Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / صفوی ایران اور دکن کی سلطنتیں ‘ مورخ ایم اے نعیم کی کتاب

صفوی ایران اور دکن کی سلطنتیں ‘ مورخ ایم اے نعیم کی کتاب

 

حیدرآباد 24 اکٹوبر ( پریس نوٹ ) چارمینار کی تعمیر کو 400 سال سے زائد کا عرصہ گذر چکا ہے تاہم وہ آج بھی منفرد ہے ۔ سیاح یہاںسینکڑوں کی تعداد میں روزآنہ آتے ہیں اور اس فن تعمیر کے شاہکار کا نظارہ کرتے ہیں۔ اس کی بلند کمانیں اور فنکاری مثالی ہے ۔ تاہم بہت کم لوگ جانتے ہیں یا جاننا چاہتے ہیں کہ اس میں ایرانی فن تعمیر کا کتنا اثر رہا ہے ۔ قطب شاہی حکمرانوں نے جو تعمیرات چھوڑی ہیں ان میں ایرانی عنصر بہت زیادہ رہا ہے ۔ چاہے یہ گولکنڈہ قلعہ ہو یا پھر گنبدان قطب شاہی ہوں یا پھر دوسری کئی عمارتیں ہوں۔ حیدرآباد کی تعمیر اس وقت کے ایرانی دارالحکومت اصفہان کے طرز پر ہوئی تھی۔ گولکنڈہ قلعہ کا نقشہ ہو یا پھر محلات کی تعمیر ہو یا پھر باغات کا قیام ہو ‘ آبی ذخائر ہوں یا پھر ڈرینیج نظام یہ سب کچھ ایرانی طرز پر ہے ۔ یہ سب کچھ میر محمو مون استر آبادی نے اصفہان نو کی تعمیر کے منصوبے کے تحت کیا ہے جس کی ذمہ داری انہیں سلطان محمد قلی قطب شاہ نے سونپی تھی ۔ یہ سب کچھ تفصیل کے ساتھ معروف مورخ ایم اے نعیم کی کتاب میں ملتا ہے ۔ یہ کتاب ’’ صفوی ایران ۔ دکن کی سلطنتیں ‘ سفارتی و ثقافتی تعلقات ‘‘ کے نام سے شائع کی گئی ہے اور اس میں دکن کے عوام کی زندگیوں اور ان کی ثقافت پر ایرانی آرٹ و فن تعمیر کے اثرات کو اجاگر کیا گیا ہے ۔ در اصل یہ پہلی کتاب ہے جس میں صفوی ایران کے دکن کی بہمنی ‘ عادل شاہی ‘ قطب شاہی اور نظام شاہی حکومتوں سے تعلقات پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ مورخ ایم اے نعیم کے بموجب دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلی تین دکنی سلطنتوں کے بانی ایرانی نژاد تھے ۔ صفوی ایران اور دکن کی سلطنتوں کے درمیان یہ ایک اہم روابطہ تھا ۔ اسٹیٹ آرکائیوز میں ریسرچ آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ایم اے نعیم کے پاس دکن کی بادشاہی حکومتوں کے تعلق سے کافی مواد دستیاب ہے ۔ وہ مسلسل لکھنے میں یقین رکھتے ہیں اور اب تک 20 کتابیں تصنیف کرچکے ہیں۔ ان میں چھ کتابیں دکن کے ورثہ سے متعلق ہیں۔ انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ اپنے کام کو مکمل توثیق کے ساتھ پیش کرتے ہیں اور اس کیلئے کافی ریسرچ کرتے ہیں۔ اس کتاب میں سیاسی ‘ سفارتی ‘ تجارتی ‘ سماجی و ثقافتی اور مذہبی تعلقات کو اجاگر کیا گیا ہے جو ایم اے نعیم کے بموجب دکنی مسلم کلچر کو فارسی و دکنی تہذیب کے طور پر ابھارنے میں معاون ہوئی ۔ اس کتاب کی قیمت 1000 روپئے مقرر کی گئی ہے جسے حیدرآباد پبلشرس نے شائع کیا ہے اور حیدرآباد پبلشرس 10-2-5/8/1 اے سی گارڈز حیدرآباد سے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT