Tuesday , February 20 2018
Home / مضامین / صدر کانگریس بننے کے بعد راہول گاندھی کیا کرسکتے ہیں

صدر کانگریس بننے کے بعد راہول گاندھی کیا کرسکتے ہیں

اگر نئے صدر کانگریس کی حیثیت سے راہول گاندھی اور ان کی پا رٹی محض بی جے پی کی غلطیوں پر منحصر رہے گی اور اپنی کسی خوبی کا اظہار اپنے عمل سے اپنی پالیسیوں سے عوام کے سامنے نہیں لائے گی تو یہ سمجھ لیجئے کہ خواہ صدر کوئی بنے کانگریس بھاری اکثریت اور حکومت سازی کے لئے مطلوب اکثریت حاصل نہیں کرسکے گی لیکن کانگریس کے حلقے خاص طور پر اس میں شامل نوجوان ایسا تسلیم نہیں کرتے ، ان یوتھس کی تعداد پارٹی میں قابل لحاظ ہے، پارٹی کے علاوہ عوام میں بھی یہ احساس ہے کہ کانگریس کی صدارت کے عہدہ پر نئی نسل سے تعلق رکھنے والے راہول گاندھی فائز ہورہے ہیں۔

غضنفر علی خان
اس وقت جو نائب صدر کانگریس ہیں وہ آئندہ ہفتہ یقینی طور پر اس 130 سال قدیم کانگریس پارٹی کے صدر بن جائیں گے ۔ پارٹی کے حلقوں اور خود موجودہ صدر سونیا گاندھی کے اصرار کے باوجود راہول گاندھی کوئی عہدہ قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھے بلکہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ 1991 ء میں ان کے والد سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کے قتل کے بعد خود ان کی والدہ بھی سیاسی میدان میں قدم رکھنے سے گریز کرتی رہی تھیں کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ ملک دشمن طاقتیں ان کے شوہر کی طرح ان کے بچوں راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کو بھی ختم کرسکتی ہیں۔ بڑی مشکل سے راہول گاندھی کو امیٹھی کے پارلیمانی حلقہ سے پارلیمنٹ الیکشن میں پارٹی امیدوار بنایا گیا جہاں سے وہ کامیاب ہوئے۔ اترپردیش میں کبھی کانگریس کا ایسا دبدبہ تھا کہ کوئی سیاسی پارٹی پر نہیں مار سکتی تھی ۔ اس ملک کی سب سے بڑی ریاست میں نہرو ، گاندھی خاندان کا ہمیشہ راج رہا ۔ آج کے حالات بالکل مختلف ہیں۔ کانگریس اترپردیش ہی کی بات نہیں سارے شمالی ہند میں جسے ’’ہندی بلٹ‘‘ بھی کہا جاتا تھا ، کامیاب نہ ہوسکی۔ بڑی تیزی سے اقتدار دوسری علاقائی اور موجودہ بی جے پی کے ہاتھوں چلا گیا ۔ اترپردیش کے علاوہ بہار ، راجستھان ، ہریانہ یکے بعد دیگرے ساری ریاستوں میں اقتدار حاصل کرنے میں کانگریس ناکام رہی ۔ جس کی حد 2014 ء کے عام چناؤ کے نتائج پر ختم ہوئی جس میں شاندار ریکارڈ رکھنے والی جمہوری تاریخ کی عظیم الشان کانگریس پارٹی سارے ملک میں صرف 44 سیٹیں جیت سکی۔ یہ تمام اپوزیشن جماعتوں کے انحطاط کا دور ہے ۔ اس وقت بی جے پی اور اس کی ہم خیال پارٹیاں پورے عروج پر ہیں۔ 2014 ء کے بعد جبکہ اکیلی بی جے پی نے 282 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، اقتدار پر فائز ہوئی اور اس وقت بھی ہے لیکن 2014 ء سے 2017 ء کے ان تین ساڑھے تین برسوں میں بی جے پی کی نریندر مودی حکومت نے ایسی فاش غلطیاں کیں کہ آج ملک بھر میں مخالف حکومت لہر anti-incombency چل رہی ہے۔ کانگریس کیلئے یہ بات غور طلب ہے کہ اس کو ملک کے حالات نے ایک موقع دیا ہے اس میں کانگریس کا بہ حیثیت ایک پارٹی کہ کوئی کارنامہ نہیں ہے بلکہ آج اگر عوام بی جے پی کے کسی متبادل کو ڈھونڈ رہے ہیں تو کانگریس کی کسی خوبی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ بی جے پی کی خامیوں کی وجہ سے ہے۔ اگر نئے صدر کانگریس کی حیثیت سے راہول گاندھی اور ان کی پا رٹی محض بی جے پی کی غلطیوں پر منحصر رہے گی اور اپنی کسی خوبی کا اظہار اپنے عمل سے اپنی پالیسیوں سے عوام کے سامنے نہیں لائے گی تو یہ سمجھ لیجئے کہ خواہ صدر کوئی بنے کانگریس بھاری اکثریت اور حکومت سازی کے لئے مطلوب اکثریت حاصل نہیں کرسکے گی لیکن کانگریس کے حلقے خاص طور پر اس میں شامل نوجوان ایسا تسلیم نہیں کرتے ، ان یوتھس کی تعداد پارٹی میں قابل لحاظ ہے، پارٹی کے علاوہ عوام میں بھی یہ احساس ہے کہ کانگریس کی صدارت کے عہدہ پر نئی نسل سے تعلق رکھنے والے راہول گاندھی فائز ہورہے ہیں۔ ان میں ایک نیا جوش اور ولولہ ضرور پیدا ہوا ہے ، کانگریس پا رٹی کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس میں ’’لیڈروں‘‘ کی تعداد پارٹی کے مخلص کارکنوں سے بہت زیادہ ہے جبکہ کوئی پارٹی اپنے ورکرس کے کام سے انتخابی کامیابی حاصل کرتی ہے اگر صدر بننے کے بعد پار ٹی کے لئے کوئی متحرک Cadre تیار کرنے میں راہول گاندھی کامیاب ہوسکتے ہیں جس کی ان سے امید بھی کی جا رہی ہے تو پارٹی کی قیادت میں تبدیلی کا اثر ابھی ماۂ ڈسمبر 2017 ء میں ہونے والے گجرات اسمبلی چناؤں ہی میں ظاہر ہوجائے گا ۔ پارٹی کے تمام ہمدردوں کے لئے نہایت خوش آئند ہے کہ طویل عرصہ کے بعد کانگریس کی باگ ڈور پنڈت جواہر لال نہرو کے بعد چوتھی نسل کے ہاتھ جارہی ہے ۔ راہول گاندھی کی صدارت نئی نسل کے عروج کی غماز ہے ، یہ فضول اعتراض جو بی جے پی کے لیڈر کرتے رہتے ہیںکہ کانگریس پارٹی پرائیوٹ لمٹیڈ کمپنی ہے اس پر ایک ہی خاندان کی گرفت ہے ، کوئی معنی نہیں رکھتا نہرو۔گاندھی خاندان کی ملک اور پارٹی کیلئے بیش بہا خدات کو دیکھتے ہوئے یہ بات پورے اعتماد کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ کسی سیاسی خاندان کے افراد کو محض اس بنیاد پر مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔ ان کی قیادت کو اس لئے نہیں ٹھکرایا جاسکتا ہے کہ یہ خاندانی حکمران کی علامت ہے ۔ کانگریس پارٹی میں کس کو صدارت دی جائے، کون اس عہدہ پر فائز ہوں گے، پارٹی کا داخلی مسئلہ ہے، اس کا اختیاری معاملہ ہے۔ بی جے پی یا سنگھ پریوار کو یہ حق نہیںہے کہ وہ کانگریس پارٹی کے داخلی معاملات میں مداخلت کرے ۔ اگر پارٹی میں داخلی جمہوریت Inner democracy کی بات کی جائے تو اس قسم کی خرابی تو بی جے پی میں بہت زیادہ پائی جاتی ہے ۔ بی جے پی داخلی جمہوریت کا فقدان اب ’’شخصیت پرستی‘‘ Personality cult کی شکل اختیار کرگیا ہے ۔ ابھی گجرات اور اروناچل پردیش کے انتخابات کی مثال سامنے ہے ۔ دونوں ریاستوں میں وزیراعظم مودی کو انتخابی مہم کی باگ ڈور سنبھالنی پڑی ۔ ہر جگہ پارٹی کے لیڈر اور ورکرس مودی جی کا راگ الاپتے ہیں۔ گویا پارٹی میں کوئی دوسرا لیڈر ہی نہیں ہے ۔ یہ منفی رجحان آگے چل کر بلکہ بہت جلد بی جے پی کیلئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوگا۔ فی الوقت کانگریس یہ پوچھ سکتی ہے کہ ’’بی جے پی میں نریندر مودی کے بعد کون وزیراعظم بن سکتا ہے ؟ یہاں تو صرف مودی ہی پرستش ہوں گے ۔ یہاں کوئی دوسرا بول ہی نہیں سکتا۔ یہ فضول اعتراض کرنے سے بی جے پی کو گریز کرنا چاہئے ۔ جس طرح وزیراعظم نریندر مودی میں ووٹرس کو اپنی جانب کھینچنے کی صلاحیت ہے ، کانگریس کے راہول گاندھی اور ان کی نہرو ۔گاندھی سے نسبت کی وجہ سے وہ بھی پارٹی کیلئے ووٹ حاصل کرنے کی اپنے اندر صلاحیت رکھتے ہیں ۔ راہول گاندھی ایک ایسے وقت صدارت پر فائز ہورہے ہیں جبکہ پارٹی کو بے حد سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے۔ انہیں پارٹی کو 2018 ء ہی میں مدھیہ پردیش ، راجستھان ، چھتیس گڑھ اور کرناٹک میں اسمبلی میں چناؤ کا سامنا ہے اوران تمام ریاستوں میں کانگریس کا راست مقابلہ بی جے پی سے ہے ۔ کرناٹک کے علاوہ کسی اور ریاست میں کانگریس کا کوئی قد اور لیڈر نہیں ہے۔ البتہ ان تمام ہندی ریاستوں میں موجودہ مودی حکومت کے خلاف لہر پائی جاتی ہے اور یہ صورتحال کانگریس کے لئے مفید ثابت ہوسکتی ہے ۔ مشکل یہ ہے کہ راہول گاندھی کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ ان ریاستوں اور دوسری ریاستوں میں کام کرنے اور کانگریس کے تنظیمی ڈھانچے کو دوبارہ تشکیل دیں۔ 2018 ء بہت قریب ہے ۔ اس کے علاوہ کانگریس کو اپوزیشن جماعتوں سے انتخابی مفاہمت پر بھی توجہ دینی ہوگی تاکہ ملک کا سیکولر ووٹ تقسیم نہ ہو۔ 2014 ء کے انتخابات میں بڑی کامیابی کے باوجود بی جے پی کو صرف 31 فیصد ووٹ ہی ملے تھے ۔ 69 فیصد سیکولر ووٹ سے بی جے پی محروم رہی ۔ ان سیکولر ووٹس کو تقسیم ہونے سے راہول گاندھی کسی طرح محفوظ رکھ سکتے ہیں ۔ اس بات پر انحصار ہے کہ وہ کانگریس کے صدر کی حیثیت سے کسی حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT