو لوٹ لیا ۔ کے سی آر نے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی اقتدار اور کرسی کیلئے جدوجہد نہیں کی۔ تلنگانہ ریاست کے حصول کیلئے جو جدوجہد کی گئی،

اس میں عوامی تعاون کے سبب ہی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کا حصول ان کی زندگی کا مقصد تھا اور ریاست کے حصول کے بعد وہ مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس حکومت کے قیام کے بعد ایک کروڑ ایکر اراضی کو آبپاشی سہولتیں فراہم کی جائیں گی ۔ انہوں نے اس بات کو دہرایا تلنگانہ اور سیما آندھرا ملازمین اپنی اپنی حکومتوں کیلئے کام کریں گے اور ملازمین کو کوئی آپشن نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس کے تلنگانہ قائدین ابھی بھی سیما آندھرا قائدین کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ تلنگانہ حکومت پر سیما آندھرائی قائدین کا تسلط برقرار رہے تاکہ حکومت کے فیصلے سیما آندھرائی طاقتوں کے حق میں ہوں۔

TOPPOPULARRECENT