Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / صدر چین اور وزیراعظم ہندکی ملاقات کا امکان نہیں

صدر چین اور وزیراعظم ہندکی ملاقات کا امکان نہیں

سکم کا مسئلہ رکاوٹ، دونوں افواج میں تعطل،کینیڈا جاپان ، برطانیہ اور بریکس قائدین سے ملاقاتیں

بیجنگ۔6 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) چین نے آج کہا کہ جرمن کے شہر ہیمبرگ میں جی 20 چوٹی کانفرنس کے موقع پر وزیراعظم نریندر مودی اور صدر چین ژی زپنگ کے درمیان باہمی ملاقات کے لیے فضاء سازگار نہیں ہے۔ ملاقات کے لیے یہ درست وقت نہیں ہے کیوں کہ سکم مسئلہ پر دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان تعطل پایا جاتا ہے۔ ہندوستان نے آج کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی جرمنی کے شہر ہمبرگ میں منعقد ہونے والی G-20 کانفرنس کے موقع پر کینیڈا، جاپان اور برطانیہ جیسے ممالک کے قائدین سے ملاقات کریں گے۔ اس موقع پر صدر چین ژی جن پنگ سے ملاقات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ وزیراعظم مودی اپنی مصروفیات کے دوران مذکورہ ممالک کے قائدین سے تفصیلی بات چیت کریں گے۔ تاہم نئی دہلی میں ہندوستانی ذرائع نے بتایا کہ جی 20 چوٹی کانفرنس کے موقع پر کل برکس قائدین سے ملاقات ہوگی اور توقع ہے کہ ان قائدین کی موجودگی میں دیگر سے ملاقات کے علاوہ مودی اور ژی ژپنگ کی بھی ملاقات ہوگی۔ البتہ یہ کہا تھا کہ ہیمبرگ میں دونوں قائدین کے درمیان باہمی ملاقات کا امکان نہیں ہے۔ چین اور ہندوستان کے درمیان بھوٹان ری جنکشن کے قریب ڈوکلم علاقہ میں تعطل پیدا ہوا ہے۔ کشیدگی کی یہ صورتحال گزشتہ 3 ہفتوں کے درمیان مزید ابتر ہوئی ہے۔ چین کی فوج کی تعمیراتی پارٹی نے یہاں ایک سڑک تعمیر کرنے کی کوشش کی ہے۔

ڈوکالا کے اس خطہ کا ایک ہندوستانی نام ہے جس کو بھوٹان ڈوکالم کی حیثیت سے تسلیم کرتا ہے جبکہ چین اس کو اپنا ڈانگ لانگ خطہ کا حصہ مانتا ہے۔ یہ بھی رپورٹس ہیں کہ مودی اور ژی ژپنگ کے درمیان جی 20 چوٹی کانفرنس کے موقع پر ملاقات ہوگی تاکہ آپسی کشیدگی اور تعطل کی صورتحال کو حل کیا جاسکے۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان کینگ شارنگ نے توقع ظاہر کی کہ ہندوستان اپنے سرحدی حصہ سے سرحدی فوج کو ہٹالے گا تاکہ چین۔ہند سرحدی علاقوں میں امن برقرار رکھا جاسکے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ دونوں جانب کسی بھی بامعنی مذاکرات کے لیے یہ پیشگی شرط ہے۔ تاہم گینگ نے کہا کہ برکس قائدین کے ساتھ ملاقات کے وقت وزیراعظم مودی اور صدر چین ژی بھی موجود رہیں گے۔ اس موقع پر مودی۔ ژی کی ملاقات کے امکان پر گینگ نے کہا کہ اس تعلق سے درست معلومات بروقت کی صورتحال کے پیش نظر فراہم کئے جائیں گے۔ چین کی میڈیا نے کل توقع ظاہر کی تھی کہ چین بھی ہندوستان کے ساتھ سکم سیکٹر میں پیدا شدہ کشیدگی کو دور کرنے کے لیے فوجی طاقت کا استعمال کرنے کے لیے مجبور ہوگا۔ اگر ہندوستان نے چین کی بات سننے سے انکار کیا تو پھر اسے تاریخی سبق یاد دلائیں گے۔ مملکتی وزیر دفاع سبھاش بھیرے کے اس ریمار کے بارے میں پوچھے جانے پر کہ دونوں جانب کے تعطل کو سفارتی سطح پر حل کرلیا جائے گا اور چین کے سپاہیوں کو بھوٹان کے علاقہ سے نکل جانا چاہئے تاکہ اس علاقہ میں کشیدگی کو کم کیا جاسکے۔ اس پر گینگ نے جواب دیا کہ ہم نے اس بیان کو نوٹ کرلیا ہے۔ یہاں صورتحال کے ابتر ہونے سے گریز کرنے کے لیے ہم چاہتے ہیں کہ ہندوستان اپنی فوج کو ہٹالے اور سنگین صورتحال کے وقوع ہونے سے گریز کرے۔

TOPPOPULARRECENT