Wednesday , September 19 2018
Home / ہندوستان / صدر کووند کے دورۂ اروناچل پردیش پر چین کا احتجاج

صدر کووند کے دورۂ اروناچل پردیش پر چین کا احتجاج

سرحدی تنازعہ کو پیچیدہ بنانے سے گریز کا مشورہ ، چینی وزارت خارجہ کا بیان
بیجنگ ۔20 نومبر ۔( سیاست ڈاٹ کام) صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کے دورۂ اروناچل پردیش کی چین نے سخت مذمت کی ہے اور کہا کہ ایک ایسے وقت جب دونوں ملکوں کے تعلقات ایک ’اہم مرحلہ ‘ میں پہونچ چکے ہیں، ہندوستان کو چاہئے کہ وہ سرحدی تنازعہ کو پیچیدہ بنانے سے گریز کرے ۔ صدر کووند نے گزشتہ روز اروناچل پردیش کا دورہ کیا تھا ۔ اروناچل پردیش کو چین دراصل جنوبی تبت تصور کرتا ہے ۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لوکانگ نے کووند کے دورۂ اروناچل پردیش سے متعلق ایک سوال پر جواب دیاکہ ’’چینی حکومت نے کبھی بھی نام نہاد اروناچل پردیش کو تسلیم نہیں کیا اور سرحدی مسئلہ پر ہمارا موقف واضح اوراٹل ہے ‘‘ ۔ اس علاقہ میں کسی بھی اہم ہندوستانی شخصیت کے دورہ پر چین پابندی کے ساتھ اعتراض کیا کرتا ہے ۔ ہندوستان نے چین کے اعتراض کو مسترد کردیا اور ادعاء کیا کہ اروناچل پردیش اس ملک کا اٹوٹ حصہ ہے۔ ہندوستانی قائدین کو اپنے ملک کے کسی بھی دوسرے علاقہ کی طرح اروناچل پردیش کے دورہ کا مکمل حق اور آزادی حاصل ہے ۔ لوکانگ نے مزید کہا کہ ’’دونوں ممالک اس مسئلہ کو مشاورت و مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے کے عمل میں مصروف ہیں اور تمام فریقوں کے لئے قابل قبول حل تلاش کرنا چاہتے ہیں‘‘۔ انھوں نے کہاکہ مسئلہ کے قطعی حل تک دونوں فریقوں کو امن و دوستی کے لئے کام کرنا چاہئے ۔ لوکانگ نے مزید کہا کہ ’’ایک ایسے مرحلہ پر جب چین اور ہند کے تعلقات ایک کلیدی مرحلہ میں داخل ہوچکے ہیں ، ہندوستان کے کسی مخصوص علاقہ میں ہندوستانی قائدین کی بعض مخصوص سرگرمیوں کی چین دوٹوک انداز میں مخالفت کرتا ہے ‘‘ ۔ ہندوستان اور چین کے درمیان 3,488کیلومیٹر طویل لائن آف کنٹرول ہے ۔ 6 نومبر کو وزیردفاع نرملا سیتارامن کے اروناچل پردیش کے سرحدی علاقوں میں کئے گئے دورہ پر بھی چین نے اعتراض کیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT